ابو بکر محمد طرطوسی
| ابو بکر محمد طرطوسی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1059ء [1][2][3] ٹورٹوسا |
| وفات | سنہ 1126ء (66–67 سال)[1][4] اسکندریہ |
| شہریت | اندلس |
| نسل | عربي |
| عملی زندگی | |
| تلمیذ خاص | ابو بکر ابن العربی |
| پیشہ | ماہر سیاسیات |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی [5] |
| درستی - ترمیم | |
ابو بکر محمد بن ولید بن خلف طرطوشی، جو ابو بکر طرطوشی یا ابن ابی رندقہ کے نام سے معروف ہیں [6][7](451ھ–520ھ)، مالکی فقیہ تھے۔ وہ کتاب «سراج الملوک فی سلوک الملوک» کے مصنف ہیں۔[8][9]
علمی و عملی زندگی
[ترمیم]ابو بکر طرطوشی اندلس کے شہر ٹورٹوسا میں پیدا ہوئے۔ وہیں قرآن مجید حفظ کیا اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں سرقسطہ منتقل ہوئے جہاں انھوں نے ابو ولید الباجی سے علم حاصل کیا۔ 476 ہجری میں انھوں نے مشرقِ اسلامی کا سفر اختیار کیا۔ پہلے مکہ معظمہ جا کر حج ادا کیا، پھر بغداد اور بصرہ گئے اور کچھ عرصہ وہاں قیام کر کے عراق کے علما سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔
اس کے بعد شام کا رخ کیا، جہاں حلب ، انطاکیہ اور بیت المقدس کی زیارت کی۔ پھر وہ اسکندریہ پہنچے اور وہاں فقہ و حدیث کی تدریس میں مشغول ہو گئے۔ انھوں نے اسکندریہ کی ایک خاتون سے شادی کی، جس نے اپنا گھر انھیں ہدیہ کر دیا۔ طرطوشی نے گھر کی بالائی منزل اپنی رہائش کے لیے مخصوص کی، جبکہ نچلی منزل کو تعلیم و تدریس کے لیے وقف کر دیا۔ بعد ازاں وہ قاہرہ گئے تاکہ فاطمی حکومت کے وزیر افضل بن بدر جمالی کو نصیحت کر سکیں، کیونکہ الجمالی اپنی رعایا پر ظلم و استبداد کے لیے معروف تھا۔
طرطوشی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا: “جان لو کہ یہ حکومت جو آج تمھارے ہاتھ میں ہے، تم سے پہلے والوں کی موت کے بعد تم تک پہنچی ہے اور اسی طرح ایک دن تمھارے ہاتھ سے نکل جائے گی جیسے تم تک پہنچی۔ پس اپنے اردگرد کی اس امت کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ اللہ تم سے چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بارے میں بھی سوال کرے گا۔” پھر انھوں نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی: "پس تمھارے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے کہ وہ کیا اعمال کرتے رہے تھے۔"
اساتذہ اور تلامذہ
[ترمیم]ابو بکر طرطوشی نے متعدد مشائخ سے فقہ اور دیگر علوم حاصل کیے۔ اندلس میں ان کے نمایاں اساتذہ میں امام ابو ولید الباجی اور ابو محمد ابن حزم شامل تھے۔ اپنے سفرِ مشرق کے بعد انھوں نے مشرقِ اسلامی کے کئی علما سے بھی استفادہ کیا، جن میں ابو بکر شاشی، ابو عباس احمد جرجانی، ابو علی تستری، ابو عبد اللہ دامغانی ، ابو محمد رزق اللہ تمیمی حنبلی اور ابو عبد اللہ حمیدی وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے تلامذہ کے بارے میں امام ذہبی نے ذکر کیا ہے کہ ان سے روایت اور علم حاصل کرنے والوں میں ابو طاہر سلفی، فقیہ سلا بن مقدم، جوہر بن لؤلؤ مقرئ، فقیہ صالح بن بنت معافی مالکی، عبد اللہ بن عطاف ازدی، یوسف بن محمد قروی فرضی، علی بن مہدی بن قلینا، ابو طالب احمد مسلم لخمی، ظافر بن عطیہ، ابو طاہر اسماعیل بن عوف، ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن عثمانی، عبد المجید بن دلیل اور دیگر علما شامل تھے۔
ان کے تلامذہ میں قاضی ابو بکر ابن العربی، ابو بکر غسانی محمد بن ابراہیم بن احمد بن اسود، ابو بکر محمد بن حسین میورقی، ابو علی حسن بن علی بن حسن بن عمر انصاری، ابراہیم بن احمد بن عبد اللہ سلمی حاکم، ابراہیم بن صالح بن ابراہیم مرادی، ابراہیم بن الحاج احمد بن عبد الرحمن انصاری، ولید بن موفق ابو حسن سبتی، حسین بن محمد بن فیرہ بن حیون بن سکرة صدفی، ابو فضل عیاض بن موسیٰ یحصبی، ابن تومرت (بانیِ سلطنتِ موحدیہ)، سند بن عنان ازدی جو طرطوشی کے بڑے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں احمد بن احمد بن اسحاق دندانفانی السمعانی، احمد بن محمد بن احمد اصفہانی، ابو طاہر سلفی، اسماعیل بن مکی بن اسماعیل بن عیسیٰ الزہری اور ظافر بن عطیہ لخمی شامل تھے۔[10]
