ابو حذیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو حذیفہ
عربی:أبو حذيفة بن عتبة
اہم معلومات
پورا نام ابو حذيفہ بن عتبہ بن ربيعہ
تاريخ ولات
مقام ولادت مكہ
تاريخ وفات 633ء
مقام وفات جنگ یمامہ
شریک حیات سہلہ بنت سہیل بن عمرو
اولاد محمد بن ابی حذیفہ
نسبی رشتے والد: عتبہ بن ربيعہ
والدہ: فاطمہ بنت صفوان بن امیہ
بھائی: الوليد بن عتبہ بن ربيعہ، ہند بن عتبہ
اسلام میں
جنگیں تمام غزوات رسول اور جنگ یمامہ میں شریک

ابو حذیفہ غزوہ بدر میں شریک صحابی تھے۔ابو حذیفہ کنیت ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

ہشیم نام، ابوحذیفہ کنیت،والد کانام عتبہ اوروالدہ کا نام ام صفوان تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے: ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبدمناف بن قصی القرشی۔سردار قریش عتبہ بن ربیعہ کے فرزند تھے۔ جو غزوہ بدر میں قریش کا سپہ سالار تھا اور اسی جنگ میں مارا گیا۔

اسلام[ترمیم]

ابوحذیفہ کے والد عتبہ ان ذی اثر رؤسائے قریش میں تھے جنہوں نے اسلام کی مخالفت میں اپنی پوری طاقت صرف کردی تھی، لیکن خود عتبہ کے لختِ جگر ابوحذیفہ اسلام قبول کیا آنحضرت ﷺ اس وقت تک ارقم بن ابی الارقم کے مکان میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔

ہجرت[ترمیم]

ابوحذیفہ سرزمین حبش کی دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، ان کی بیوی سہلہ بنت سہیل بھی رفیقِ سفر تھیں، چنانچہ محمد بن ابی حذیفہ حبش ہی میں پیدا ہوئے تھے۔[1]حبش سے مکہ واپس آئے، یہاں ہجرت کی تیاریاں ہورہی تھیں، اس بنا پر اپنے غلام سالم کو ساتھ لے کر مدینہ پہنچے اورعباد بن بشرکے مہمان ہوئے، آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں باہم مواخات کرادی۔[2]

غزوات[ترمیم]

عہدِ نبوی ﷺ کے تمام اہم مشہور معرکوں میں جوش وپامردی کے ساتھ سرگرم کارزار تھے،خصوصاً غزوۂ بدر میں کیسا عبرت انگیز منظر تھا، جب کہ ایک طرف سے ان کے والد اور دوسری طرف سے یہ جوہر شجاعت دکھا رہے تھے، انہوں نے اپنے والد کو مقابلہ کے لیے للکارا ان کا والد مقتول ہوتو ابو حذیفہ کا چہرہ نہایت اداس دیکھ کر رسول اللہ نے پوچھا، ابوحذیفہ شاید تم کو اپنے باپ کا کچھ افسوس ہے، عرض کیا خدا کی قسم نہیں، مجھے اس کے مقتول ہونے کا صدمہ نہیں ہے ؛لیکن میرا خیال تھا کہ وہ ایک ذی عقل پختہ کاروصاحب رائے شخص تھا اس بنا پر امید تھی کہ وہ دولتِ ایمان سے فائدہ اٹھائےگا؛ لیکن جب کہ حضورﷺ نے حالت کفر پر اس کے مرنے کا یقین دلادیا تو مجھے اپنے غلط توقع پر افسوس ہوا۔ [3]

شہادت[ترمیم]

ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں بعمر 54 سال شہادت پائی۔ ہوئے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ:5/170
  2. استیعاب تذکرہ ابوحذیفہ
  3. سیرت ابن ہشام :1/369
  4. الطبقات الكبرى المؤلف: أبو عبد الله محمد بن سعد المعروف بابن سعد الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت