ابو جابر عبد اللہ دامانوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو جابر عبد اللہ دامانوی
معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1947 (74 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کامل پور عالم،  تحصیل حضرو  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک سلفی
تعداد اولاد 7   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
جامعہ کراچی
وفاق المدارس پاکستان
وفاق المدارس السلفیہ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ زبیر علی زئی،  بدیع الدین شاہ راشدی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف،  عالم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو جابر عبد اللہ دامانوی پاکستانی مسلم کثیر التصانیف اور عالم دین ہیں۔ ان کا اہل حدیث کے کبار علما میں شمار ہوتا ہے۔[1]

نام و نسب[ترمیم]

نام عبد اللہ اور کنیت ابو جابِر ہے اور دامان گاؤں کی طرف نسبت ہے۔ ان کا پیدائشی نام خاکی خان تھا، بعد ازاں تبدیل کر کے عبد اللہ کیا۔ ان کا نسب پر دادا تک یہ ہے:

عبد اللہ بن زردار بن بوستان بن حبیب۔

پیدائش و خاندانی پس منظر[ترمیم]

15 فروری 1947ء (ربیع الاول 1436ھ) کو ضلع اٹک، تحصیل حضرو، چھچھ علاقے کے گاؤں دامان (کامل پور عالم) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتون خاندان سے ہے، ان کے جد افغانستان سے آ کر علاقہ چھچھ میں آباد ہوئے تھے۔

سنہ 1950ء کو ان کے والد زردار خان ملازمت کی جستجو میں کراچی آ گئے اور کراچی پوسٹ ٹرسٹ میں بطور مزدور ملازمت اختیار کی اور پھر انہوں نے ایک مکان خرید کر گھر والوں کو بھی کراچی بلا لیا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

سنہ 1967ء میں میٹرک اور سنہ 1970ء میں ٹیچر ٹرینگ کا دو سالہ کورس کیا۔ کراچی پوسٹ ٹرسٹ میں سنہ 1968ء میں یومیہ اجرت کی ملازمت اختیار کی۔ سنہ 1971ء میں ملازمت ترک کر کے گورنمنٹ پرائمری اسکول میں استاد لگ گئے۔ استاد کی حیثیت سے دس سال خدمات سر انجام دینے کے بعد سنہ 1981ء میں دوبارہ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں امامت کے منصب پر فائز ہو گئے۔ ان کو پڑھانے کا بہت شوق تھا لہذا انہوں نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے کسی اسکول میں متعین کرنے کی گزارش کی۔ ان کی درخواست قبول کی گئی اور کے پی ٹی کے اسکول کیماڑی میں استاد تعینات ہو گئے۔ دوران ملازمت انہوں نے اپنی ذاتی تعلیم پر بھی توجہ دی۔ سنہ 1982ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا اور اس کے ساتھ ہی ناظم آباد کے ایک کالج میں ہومیوپیتھی میں بھی داخلہ لیا۔ سنہ 1986ء میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا اور ہومیوپیتھی کا امتحان پاس کر کے ہومیو ڈاکٹر بن گئے۔ اس سے قبل وہ اردو فاضل اور عربی فاضل کے امتحان پاس کرچکے تھے۔ سنہ 2000ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔ پھر پی ایچ ڈی میں داخلے کے غرض سے کراچی یونی ورسٹی کئی دفعہ گئے مگر عملے نے بے رخی اور ٹال مٹول کا طرز عمل اپنایا ہوا تھا۔ لہذا انہوں نے یہ ادارہ ترک کر دیا۔ وہ مسئلہ عذاب قبر اور جماعت المسلمین رجسٹرڈ کے موضوع میں مہارت رکھتے ہیں۔

دینی تعلیم[ترمیم]

سنہ 1962ء میں تبلیغی جماعت میں رائے ونڈ میں تین چلے لگا کر واپس آئے تو ان کے اندر عربی اور دینی تعلیم کا شوق جاگا۔ اس سلسلے میں پہلے حنفی فقہ کی ”نور الایضاح“ اور ”خلاصہ کیلانی“ کیماڑی کے علما سے سبقا سبقا پڑھی، اسی دوران انہیں مسعود حسن عثمانی کا تعارف ہوا، ان کے درسِ توحید سے کافی متاثر ہوئے اور باقاعدہ ان کے پروگراموں میں شرکت کرتے رہے اور ان سے عربی زبان سیکھنے لگے۔ دینی پروگراموں کے لیے مسعود حسن عثمانی نے "ادارہ توحید و سنت" قائم کر رکھا تھا، پھر ادارے کو مزید منظم کرنے کے لیے "حزب اللہ" رکھ دیا۔ دامانوی بھی اس جماعت کا حصہ بن گئے۔ انہوں نے سنہ 1970ء میں کیماڑی کے علاقے میں مسجد توحید کی بنیاد رکھ دی اور اس مسجد میں ایک مدرسہ بھی قائم کر دیا اور عبد اللہ دامانوی اور ان کے ساتھی اس مدرسہ کے طالب علم بن گئے۔ انہوں نے المختصر قرآن کریم، مشکوۃ المصابیح، ہدایہ اور عربی صرف و نحو کی تعلیم اس مدرسہ سے حاصل کی۔ سنہ 1974ء میں جماعت میں اختلاف پیدا ہو گیا اور مسعود حسن عثمانی کو مسجد توحید سے بے دخل کر دیا گیا اور انہوں نے ریلوے لائن کی مسجد کو اپنی دعوت کا مرکز بنا لیا۔ عثمانی نے سنہ 1981ء میں عذاب قبر نامی کتابچہ شائع کر کے عذاب قبر کا انکار کر دیا اور محدثین پر کفر و شرک کے فتوے لگائے، اس سلسلے میں عثمانی نے توحید خالص قسط نمبر ٢ نامی کتاب میں بھی اس کی۔ اسی وجہ سے دامانوی ان سے الگ ہو گئے۔ اور عثمانی سنہ 1987ء کو فوت ہو گئے۔

سنہ 1975ء میں ایک دیوبندی دینی درس گاہ سے دورہ حدیث کیا۔ اس طرح ان کو وفاق المدارس العربیہ ملتان کی سند مل گئی جس میں محمد یوسف بنوری، مفتی محمود اور ہمارے محمد سلیم اللہ خان کے دستخط تھے۔

تصنیفات[ترمیم]

  • دین طریقت کی حقیقت
  • کتاب الصلاۃ
  • الدین الخالص
  • الفرقۃ الجدیدۃ
  • قرآن و حدیث میں تحریف
  • دعوت قرآن اور یہ فرقہ پرستی
  • عقیدہ نورمن نور اللہ قرآن وحدیث کی روشنی میں
  • حکم طلاق الثلاث
  • جماعت المسلمین رجسٹرڈ کی حقیقت
  • بے اختیار خلیفہ کی حقیقت حصہ اول
  • بے اختیار خلیفہ کی حقیقت کا جواب الجواب
  • نماز جنازہ کا مسنون طریقہ
  • عذاب قبر کی حقیقت
  • دینی امور پر اجرت کا جواز
  • حرمت رضاعت پانچ بار دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے
  • یزید بن معاویہ اور جیش مغفورلہم (یزیدیوں کا رد)
  • یزید بن معاویہ کی شخصیت (کفایت اللہ سنابلی کے شبہات کا ازالہ)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مجلہ دعوت اہل حدیث، شمارہ اپریل 2018