ابو حمید ساعدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو حمید ساعدی
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو حمید ساعدی قبیلہ خزرج کے صحابی ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

عبدالرحمن نام، ابو حمید کنیت، قبیلہ خزرج کے خاندان ساعدہ سے ہیں،سلسلۂ نسب یہ ہے، عبدالرحمن بن سعد بن منذر بن سعد بن خالد بن ثعلبہ بن حارثہ بن عمروبن خزرج بن ساعدہ،والدہ بھی اسی قبیلہ سے تھیں، ان کا پورا نام یہ ہے، امامہ بنت ثعلبہ بن جبل بن امیہ بن عمرو بن حارثہ بن عمرو بن خزرج۔

اسلام[ترمیم]

غالباً ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا۔

غزوات[ترمیم]

احد اور ما بعد کے تمام غزوات میں شریک ہوئے ،وادی القریٰ اورتبوک کی شرکت خود ان کی روایت سے ثابت ہوتی ہے۔

وفات[ترمیم]

امیر معاویہ کے آخر عہدِ خلافت یا یزید کے ابتدائی دور حکومت میں وفات پائی ۔

اولاد[ترمیم]

ایک لڑکا چھوڑا، منذر نام تھا۔

فضل وکمال[ترمیم]

ان کے سلسلہ سے حدیثیں مروی ہیں، جابر بن عبد اللہ،عروہ بن زبیر، عباس بن سہل،محمد بن عمروبن عطاء خارجہ بن ثابت عبدالملک بن سعید بن سوید، عمروبن سلیم زرقی، اسحاق بن عبد اللہ بن عمرو، سعید بن منذر (پوتے تھے) عبدالرحمن بن سعید جیسے اکابر اِن سے حدیث روایت کرتے ہیں۔ [1]

اخلاق[ترمیم]

ان کے تمام اوصاف میں خدمت رسول اللہ ﷺ زیادہ نمایاں ہے ،ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں خالص دودھ جس کو خوب سر د کیا تھا پیالہ میں لے کر آئے، لیکن کھلا لائے تھے، ارشاد ہوا اس کو ڈھانپ کے لاتے خواہ لکڑی ہی رکھ کر۔ [2] آنحضرتﷺ کی نماز اچھی طرح محفوظ رکھی تھی، ایک مرتبہ صحابہؓ کے مجمع میں( جن کی تعداد مسند میں 10 ہے اور ابو قتادہؓ کے بھی وہاں موجود ہونے کا تذکرہ ہے)انہوں نے کہا:" ان احفظکم بصلاۃ رسول اللہ"یعنی مجھے رسول اللہ ﷺکی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. (مسند:5/425)
  3. (مسند:5/425،بخاری باب سنۃ الجلوس فی التشہد،جلد1)