مندرجات کا رخ کریں

ابو حفص یزید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو حفص یزید
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ طبیب   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو حفص یزید مروان بن حکم، اموی خلیفہ، کا ایک مولیٰ یا خادم تھا، جس کا اصل نام معلوم نہیں، لیکن اسے یزید الکامل کہا جاتا تھا۔ اس نے امیرِ یمامہ کی بیٹی سے شادی کی اور اس کے پوتوں میں کئی نمایاں شاعر شامل تھے، جیسے مروان بن ابی حفصہ اور مروان بن ابی الجنوب۔ [1] ابی حفص کی اصل نسبت غیر واضح ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ یا تو فارسی تھا یا یہودی۔ بعض روایات کے مطابق، اسے 659 عیسوی میں اصطخر میں قید کیا گیا تھا اور بعد میں خلیفہ کو فروخت کر دیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے عثمان بن عفان کے قتل کے دن آزاد کر دیا گیا تھا۔ مختلف تاریخی ذرائع میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ابو حفص نے اسلام قبول کیا یا اپنی یہودیت برقرار رکھی۔[2][3]

ابی حفص یزید کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کا اصل پس منظر اور ابتدائی زندگی تاریخی طور پر غیر واضح اور مبہم ہے۔ مؤرخین کے مطابق وہ ابتدائی اسلامی دور میں مدینہ، دمشق اور پھر اموی دار الخلافہ میں جانا پہچانا نام تھا، لیکن اس کی شناخت زیادہ تر ایک ’’مولیٰ‘‘ اور بعد ازاں ادبی و ثقافتی وراثت کے حوالے سے رہی۔ اس کا لقب "الکامل" اس کی جسمانی وجاہت، غیر معمولی ذہانت یا اخلاقی وقار کی بنیاد پر دیا گیا، تاہم اس بارے میں بھی آراء مختلف ہیں۔

اموی دربار میں اس کا کردار محض ایک خادم یا غلام کا نہیں تھا بلکہ رفتہ رفتہ وہ دربار کے انتظامی امور، تربیتی ماحول اور شعری و ادبی سرگرمیوں کا حصہ بن گیا۔ اموی خلفاء کے دوران شعری میدان میں بڑی تحریک اٹھی اور شاعری حکومتی پروپیگنڈا، قبیلائی تعریف، مدح سرائی اور طنزیہ مقابلوں کا ذریعہ بن گئی۔ ابو حفص کا خاندان اس ادبی روایت کا حصہ بن گیا اور اسی وجہ سے اس کے نام کو بعد کے ادوار میں احترام یا کم از کم ادبی شناخت ملی۔

اس کی اولاد نے عربی قصیدہ نگاری کے فن کو نئی جہتیں دیں۔ اس کے پوتوں میں مروان بن ابی حفصہ خاص طور پر امویوں اور بعد میں عباسیوں کا مدّاح شاعر بن گیا۔ بعض ناقدین اسے سیاسی شاعری کا مؤسس بھی قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح اس کے خاندان کے دیگر افراد نے طنزیہ اور عشقیہ شاعری کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

ابو حفص کے مذہبی پس منظر پر اختلاف جاری ہے۔ کچھ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اگر وہ یہودی تھا تو اس کا اسلام قبول کرنا محض سیاسی ضرورت تھی، نہ کہ اعتقادی فیصلہ۔ بعض دیگر مصنفین اس خیال کی تردید کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ اموی دربار میں اس کی قربت اور اس کے بچوں کا اسلامی ماحول میں پرورش پانا اس بات کا اشارہ ہے کہ اس نے کم از کم سیاسی و سماجی سطح پر اسلام اختیار کیا تھا۔

659 عیسوی میں اصطخر (فارس) میں اس کی گرفتاری کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ کسی سیاسی بغاوت یا اجتماعی گرفتاری کا حصہ تھا۔ عثمان بن عفان کے قتل سے اس کی رہائی کا تعلق محض تاریخی اتفاق ہے یا کسی وقتی فیصلے کا حصہ — اس پر بھی مورخین تقسیم ہیں۔

اس کی وفات کا کوئی معتبر سال درج نہیں، لیکن اس کے اثرات اس کے بعد آنے والی تین نسلوں تک واضح طور پر موجود رہے۔ عربی ادب کے طالب علم اسے ایک ثقافتی عبوری نقطہ تصور کرتے ہیں جہاں غلام اور غیر عرب پس منظر رکھنے والے افراد نے زبان و ادب کے مرکزی دھارے میں جگہ بنانا شروع کی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Ibn Khallikan (1868)۔ Ibn Khallikan's Biographical Dictionary۔ Oriental Translation Fund of Great Britain and Ireland۔ ج 3۔ ص 343–347۔ 2018-05-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-12-12
  2. Clifford Edmund Bosworth (1989)۔ The Encyclopedia of Islam۔ Fascicules 107-108۔ Brill Archive۔ ج 6۔ ISBN:90-04-09082-7۔ 2017-10-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-12-12
  3. Julie Scott Meisami؛ Paul Starkey (1998)۔ Encyclopedia of Arabic Literature۔ Taylor & Francis۔ ج 2۔ ISBN:0-415-18572-6۔ 2016-04-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-12-12