ابو حسن علی نوری
| ||||
|---|---|---|---|---|
| (عربی میں: أبو الحسن علي بن سالم بن محمد بن سالم بن سعيد النوري) | ||||
| معلومات شخصیت | ||||
| اصل نام | أبو الحسن علي بن سالم بن محمد بن سالم بن سعيد النوري ولقبه الأصلي شطورو ثم اشتهر بالنوري وهو الجد الأكبر ومؤسس عائلة النوري بصفاقس. | |||
| پیدائش | سنہ 1643ء صفاقس |
|||
| وفات | سنہ 1706ء (62–63 سال) صفاقس |
|||
| عملی زندگی | ||||
| الكنية | أبو الحسن | |||
| ينتمي إلى | ||||
| مؤلفات | العقيدة النورية في اعتقاد الأئمة الأشعرية غيث النفع في القراءات السبع تنبيه الغافلين وإرشاد الجاهلين |
|||
| مادر علمی | جامعہ زیتونہ جامعہ الازہر |
|||
| استاد | محمد بن عبد اللہ خرشی | |||
| پیشہ | عالم | |||
| پیشہ ورانہ زبان | عربی | |||
| کارہائے نمایاں | غیث النفع فی القراءات السبع ، العقیدہ النوریہ فی اعتقاد الائمہ الاشعریہ (کتاب) | |||
| مؤثر | محمد بن عبد اللہ خرشی محمد بن یوسف سنوسی |
|||
| درستی - ترمیم | ||||
ابو حسن علی نوری صفاقسی ( 1053ھ - 1118ھ = 1643ء - 1706ء ) ایک مالکی فقیہ تھے ۔
حالات زندگی
[ترمیم]ابو حسن علی بن سالم بن محمد بن سالم بن سعید نوری، جن کا اصل لقب "شطُور" تھا، بعد میں "النوری" کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ خاندان النوری کے بانی اور جد امجد تھے، جن کا تعلق صفاقس، تیونس سے ہے۔ 1643ء میں صفاقس کے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بچپن میں ہی قرآن پاک حفظ کیا اور 10 سال کی عمر میں مکمل کر لیا۔ انھوں نے صفاقس کے مشہور شیوخ، ابو الحسن الکرای اور حسن الشرفی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1658ء میں، جب ان کی عمر 14 سال تھی، مزید علم حاصل کرنے کے لیے تیونس کا سفر کیا اور جامعہ زیتونہ میں 6 سال تک تعلیم حاصل کی۔ وہاں انھوں نے عاشور قسنطینی، سلیمان الاندلسی اور محمد قروی جیسے اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔[1]
پھر 1663ء میں انھوں نے مزید علم حاصل کرنے کے لیے مصر کا سفر کیا اور جامعہ الازہر میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں انھوں نے قراءات کا علم شیخ علی شیراملسی اور محمد الافرانی سے حاصل کیا، فقہ مالکی امام محمد خرشی اور ابراہیم شبرختی سے پڑھا اور علم حدیث شیخ ابراہیم المامونی سے سیکھا۔ مصر میں ان کا قیام پانچ سال رہا، اس دوران 1667ء میں انھوں نے فریضہ حج بھی ادا کیا۔ 1668ء (1078ھ کے اواخر) میں، 25 سال کی عمر میں وہ صفاقس واپس آئے اور اپنے گھر کو ایک مدرسہ میں تبدیل کر دیا، جہاں انھوں نے اپنے علم کو پھیلایا اور لوگوں کو تعلیم دی۔[2]
شیوخ
[ترمیم]ابو حسن نوری نے اپنے علم کا آغاز کئی عظیم علما سے کیا:
- . ابراہیم المأمونی الشافعی: احادیث عشرہ کی تعلیم دی۔
- . ابراہیم الشبرختی: فقہ، حدیث اور تفسیر کے مختلف موضوعات پر تعلیم دی اور متعدد کتابوں میں اجازت دی۔
- . احمد السنہوری المالکی
- . الحسن بن مسعود الیوسی
- . محمد بن ناصر الدرعی
- . محمد الأفرانی السوسی
- . شیخ یحیی الشاوی الملیانی الجزائري
- . یحیی بن زین العابدین (حفید زکریا الأنصاری)[3]
تلامذہ
[ترمیم]- . ابراہم المزغنی
- . ابراہم بن احمد الجمل الصفاقسی
- . احمد بن علی النوری الصفاقسی (بیٹا)
- . ابو الحسن علی بن خلیفہ المساكنی (وفات 1172ھ)
- . علی العش
- . ابو الحسن علی التمیمی المؤخر
مؤلفات
[ترمیم]- . غيث النفع في القراءات السبع طبع وحقق عدة مرات، بما في ذلك طبعة دار الفكر ودار الكتب العلمية.
