مندرجات کا رخ کریں

ابو جعفر مدنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو جعفر مدنی
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 665ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 747ء (81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص ابن جماز   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر اسلامیات ،  قاری   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دس قراء اور ان کے راوی
قاری اس کے راوی
مدنی قراء
نافع
ابو جعفر
مکی قاری
ابن کثیر
بصری قراء
ابو عمرو
یعقوب
شامی قاری
ابن عامر
کوفی قراء
عاصم
حمزہ   
کسائی   
خلف  
  سبعہ قراء   دو بھائی   اصحاب

ابو جعفر یزید بن القعقاع (متوفی 130ھ) مدنی۔ یہ قراء عشرہ میں شامل ہیں آپ نے سیدنا ابن عباس، ابو ہریرہ اور ابی بن کعب سے استفادہ کیا تھا۔ ان کے راوی ابن وردان اور سلیمان بن حجار ہیں۔[1] بعض نے لکھا ہے کہ ان کانام جندب بن فیروز ہے انھوں نے اپنے مولیٰ عبد اللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی پر قرآن پیش کیا نیز عبد اللہ بن عباس اور ابو ہریرہ سے قراء ۃ کی جو اُبی بن کعب کے شاگرد تھے اور ان دونوں سے روایت بھی کی ہے، بعض نے لکھا ہے کہ زید بن ثابت پر بھی قرآن پڑھا لیکن علامہ ذہبی نے لکھا ہے۔ لم یصح ذلک ولم یدرکہ۔ ابن الجزري نے وروینا عنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ بچپن میں اُم سلمہ کے پاس آیا فمسحت رأسہ ودعت لہ بالبرکۃ ابن عمر کے ساتھ نماز پڑھی اور واقعہ حرہ سے قبل لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتے رہے۔ نافع بن أبی نعیم، سلیمان بن مسلم بن جماز، عیسیٰ بن وردان، أبوعمرو عبد الرحمن ابن زید بن أسلم وغیرہ نے اس پر قراء ۃ کی ۔[2]

علم و مقام

[ترمیم]

یحییٰ بن عباد کے مطابق، یہ بزرگ (یعنی ابو جعفر قارئ) خلافتِ معاویہ کے دور میں قراءتِ قرآن کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنے مولیٰ عبد اللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی سے قرآن کی تلاوت سیکھی اور کئی اہلِ علم کا کہنا ہے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عباس سے بھی قراءت کی، جو خود حضرت ابی بن کعب سے اخذ کرتے تھے۔ ابن عمر کے پیچھے نماز پڑھائی اور مدینہ میں قراءت کی قیادت انہی پر ختم ہوئی۔ انھوں نے طویل عرصے تک لوگوں کو قرآن پڑھایا، بلکہ انھوں نے واقعۂ حرّہ سے قبل ہی تدریسِ قرآن شروع کر دی تھی۔ یعقوب بن جعفر بن ابی کثیر انصاری کہتے ہیں کہ یہ مدینہ میں لوگوں کے امام اور مفتی تھے۔[3]

امام ذہبی کہتے ہیں: ابو جعفر کی قراءت احمد بن یزید حلوانی کے ذریعے، قالون سے، عیسیٰ بن وردان سے، ابو جعفر تک پہنچی۔
ابن جزری کہتے ہیں: یہ تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ اس قراءت پر اعتراض کرتے ہیں یا اسے شاذ قرار دیتے ہیں، حالانکہ اس اور دیگر سبعہ قراءات کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں پایا جاتا۔[4]

اساتذہ و رواۃ

[ترمیم]

اساتذہ: ابو جعفر مدنی نے قراءتِ قرآن درج ذیل اکابر سے حاصل کی: عبد اللہ بن عباس ، حضرت ابو ہریرہ ان کے مولیٰ عبد اللہ بن عیّاش بن ابی ربیعہ مخزومی، جنھوں نے حضرت ابی بن کعب سے قراءت سیکھی اور حضرت ابی نے براہ راست نبی اکرم ﷺ سے قرآن کی تلاوت اخذ کی۔

رواۃ (جنھوں نے ابو جعفر سے قراءت روایت کی): نافع بن عبد الرحمن بن ابی نعیم (جو خود مدینہ کے مشہور قاری ہیں) سلیمان بن مسلم بن جماز الزہری ، ابو الحارث عیسیٰ بن وردان ، عبد الرحمن بن زید بن اسلم، جو حضرت عمر بن خطاب کے آزاد کردہ غلام تھے ان کے بیٹے یعقوب بن یزید ، ان کی بیٹی میمونہ، جنھوں نے بھی ان سے قراءت نقل کی

