ابو حفص عمرو حداد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو حفص عمرو حداد

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی عمرو بن سلمہ تھا۔ نیشاپور کے رہنے والے تھے۔ صاحب ریاضت و عبادت و مروت و فتوت تھے۔ شیخ عبد اللہ ماوردی کے مرید تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

شیخ ابوعثمان حیری کے استاد تھے سیّد الطائفہ جنید بغدادی سے ملاقات ہوئی۔ ابتدائی جوانی میں ایک نوجوان خوش شکل عورت کے دام محبت میں پھنس گئے۔ مگر وہ عورت کبھی مائل التفات نہ ہوئی۔ انہی دنوں نیشا پور میں ایک یہودی جا دوگری میں مشہور تھا۔ اس کے پاس گئے اور اپنا حالِ دل بیان کیا۔ یہودی نے کہا اگر تم چالیس روز تک کوئی عبادت نہ کرو۔ کسی نیک کام میں حصہ نہ لو۔ حتی کہ اللہ اور اُس کے رسول کا نام تک زبان پر نہ لاؤ۔ تو میں ایک ایسا عمل کروں گا کہ یہ عورت تمہارے قدموں میں سر رکھ دے گی۔ ابو حفص حداد نے ویسا ہی کیا۔ چالیس دن کے بعد یہودی کے پاس گئے۔ اس نے جادو کا عمل کیا۔ مگر کار گر ثابت نہ ہوا۔ یہودی نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اس دوران کوئی نیک کام کر دیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ میں نے کوئی نیک کام نہیں کیا۔ البتہ ایک دن میں نے سر راہ ایک پتھر پڑا پایا۔ اسے اٹھا کر ایک طرف پھینک دیا۔ تاکہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے۔ یہودی نے کہا کہ اللہ کی ذات کتنی مہربان اور با ثروت ہے کہ تو نے چالیس دن تک اس کا نام تک زبان پر نہ لیا۔ مگر اس نے چالیس روز تک اپنے خزانہ رزق سے تمہیں رزق دیا اور اس دوران نیکی کرنے کی توفیق بھی دی۔ یہ بات سنتے ہی ابو حفص کے دل میں جذبہ ایمان روشن ہوا یہودی کے ہاتھ پر توبہ کی۔ اور اللہ کی عبادت میں ہمہ وقت مشغول ہو گئے۔ ظاہراً حدادی یعنی آہن گری کا کام کرتے تھے۔ جو کچھ کماتے درویشوں کو دے دیتے۔ خود شام کے اندھیرے میں گداگری کرتے تاکہ ان کا نفس غرور و تکبر سے نجات پائے۔ اس طرح آپ ایک عرصہ تک گزر اوقات کرتے رہے۔

استغراق کا عالم[ترمیم]

آپ کے استغراق کا یہ عالم ہوتا کہ بسا اوقات کارخانہ آہن گری کی بھٹی میں ہاتھ بڑھا کر آتش شدہ لوہے کو اٹھالیتے۔ مگر آپ کے ہاتھ کو کچھ نہ ہوتا۔ بسا اوقات یوں ہوتا کہ دست پناہ (سنّی) کی بجائے گرم لوہا ہاتھ سے نکال کر آئرن پر رکھتے اور ہاتھ سے پکڑ کر شاگرد کو کہتے اس پر ہتھوڑے مارتے جاؤ۔ شاگرد کانپ اٹھتے کہ آپ نے ہاتھ سے لوہا گرم پکڑ رکھا ہے۔ اس بات سے آپ استغراق سے ہوش میں آتے ہاتھ کھینچ لیتے۔ اور سنی کا استعمال کرتے۔ آخر کار آپ نے اپنا تمام کارخانہ فروخت کر دیا۔ جو کچھ ملا غرباء و مساکین میں تقسیم کیا اور خود ہمہ وقت یاد خداوندی میں مشغول و مصروف ہو گئے۔ ایک دن اپنے احباب کے ساتھ صحرا میں نکلے۔ پہاڑ کی چوٹی سے ایک ہرن دوڑتا آیا اور آپ کی بغل میں اپنا سر یوں رکھ دیا۔ جیسے سکوں حاصل کر رہا ہو۔ ابو حفص اس وقت استغراق میں تھے۔ آپ نے رونا شروع کر دیا۔ ہرن تو بھاگ کر جنگل میں چلا گیا۔ مگر دوستوں نے پوچھا یا حضرت کیا بات ہے۔ فرمانے لگے میرا دل چاہتا تھا کاش آج میرے پاس بکری ہوتی۔ اسے ذبح کرتا پکاکر سب احباب کو کھلاتا دوستوں نے بتایا حضرت بکری آپ کے پاس نہیں تو ہرن آکر قربان ہوا جا رہا تھا۔ آپ بھلا کیوں روتے ہیں آپ نے فرمایا: تمہیں شاید معلوم نہیں جب سائل کو اس کے سوال کے مطابق چیز دی جاتی ہے تو اسے دروازے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اگر فرعون کو اللہ تعالیٰ اپنے دروازے پر رکھنا پسند فرماتا تو اس کے کہنے پر دریائے نیل روان نہ کرتا۔

فصاحت[ترمیم]

شیخ ابوحفص جب حج بیت اللہ کو گئے تو عربی سے ناواقف تھے۔ ساتھیوں نے کہا: ہمیں ترجمان چاہیے جو عربی جانتا ہو اور ہماری باتیں ان تک پہنچا سکے۔ بغداد پہنچے تو بایزید بسطامی نے اپنے مریدوں کو آپ کے استقبال کے لیے بھیجا جنید کی خانقاہ میں پہنچے تو مختلف لوگ ملنے آئے ان سے ابوحفص نے اس وضاحت و بلاغت سے عربی میں گفتگو کرنا شروع کی کہ اہل زبان بھی حیران رہ گئے۔ ابوحفص مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں بہت سے مساکین سے ملاقات کی۔ ان کی تنگ دستی دیکھی نہ گئی آپ نے ایک پتھر اٹھایا اور کہنے لگے: اے اللہ اگر ان لوگوں کو دینے کے لیے مجھے کچھ نہ ملا تو اس پتھر سے تیرے گھر کے فانوس توڑ دوں گا۔ اسی وقت ایک آدمی آیا۔ ایک ہزار دینار کی تھیلی پیش کی آپ نے تمام مساکین کو خیرات تقسیم کردی۔

وصال[ترمیم]

شیخ ابوحفص حدّاد 264ھ میں واصل بحق ہوئے۔ بعض نے سنہ وفات 265ھ لکھا ہے۔ اور بعض نے 266ھ تحریر کیا ہے۔ [1]

  1. خزینۃ الاصفیاءجلد چہارم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 62مکتبہ نبویہ لاہور