ابو حیان التوحیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو حیان التوحیدی
(عربی میں: أبو حيان التوحيدي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 923  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1023 (99–100 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلسفی،  مصنف،  ماہر حیوانیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل اسلامی فلسفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں الامتاع و المؤانسہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر

ابوحیان التوحیدی (پیدائش: 923ء — وفات: 1023ء ) دسویں صدی کے نامور فلسفیوں میں سے ایک تھے۔ علاوہ ازیں وہ مصف و ماہر حیوانیات بھی تھے۔

سوانح[ترمیم]

نام و نسب[ترمیم]

ابوحیان کا نام علی بن محمد بن العباس ہے جبکہ توحیدی کی نسبت توحید نامی ایک کھجور سے ہے جو اُن کے والد محمد بن العباس بغداد کے بازار میں بیچا کرتے تھے۔[1]

سال پیدائش[ترمیم]

ابوحیان کا سال پیدائش اختلافی ہے۔ محققین کے مطابق پیدائش 310ھ سے 320ھ کے درمیانی سالوں میں کسی سال میں ہوئی۔ قیاساً 310ھ لکھا جاتا ہے یعنی وہ 923ء میں پیدا ہوئے۔ سالِ پیدائش کی طرح مقام پیدائش میں بھی اختلاف ہے۔ متعدد روایات میں نیشاپور، شیراز، واسط اور بغداد کے نام آئے ہیں۔

تحصیل علم[ترمیم]

ابوحیان نے بغداد میں تعلیم حاصل کی۔ علم نحو اور تصوف کی تحصیل ابوسعید السیرافی (متوفی 368ھ مطابق 978ء) سے کی جبکہ فلسفہ ابوزکریا یحییٰ بن عدی المنطقی سے پڑھا۔ ابو حامد المروزی سے بھی علم حاصل کیا جو فقہ شافعہ کے قاضی تھے۔ علی بن عیسیٰ الرمانی سے علم الکلام اور لسانیات کی تعلیم حاصل کی۔ مؤرخ اسلام علامہ شمس الدین ذہبی نے ابوحیان کا قول ابن النجار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ: ’’میں (یعنی ابوحیان) نے جعفر الخلدی، ابوبکر الشافعی، ابوسعید السیرافی اور احمد بن بشر العامری سے علم حاصل کیا ہے۔‘‘ علاوہ ازیں ابوحیان نے مشائخ تصوف سے بھی اکتسابِ علم کیا۔ ابوحیان کی تصنیف المقابسات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ 361ھ مطابق 971ء میں میں حکیم یحییٰ بن عدی المنطقی کے درسِ فلسفہ میں شامل ہوئے تھے۔[2]

حالات زندگی[ترمیم]

ابوحیان کا پیشہ کتابت تھا یعنی کتب کی کتابت کرنا۔ابتدائی زندگی میں وہ اِسی پیشے سے منسلک تھے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابوجعفر بن بانویہ ملک سجستان کے مسامرہ میں الفزاری، طلحہ اور ابو تمام کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔[3] ابن حجر عسقلانی، شمس الدین الذہبی اور تاج الدین السبکی نے لکھا ہے کہ عباسی وزیر المہلبی نے اُسے اُس کے ملحدانہ عقائد کی بنا پر سزا دِی تھی۔ یہ بات مشکوک معلوم ہوتی ہے کیونکہ اِسے متاخر محققین و مؤرخین نے لکھا ہے۔ 353ھ مطابق 964ء میں ابوحیان کا مکہ مکرمہ میں ہونے کا پتا چلتا ہے۔[4] 358ھ مطابق 969ء میں ابوحیان کا ابوالفضل ابن العمید کے دربار میں یعنی شہر رَے میں حاضر ہوا تھا۔[5] 361ھ مطابق 971ء میں میں حکیم یحییٰ بن عدی المنطقی کے درسِ فلسفہ میں شامل ہوئے تھے۔ شہر رَے کے وزیر ابوالفتح ابن العمید کے دربار میں قسمت آزمائی کے لیے پہنچے تھے مگر اِس مقصد میں خاص کامیابی نہ ہوئی۔ 367ھ مطابق 977ء میں ابوحیان ابن عباد کے نقل نویس کے طور پر ملازم ہوئے۔ اِس سلسلہ ملازمت پر بھی کامیابی نہ ہوئی جس کی بڑی وجہ یقیناً کردار کی ناسازگاری اور اُن کا احساسِ برتری تھا، جیسے کہ اُنہوں نے اپنے آقا ابن عباد کے مکتوبات کے ایک ضخیم مجموعے کو نقل کرنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ وہ وقت ضائع کرنے کو سمجھتے تھے۔ بالآخر ابن عباد نے برطرف کر دیا اور ابوحیان نے اِس معاملے میں یہ محسوس کیا کہ اُن سے بدسلوکی کی جاتی رہی ہے اور اِس کا انتقام ایک رسالہ ذم یا مثالب یا اخلاق الوزیرین لکھ کر پورا کر دیا۔[6]