- . تنبيه الغافلين وإرشاد الجاهلين بتحقيق محمد الشاذلي النيفر وعثمان العياري، نشر في 1974م.
- . رسالة في حكم السماع ووجوب كتابة المصاحف بالرسم العثماني نشرت دار الغرب الإسلامي في 1986م.
- . رسالة في الرد على من يقول بجواز إبدال الهمزة هاء عند تسهيلها.
- . العقيدة النورية في اعتقاد الأئمة الأشعرية حققها الحبيب بن طاہر، نشرت دار اليمامة للطباعة في 2008م.
- . أدعية ختم القرآن نشرها عباس النوري في 1983م.
- . رسالة في المناسك طُبعت مع شرحها "هبة المالك" لمحمد بن يوسف الكافي.
- . معين السائلين
- . الأوقات والقبلة
- . المقدمة النورية.[4]
شیخ علی النوری کے بارے میں کہا گیا
[ترمیم]- . وزیر السراج:"جب فجر کے لیے ایک گھنٹہ باقی رہتا، تو وہ طلبہ کے گھروں پر ہاتھ مار کر انھیں عبادت کے لیے بیدار کرتے تھے۔"
- . حسین خوجا:"ان کا ایک خاص وقت تھا جب وہ دن کے دوران اپنے گھر جاتے اور اپنے ہاتھ سے دھاگہ بنتے تھے تاکہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھا سکیں۔"
- . ان کے شاگرد شیخ علی بن خلیفہ مساکنی:"میرے پہلے استاد شیخ فاضل، مربی ناصح، حقیقت اور شریعت کو یکجا کرنے والے، سیدی علی نوری صفاقسی تھے۔ میں نے ان سے 1095ھ (سنہ 1695) میں ملاقات کی اور پانچ سال ان کے ساتھ گزارے اور اس دوران ان سے کئی علوم حاصل کیے۔ ان کی اجازتیں بے شمار تھیں اور ان کی معلومات وسیع تھیں۔"
- . ابو العباس احمد بن ناصر الدرعی:"یہ اللہ کے صالح بندے، علم اور عمل والے، اس خطے میں علم اور سنت کو زندہ کرنے والے ہیں۔"
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ شكري مجولي (2015-04)۔ "الشيخ علي النوري الصفاقسي ترجمته وآثاره"۔ مجلة المدونة شمارہ 4: 46–59۔ DOI:10.12816/0011539۔ 2018-06-02 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت) - ↑ "أبو الحسن علي النوري (1643 – 1706)"۔ تاريخ صفاقس (بزبان عربی)۔ 15 فروری 2015۔ 2023-04-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-07-08
- ↑ "كتاب غيث النفع في القراءات السبع - المكتبة الشاملة"۔ shamela.ws (بزبان عربی)۔ 2023-02-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-07-08
- ↑ "كتاب تنبيه الغافلين وإرشاد الجاهلين - المكتبة الشاملة"۔ shamela.ws۔ 2022-08-09 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-07-08

