مندرجات کا رخ کریں

ابو بکر محمد بن داود ظاہری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو بکر محمد بن داود ظاہری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 868ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عراق   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 909ء (40–41 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد داود ظاہری   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فقیہ ،  شاعر   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی [1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو بکر محمد بن داود ظاہری قرون وسطی میں عربی زبان اور شریعت کے نامور عالم اور علم الٰہیات کے علم بردار تھے۔ وہ فقہ ظاہریت کے بانی داود ظاہری کے صاحب زادے تھے۔ ان کا شمار اُن علما میں کیا جاتا ہے جنھوں نے نہ صرف اپنے والد کے فقہی طرزِ فکر کو آگے بڑھایا بلکہ اسے علمی و فکری میدان میں ایک مستحکم بنیاد بھی فراہم کی۔

ولادت و تعلیم

[ترمیم]

ظاہری عراق میں پیدا ہوئے اور جس طرح کے ان کے دور میں عمومی رواج تھا، انھوں نے کم عمری ہی میں علمی حلقوں میں آنا جانا شروع کر دیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور بعد ازاں عراق و مصر کے ممتاز اساتذہ سے فقہ، حدیث، نحو اور ادب جیسے علوم میں زانوئے تلمذ طے کیا اور مہارت حاصل کی۔ علمی سفر کے دوران اُن پر اہلِ ظاہر کے اصولوں کا نہایت گہرا اثر ایک ان چھاپ پڑ گئی۔ اس کے باعث وہ نصوصِ شرعیہ کی ظاہری دلالت کو فیصلہ کن اہمیت دیتے تھے۔ اس زمانے میں علمی مناظروں کی فضا نہایت گرم تھی، جس نے ان کی ذہنی پختگی اور فقہی بصیرت کو مزید جِلا بخشی۔ وہ اپنے ہم عصروں کے ساتھ متعدد علمی مجالس میں شریک ہوتے، جہاں متن کی صحت، دلالت اور فہم پر مباحث عام رہتے۔انھی نشستوں نے ان کے استدلالی انداز اور نصوص سے براہِ راست استنباط کی مہارت کو نکھارا۔ بعدِ ازاں وہ مصر منتقل ہوئے، جہاں علمی دنیا میں انھیں بھرپور پزیرائی نصیب ہوئی اور انھوں نے درس و تدریس اور تحقیق کا سلسلہ بہ دستور جاری رکھا۔

علمی خدمات

[ترمیم]

حدیث کے میدان میں ان کی اہم ترین خدمات میں سے ایک ان کی کتاب المجروحین ہے، جو اگرچہ اب بعض دیگر متون کے ساتھ خلط ملط بھی بیان کی جاتی ہے، مگر تاریخی روایت کے مطابق یہ وہ مجموعہ تھا جس میں انھوں نے ایسے رواۃ و مرویات کو جمع کیا جن کے بارے میں اُن کا ذاتی علمی معیار مطمئن و اطمینان بخش تھا۔ اس کتاب نے بعد کے محدثین کے لیے ایک مفید بنیاد فراہم کی اور کئی صدیوں تک حدیث کے طلبہ کے لیے ذریعۂ استفادہ بنی رہی۔ اس کے علاوہ انھوں نے عللِ حدیث، رواۃ کی درجہ بندی اور نصوص کے فہم سے متعلق متعدد مباحث پر بھی قلم اٹھایا۔

ان کی تحریروں میں جرح و تعدیل کے پیمانوں کی وضاحت اور ہر راوی کے بارے میں تفصیلی توضیحات موجود تھیں، جو ان کے دقیق علمی منہاج کی مظہر ہیں۔ انھوں نے روایت اور درایت کے باہمی تعلق پر بھی گفتگو کی اور یہ واضح کیا کہ متن و سند دونوں کا تنقیدی جائزہ حدیث فہمی کا بنیادی ستون ہے۔ انہی اصولی مباحث کی بدولت انھیں بعد کے ناقدینِ حدیث

ظاہری فقہ کے باب میں اُن کی آرا غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ نص کے واضح الفاظ کو اصل قرار دیتے تھے اور قیاس، استحسان یا تاویلاتِ بعیدہ سے حتی الامکان اجتناب کرتے تھے۔ ان کے نزدیک شریعت کی اصل روح نصوص کی ظاہری تعبیر و تشریح میں پنہاں ہے۔ اس نقطۂ نظر کے باعث وہ اپنے زمانے کے فقیہوں کے مابین ایک نمایاں مگر بعض اوقات متنازع حیثیت بھی رکھتے تھے۔ اس کے باوجود ان کے علمی استدلال کی قوت اور زبان و بیان کی شستگی نے انھیں اپنے ہم عصروں میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔[2]

ایک استاد کی حیثیت سے ابو بکر محمد بن داود نہایت شفیق، منکسر المزاج اور صاحبِ حسنِ اخلاق تھے۔ ان کے حلقۂ درس میں سینکڑوں طلبہ شریک ہوتے جن میں سے کئی بعد میں ممتاز علما کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی سخاوت، طلبہ نوازی اور علم کی اشاعت کے جذبے کو بعد کی علمی روایت میں خاص احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی علمی میراث، خصوصاً فقہِ ظاہری کی ترویج اور حدیث کے تنقیدی کام میں ان کی محنت، آج بھی اسلامی علمی تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر محفوظ ہے۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. عنوان : Identifiants et Référentiels — ایس یو ڈی او سی اتھارٹیز: https://www.idref.fr/088003124 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 مئی 2020 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Ibn al-Nadim (1964)۔ Al-Fihrist۔ Cairo: Dar al-Ma'arif
  3. Ibn Khallikan (1977)۔ Wafayat al-A‘yan۔ Beirut: Dar Sader