ابو حذیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو حذیفہ
عربی:أبو حذيفة بن عتبة
ابو حذيفہ بن عتبہ بن ربيعہ
أبي حذيفة بن عتبة.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 581  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 633 (51–52 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو
اولاد محمد بن ابی حذیفہ
والد عتبہ بن ربیعہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ولید بن عتبہ،  ہند بنت عتبہ  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رشتے دار والد: عتبہ بن ربيعہ
والدہ: فاطمہ بنت صفوان بن امیہ
بھائی: الوليد بن عتبہ بن ربيعہ، ہند بن عتبہ
عملی زندگی
پیشہ صحابی

ابو حذیفہ غزوہ بدر میں شریک صحابی تھے۔ ابو حذیفہ کنیت ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

ہشیم نام، ابوحذیفہ کنیت،والد کانام عتبہ اوروالدہ کا نام ام صفوان تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے : ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی القرشی۔ سردار قریش عتبہ بن ربیعہ کے فرزند تھے۔ جو غزوہ بدر میں قریش کا سپہ سالار تھا اور اسی جنگ میں مارا گیا۔

اسلام[ترمیم]

ابوحذیفہ کے والد عتبہ ان ذی اثر رؤسائے قریش میں تھے جنھوں نے اسلام کی مخالفت میں اپنی پوری طاقت صرف کردی تھی، لیکن خود عتبہ کے لختِ جگر ابوحذیفہ نے اسلام قبول کیا۔ آنحضرت ﷺ اس وقت تک ارقم بن ابی الارقم کے مکان میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔

ہجرت[ترمیم]

ابوحذیفہ سرزمین حبش کی دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، ان کی بیوی سہلہ بنت سہیل بھی رفیقِ سفر تھیں، چنانچہ محمد بن ابی حذیفہ حبش ہی میں پیدا ہوئے تھے۔[1]حبش سے مکہ واپس آئے، یہاں ہجرت کی تیاریاں ہو رہی تھیں، اس بنا پر اپنے غلام سالم کو ساتھ لے کر مدینہ پہنچے اورعباد بن بشرکے مہمان ہوئے، آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں باہم مواخات کرادی۔[2]

غزوات[ترمیم]

عہدِ نبوی ﷺ کے تمام اہم مشہور معرکوں میں جوش وپامردی کے ساتھ سرگرم کارزار تھے،خصوصاً غزوۂ بدر میں کیسا عبرت انگیز منظر تھا، جب کہ ایک طرف سے ان کے والد اور دوسری طرف سے یہ جوہر شجاعت دکھا رہے تھے، انہوں نے اپنے والد کو مقابلہ کے لیے للکارا ان کا والد مقتول ہوا تو ابو حذیفہ کا چہرہ نہایت اداس دیکھ کر رسول اللہ نے پوچھا، ابوحذیفہ شاید تم کو اپنے باپ کا کچھ افسوس ہے، عرض کیا خدا کی قسم نہیں، مجھے اس کے مقتول ہونے کا صدمہ نہیں ہے ؛لیکن میرا خیال تھا کہ وہ ایک ذی عقل پختہ کار و صاحب رائے شخص تھا اس بنا پر امید تھی کہ وہ دولتِ ایمان سے فائدہ اٹھائے گا؛ لیکن جب کہ حضورﷺ نے حالت کفر پر اس کے مرنے کا یقین دلادیا تو مجھے اپنے غلط توقع پر افسوس ہوا۔[3]

شہادت[ترمیم]

ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں بعمر 54 سال شہادت پائی۔ [4]

اخلاق[ترمیم]

حضرت ابوحذیفہؓ اپنی اخلاقی بلندی کے لحاظ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی صف میں نہایت ممتاز نظر آتے ہیں، حق پسندی ،جفاکشی وجوشِ ایمان کا اندازہ گذشتہ واقعات سے ہوا ہوگا، غلاموں کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے، حضرت سالم ؓ ان کی بیوی حضرت ثبیتہ انصاریہؓ کے غلام تھے،انہوں نے اُن کو آزاد کردیاتوحضرت ابوحذیفہؓ نےان کو اپنامتبنیٰ بنالیا، چنانچہ وہ عموماً سالم بن ابی حذیفہؓ کے نام سے مشہور تھے۔ [5]

حلیہ[ترمیم]

قد بلند وبالا، چہرہ خوبصورت، چشم احول، سامنے کی طرف ایک دانت زیادہ۔

ازواج[ترمیم]

حضرت ابوحذیفہ ؓ نے متعدد شادیاں کیں، بیویوں کے نام یہ ہیں، سہلہ بنت سہیلؓ، آمنہ بنت عمرو، ثبیتہ بنت یعارانصاریہ۔ [6]

اولاد[ترمیم]

محمد بن ابی حذیفہؓ حضرت سہلہؓ کے بطن سے حبش میں پیدا ہوئے، حضرت عثمان ؓ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، طرفدارانِ امیر معاویہ ؓ کے ہاتھ سے مصر میں مقتول ہوئے، عاصم بن ابی حذیفہؓ حضرت آمنہ بنت عمروؓ سے پیدا ہوئے،چونکہ یہ دونوں لاولد فوت ہوئے، اس لیے حضرت ابوحذیفہؓ کا سلسلہ ونسل منقطع ہوگیا۔ [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ:5/170
  2. استیعاب تذکرہ ابوحذیفہ
  3. سیرت ابن ہشام :1/369
  4. الطبقات الكبرى المؤلف: أبو عبد الله محمد بن سعد المعروف بابن سعد الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت
  5. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :۶۰)
  6. (طبقات ابن سعد :۵۹)
  7. (طبقات ابن سعد :۵۹)