مندرجات کا رخ کریں

ابو دلف عجلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو دلف عجلی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش عراق   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 840ء   ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو دُلف عجلی عباسی دور کا ایک سپہ سالار، شاعر اور ادیب تھا، جو خلیفہ المامون اور المعتصم کے زمانے میں سرگرم تھا۔ وہ کرخ (بغداد کا ایک علاقہ) کا امیر، اپنی قوم کا سردار اور ایک سخی، بہادر اور شاعرانہ مزاج رکھنے والا امیر تھا۔

خلیفہ ہارون الرشید نے اُسے عراق کے علاقے "الجبل" کا گورنر مقرر کیا اور بعد ازاں وہ المامون کے دور میں عباسی فوج کے سرکردہ جرنیلوں میں شامل رہا۔ وہ فنِ موسیقی کا ماہر بھی تھا، شعر کہتا اور اُس پر خود دُھنیں بھی بناتا تھا۔ اُس کا انتقال 226 ہجری میں بغداد میں ہوا۔

عراق کے صوبہ صلاح الدین میں، سامراء کے شمال میں واقع ایک مسجد کا نام جامع ابو دلف انہی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مشہور نسب شناس عالم ابن ماکولا انہی کی نسل سے تھے۔[1]

نسب

[ترمیم]

ابو دُلف کا مکمل نسب درج ذیل ہے: ابو دُلف قاسم بن عيسى بن ادريس بن معقل بن سيار بن شيخ بن سيار بن عبد العزى بن دلف بن جشم بن قيس بن سعد بن عجل بن لجيم بن صعب بن علي بن بكر بن وائل۔[2]

جبکہ ابن خلكان نے اپنی کتاب "وفيات الأعيان" میں ان کا نسب یوں نقل کیا ہے: ابو دلف قاسم بن عيسى بن ادريس بن معقل بن عمير بن شيخ بن معاويہ بن خزاعی بن عبد العزى بن دلف بن جشم بن قيس بن سعد بن عجل بن لجيم بن صعب بن علي بن بكر بن وائل۔[3]

اس کے کچھ اشعار و اقوال

[ترمیم]

ابو دلف نے امیر خراسان طاہر بن حسین کی مدح میں کہا:

أرى ودكم كالورد ليس بدائم

میں تمھاری دوستی کو گلاب کی مانند دیکھتا ہوں، جو ہمیشہ نہیں رہتی۔

ولا خير فيمن لا يدوم له عهـد

اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جس کا وعدہ پائیدار نہ ہو۔

وحبي لكم كالآس حسنا ونضرة

میری محبت تمھارے لیے آس (بیسل) کی طرح ہے، جو خوبصورتی اور تازگی رکھتی ہے۔

له زهرة تبقى إذا فني الورد

اس کا پھول اُس وقت بھی باقی رہتا ہے جب گلاب ختم ہو جاتا ہے۔

جب مشہور عباسی کمانڈر محمد بن حمید الطوسی جنگ میں مارا گیا، تو ابو تمام نے اس کی مرثیہ میں مشہور قصیدہ کہا، جس کے اشعار میں سے چند یہ ہیں:

كذا فليجل الخطب وليفدح الأمرُ

ایسے ہی ہونا چاہیے کہ مصیبت بڑی لگے اور معاملہ سخت ہو۔

فليس لعين لم يفض ماؤها عذرُ

اس آنکھ کو کوئی عذر نہیں جو اس پر نہ روئی ہو۔

فتى مات بين الضرب والطعن ميتةً

وہ جوان جو تلوار اور نیزے کی زد میں شہید ہوا،

تقوم مقام النصر إن فاتها النصرُ

ایسی موت جو اگر فتح نصیب نہ ہو تو بھی فتح کے برابر ہو۔

اس پر ابو دلف نے مشہور جملہ کہا:

"لم يمت من رثي بمثل هذا"

"جس کا ایسے انداز میں مرثیہ کہا گیا ہو، وہ گویا مرا ہی نہیں"

ابو دلف کی تصانیف

[ترمیم]
  • . کتاب السلاح – اسلحہ پر کتاب
  • . کتاب البزاة والصيد – باز اور شکار کے متعلق کتاب
  • . کتاب سياسة الملوك – بادشاہوں کی سیاست پر کتاب
  • . کتاب النزه – سیر و تفریح کے بارے میں کتاب

وفات

[ترمیم]

ابو دلف کا انتقال بغداد میں 226 ہجری / 840 عیسوی میں ہوا۔[4]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. الأعلام، خير الدين الزركلي
  2. جمهرة أنساب العرب، ابن حزم الأندلسي، ص313
  3. ابن خلکان (1978)، وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان (بزبان عربی)، بیروت: Dar Sader، ج 4، ص 74، OCLC:4770140545، Wikidata Q115633147
  4. البداية والنهاية - ابن كثير - الجزء العاشر/أبو دلف العجلي

بیرونی روابط

[ترمیم]