محدثین جنھوں نے ان سے حدیث روایت کی: امام مالک بن انس ، اسماعیل بن جعفر ، عبد العزیز الدراوردی ، عبد العزیز بن ابی حازم

ابو جعفر مدنی کی قراءت کی سند

[ترمیم]

ابو جعفر مدنی نے درج ذیل مشاہیر صحابہ سے قرآن کریم کی قراءت سیکھی: اپنے مولیٰ عبد اللہ بن عیّاش بن ابی ربیعہ مخزومی عبد اللہ بن عباس (حبر الامۃ) حضرت ابو ہریرہ ان تینوں اساتذہ نے قراءت حاصل کی تھی: ابی بن کعب سے، جو معروف قاری اور صحابی تھے۔[5]

اس کے علاوہ: حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس نے حضرت زید بن ثابت سے بھی قراءت کی۔ بعض روایات کے مطابق ابو جعفر مدنی نے براہِ راست زید بن ثابت سے بھی قراءت حاصل کی۔ یوں یہ سند براہِ راست نبی کریم ﷺ تک پہنچتی ہے، جن سے زید بن ثابت اور ابی بن کعب نے قراءت اخذ کی۔

ابو جعفر سے براہِ راست قراءت روایت کرنے والے دو بڑے راوی
1. عیسیٰ بن وردان مکمل نام: ابو الحارث عیسیٰ بن وردان المدنی الحذّاء یہ ایک ماہر، ضابط اور محقق قاری تھے۔ انھوں نے ابو جعفر اور شیبہ سے قراءت پڑھی، پھر نافع سے بھی استفادہ کیا۔ ان سے قراءت دو طریقوں سے مروی ہے: طریق الفضل بن شاذان بن عیسیٰ رازی طریق ابو القاسم ہبۃ اللہ بن جعفر عن ابیہ جعفر

2. ابن جماز مکمل نام: ابو الربیع سلیمان بن مسلم جماز الزہری مدینہ کے معتمد قاری، ماہر اور باوقار شخصیت تھے۔ انھوں نے بھی ابو جعفر اور شیبہ سے براہ راست قراءت کی اور بعد ازاں نافع سے بھی پڑھی۔ ان سے بھی قراءت دو طرق سے مروی ہے: طریق ابو ایوب ہاشمی طریق الدوری عن إسماعيل بن جعفر عن ابن جماز [6]

وفات

[ترمیم]

ابو جعفر مدنی کا انتقال 130 ہجری میں خلیفہ مروان بن محمد کے دورِ خلافت میں ہوا۔ امام نافع بن ابی نعیم روایت کرتے ہیں کہ: جب ابو جعفر کو غسل دیا گیا، تو ان کے سینے سے دل تک (نحر سے فؤاد تک) ایک ورقِ مصحف جیسا نور دیکھا گیا۔ وہاں موجود کسی کو شک نہ رہا کہ وہ نورِ قرآن تھا۔[7]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. مقدمات فی علم القراءات،مؤلفین: محمد احمد مفلح القضاة، احمد خالد شكرى، محمد خالد منصور،ناشر: دار عمار - عمان (الاردن)
  2. معرفۃ القراء الکبار: 1؍171،
  3. ذہبی (1997)، معرفة القراء الكبار على الطبقات والأعصار (بزبان عربی)، بیروت: دار الکتب علمیہ، ص 41، Wikidata Q121009887 – بذریعہ المكتبة الشاملة
  4. "غاية النهاية في طبقات القراء"۔ الموسوعة الشاملة۔ 2021-07-26۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 26 يوليو 2021۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-07-26 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link)
  5. "ص70 - كتاب مباحث في علم القراءات مع بيان أصول رواية حفص - شجرة إسناد الإمام أبي جعفر المدني"۔ المكتبة الشاملة الحديثة۔ 2021-07-26۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 26 يوليو 2021۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-07-26 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link)
  6. "النشر في القراءت العشر - باب ذكر إسناد هذه العشر القراءات من هذه الطرق والروايات - أسانيد المؤلف إلى أئمة القراءة - قراءة أبي جعفر رواية عيسى بن وردان- الجزء رقم1"۔ إسلام ويب۔ 2021-07-26۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 26 يوليو 2021۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-07-26 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link)
  7. ذہبی (1997)، معرفة القراء الكبار على الطبقات والأعصار (بزبان عربی)، بیروت: دار الکتب علمیہ، ص 42، Wikidata Q121009887 – بذریعہ المكتبة الشاملة