مندرجات کا رخ کریں

ابو حمو موسی دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو حمو موسی دوم
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1323ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غرناطہ   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 نومبر 1389ء (6566 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمسان   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات لڑائی میں ہلاک   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت تلمسان   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ابو تاشفین دوم [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ابو تاشفین عبد الرحمان اول   ویکی ڈیٹا پر  (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان ،  حاکم   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو حمو موسی دوم زیان سلطنت تلمسان کے ایک اہم سلطان تھے جو چودھویں صدی میں الجزائر میں حکومت کرتے رہے[2]۔ ان کی وفات 1389 میں ہوئی۔ وہ زیان خاندان کے طویل ترین دور حکومت کرنے والے حکمرانوں میں سے ایک تھے جن کا دور سیاسی عدم استحکام اور بار بار اقتدار کی تبدیلیوں سے بھرا رہا۔

زندگی

[ترمیم]

ابو حمو موسی دوم نے 1359 میں مرینیوں کے اخراج کے بعد تلمسان اور اس کے گرد و نواح میں اقتدار حاصل کیا۔ اس وقت مرینیوں کا قبضہ ختم ہوا اور زیان سلطنت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ اگلے سال یعنی 1360 میں ان کی جگہ ابو زيان محمد دوم ابن عثمان نے اقتدار سنبھالا۔ تاہم 1360 ختم ہونے سے پہلے ہی ابو حمو موسی دوم دوبارہ تخت پر واپس آ گئے۔ ان کا یہ پہلا اقتدار کی واپسی کا واقعہ تھا جو ان کے دور کی خاصیت بن گیا۔

سیاسی انتشار

[ترمیم]

ابو حمو موسی دوم کا دور سیاسی انتشار کا شکار رہا۔ 1370 میں ان کی جگہ ایک بار پھر ابو زيان نے اقتدار حاصل کر لیا۔ 1372 میں ابو حمو موسی سوم مرتبہ تخت پر واپس آئے۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور 1383 میں ابو زيان نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 1384 میں ابو حمو موسی چوتھی مرتبہ سلطان بنے۔ 1387 میں ابو زيان نے ایک بار پھر اقتدار حاصل کیا مگر اسی سال ان کی وفات ہو گئی۔ اس کے بعد ابو حمو موسی آخری مرتبہ تخت پر بیٹھے اور 1389 میں اپنی وفات تک حکومت کرتے رہے۔ ان کے اس دور میں سلطنت کو داخلی انتشار اور بیرونی خطرات کا سامنا رہا مگر انھوں نے زیان اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

جانشینی اور ورثہ

[ترمیم]

ابو حمو موسی دوم کی وفات کے بعد زیان سلطنت کی باگ ڈور ان کے جانشین ابو تاشفین عبد الرحمان دوم کے ہاتھوں میں آئی۔ ان کے دور میں تلمسان نے سیاسی استحکام کی تلاش جاری رکھی۔ ابو حمو موسی دوم کا دور زیان تاریخ میں ایک اہم باب ہے جو سلطنت کے اندرونی تنازعات اور مرینیوں کے ساتھ جاری کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ انھوں نے متعدد مرتبہ اقتدار حاصل کر کے زیان خاندان کی بقا کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔

علمی اور ثقافتی خدمات

[ترمیم]

ابو حمو موسی دوم کے دور میں زیان سلطنت میں علمی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ان کے نام سے منسوب کتاب زہر البستان فی دولت بنی زیان ان کے دور کی ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جو زیان سلطنت کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ اسی طرح وسیطۃ السلوک فی سیاسۃ الملوک جیسی تصانیف بھی اس دور کی سیاسی فکر کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی حکومت نے تلمسان کو ایک علمی اور ثقافتی مرکز بنائے رکھنے میں کردار ادا کیا۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

مزید پڑھیے

[ترمیم]

Alfred Bel (1960–2005). The Encyclopaedia of Islam, Second Edition (12 vols.) (بزبان انگریزی). Leiden: E. J. Brill.

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ناشر: مطبعہ برِل ISBN 978-90-04-17853-3Encyclopaedia of Islam — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2021
  2. Nagendra Kr Singh؛ Nagendra Kumar Singh (2000)۔ International Encyclopaedia of Islamic Dynasties۔ Anmol Publications۔ ISBN:81-261-0403-1