طرطوشی بعد میں قاہرہ گئے تاکہ فاطمی حکومت کے وزیر افضل بن بدر جمالی کو نصیحت کر سکیں، کیونکہ وہ اپنی رعایا پر ظلم و استبداد کرتا تھا۔ انھوں نے وزیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: “جان لو کہ یہ حکومت جو آج تمھارے ہاتھ میں ہے، تم سے پہلے والوں کی موت کے بعد تمھیں ملی ہے اور جیسے یہ تم تک پہنچی ہے ویسے ہی ایک دن تمھارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ لہٰذا اس امت کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ اللہ تم سے معمولی سے معمولی چیز کے بارے میں بھی سوال کرے گا۔” پھر انھوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: "پس تمھارے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے کہ وہ کیا اعمال کرتے رہے تھے۔"
عقیدہ اور علما کی آراء
[ترمیم]طرطوشی اندلس کے اُن علما میں شمار ہوتے تھے جو علم اور دینی بدعات کی تردید کے حوالے سے مشہور تھے۔ اسی وجہ سے وہ اہلِ سنت کے نمایاں علما میں شمار کیے جانے لگے، جن کی طرف علمی رہنمائی کے لیے رجوع کیا جاتا تھا اور انھیں علما کے ہاں قبولیت اور تحسین حاصل ہوئی۔
- قاضی عیاض نے ان کے بارے میں کہا: “وہ کچھ مدت شام میں مقیم رہے۔ فقہ، اختلافی مسائل، اصولِ فقہ اور علمِ توحید میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انھیں امامت و پیشوائی حاصل ہوئی۔ وہ زہد، گوشہ نشینی اور قناعت کے پابند تھے، باوجود اس کے کہ ان کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی اور ان کی علمی قیادت عظیم تھی۔”
- ابو بکر ابن العربی نے دمشق اور بیت المقدس میں ان سے ملاقات کے بعد کہا: “میں نے ان کے طریق و کردار کا مشاہدہ کیا اور ان کی گفتگو سنی، تو میری آنکھیں اور کان ان سے بھر گئے۔”
- ابو بکر ابن العربی نے انھیں مزید ان الفاظ میں بیان کیا: “وہ علم، فضل، زہدِ دنیا اور ایسی چیزوں کی طرف توجہ رکھنے والے تھے جو انھیں بے نیاز کر دیں۔”
- ابن بشکوال نے اپنی کتاب «الصلہ» میں ان کے بارے میں لکھا: “وہ امام، عالم، صاحبِ عمل، زاہد، پرہیزگار، دیندار، متواضع، سادہ زندگی گزارنے والے، دنیا سے کم تعلق رکھنے والے اور اس کے تھوڑے حصے پر راضی رہنے والے تھے۔”
- امام شمس الدین ذہبی نے طرطوشی کے ایک استاد کا قول نقل کیا ہے:“ہمارے شیخ ابو بکر کا زہد اور عبادت ان کے علم سے بھی زیادہ تھی۔”
تصانیف
[ترمیم]- سراج الملوك
- مختصر تفسیر الثعالبی
- شيخ ابن ابی زيد القيروانی کے رسالہ کی شرح
- الكتاب الكبير فی مسائل الخلاف
- كتاب الفتن
- كتاب الحوادث والبدع
- كتاب الذكر — اس کا ذکر ابن الحاج نے المدخل (ج 1، ص 97) میں کیا ہے۔
- تحريم الاستمناء — اس کی تحقیق عمرو شوقی عبد العظیم اور عمرو عبد العظیم الجوینی نے کی اور یہ 2021ء میں دار المعالي للنشر والتوزيع سے شائع ہوئی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119220989 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ عنوان : Diccionario biográfico español — Spanish Biographical Dictionary ID: https://dbe.rah.es/biografias/95016/tortosino-el — بنام: el Tortosino — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ عنوان : Diccionario biográfico español — Spanish Biographical Dictionary ID: https://dbe.rah.es/biografias/21389/al-turtusi-el-tortosino — بنام: al-Turtusi (el Tortosino) — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ مصنف: CC0 — مدیر: CC0 — ناشر: CC0 — خالق: CC0 — اشاعت: CC0 — باب: CC0 — جلد: CC0 — صفحہ: 250 — شمارہ: CC0 — CC0 — CC0 — CC0 — ISBN CC0 — CC0 — اقتباس: CC0 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ عنوان : Identifiants et Référentiels — ایس یو ڈی او سی اتھارٹیز: https://www.idref.fr/077111834 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 مئی 2020 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ ابن أبي رندقة، أبو بكر محمد المعروف بالطرطوشي الموسوعة العربية الميسرة، 1965
- ↑ سید مرتضی زبیدی (2001)، "[ط ر ط ش]"، تاج العروس من جواهر القاموس، al-Turāth al-ʻArabī (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، کویت شہر: National Council for Culture, Arts and Literature، ج 17، ص 243، QID: Q131914291
{{حوالہ}}:|volume=و|المجلد=پیرامیٹر ایک سے زائد دفعہ استعمال کیا (معاونت) - ↑ Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ج الثاني، ص 646، OCLC:235971276، QID: Q122197128
- ↑ دائرة المعارف بزرگ اسلامی (عربی)، مجلد 2 آرکائیو شدہ 2019-12-16 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ Abu Bakr al-Turtushi’s “Siraj al-Muluk”: A Masterpiece of Andalusi Political Philosophy آرکائیو شدہ دسمبر 3, 2013 بذریعہ وے بیک مشین