بغداد واپسی[ترمیم]

ابوحیان 370ھ مطابق 981ء میں بغداد آگئے تو زید بن رِفاعہ اور انجینئر ابو الوفا البوزجانی (متوفی 15 جولائی 998ء) نے ابوحیان کی سفارش عبدالحسین ابن احمد ابن سعدان سے کی۔ ابن سعدان کے لیے ابوحیان نے دوستی کے موضوع پر ایک کتاب لکھی۔

بحیثیت فلسفی[ترمیم]

بغداد میں قیام کے دوران ابوسلیمان المنطقی کی آمدورَفت اُس کے پاس برابر رہی۔ ابوسلیمان المنطقی کو ابوحیان فلسفیانہ مسائل میں بالخصوص سند اور حجت تسلیم کیا کرتا تھا۔ ابوحیان نے ابوسلیمان کے درس فلسفہ میں 371ھ مطابق 981ء میں شرکت کی تھی۔[7] ابن سعدان کو جب صمصام الدولہ نے 373ھ مطابق 983ء میں اپنا وزیر مقرر کر لیا اور ابوحیان ابن سعدان کا حاضر باش درباری اور وزیر تھے اور اکثر اُس کی شام کی مجالس میں شرکت کرتے تھے۔ اِن مجالس میں ابوحیان کو ادب، فلسفہ اور درباری و ادبی موضوعات پر کیے گئے سوالات کے جوابات دینا پڑتے تھے۔ابوحیان متعدد مسائل فلسفہ پر ابوسلیمان المنطقی کے اَفکار و خیالات سے جوابات دِیا کرتے تھے جنہوں نے شاہی و درباری حاضری سے ترک نشینی اختیار کرلی تھی۔

اواخر ایام[ترمیم]

375ھ مطابق 986ء میں ابن سعدان آل بویہ کا معتوب ہوکر قتل ہوا اور اب ابوحیان بغیر کسی سرپرست کے رہ گئے۔ اواخر دِنوں میں ابوحیان نے ابوالقاسم المدلجی جو صمصام الدولہ کا شیراز میں وزیر تھا، کے لیے کتاب لکھی مگر خاطر خواہ سرپرستی نہ ہوئی۔ابوحیان کے آخری سالوں کے متعلق معلومات کم ہیں لیکن بظاہر ابن سعدان کے قتل کے بعد ابوحیان کی زِندگی مفلسی میں بسر ہوئی۔

وفات[ترمیم]

ابوحیان نے 414ھ مطابق 1023ء میں تقریباً 99 یا 100 سال کی عمر میں شیراز میں وفات پائی۔ شیراز میں اُن کی قبر شیخ عبد اللہ بن خفیف کے محاذ کے قریب واقع تھی۔

تصانیف[ترمیم]

الامتاع و المؤانسہ[ترمیم]

انجینئر اعظم ابو الوفا البوزجانی کی درخواست پر ابوحیان نے 37 مجالس کی رُوداد مرتب کی جسے الامتاع و المؤانسہ کہا گیا۔

المقابسات[ترمیم]

یہ کتاب ابوحیان نے اپنے اواخر ایام میں لکھی جس میں 106 مکالمات شامل ہیں۔ یہ مکالمات فلسفیانہ موضوعات پر لکھے گئے ہیں۔ اِس کتاب کا پہلا ایڈیشن ممبئی سے 1306ھ میں اور قاہرہ سے پہلی بار 1929ء میں شائع ہوئی۔

رسالہ ذم یا مثالب یا اخلاق الوزیرین[ترمیم]

اِس رسالے میں ابوالفتح ابن العمید اور ابن عباد کی بڑی خوش اسلوبی سے تضحیک کی گئی ہے۔

بصائر القدماء[ترمیم]

ابوحیان نے اِس کتاب کو 350ھ سے 365ھ کے درمیانی سالوں (یعنی 961ء سے 975ء) میں مکمل کیا۔ یہ کتاب دس جلدوں میں ہے اور اِسے البصائر والذخائر بھی کہا جاتا ہے۔

الصداقۃ والصدیق[ترمیم]

یہ کتاب ابوحیان نے ابن سعدان کے لیے تصنیف کی جو دوستی کے موضوع پر ہے۔تیس سال کے طویل عرصے میں یہ کتاب مکمل ہوئی۔ یہ مصر سے 1323ھ میں شائع ہوئی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن خلکان: وفیات الاعیان، جلد 2، صفحہ 90۔
  2. ابوحیان توحیدی: المقابسات،  صفحہ 156۔
  3. منتخب صوان الحکمۃ:  صفحہ 116۔
  4. الامتاع: جلد 2،  صفحہ 97۔
  5. یاقوت الحموی: ارشاد الاریب، جلد 2، صفحہ 292۔
  6. یاقوت الحموی: ارشاد الاریب، جلد 1، صفحہ 281، 282، 317۔
  7. ابوحیان توحیدی:  المقابسات،  صفحہ 246،  286۔