ابو رجاء عطاردی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو رجاء عطاردی
معلومات شخصیت


ابورجاء عطاردیؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

ابورجاء اوران کے والد کے نام کے بارہ میں مختلف بیانات ہیں، ایک بیان یہ ہے کہ ان کا نام عمران اور والد کا نام طحان، دوسرا یہ ہے کہ والد کا نام تمیم ہے تیسرا یہ ہے کہ ان کا نام عطاء اوروالد کا نام پرویز ہے، ان تینوں بیانات میں اکثر اربابِ سیر کے نزدیک پہلا زیادہ صحیح ہے، حافظ ذہبی اورابن حجر نے اسی کو اختیار کیا ہے، ابورجاء کنیت ہے اوراسی سے وہ زیادہ مشہور ہیں نسبی تعلق قبیلہ تمیم سے تھا۔

اسلام[ترمیم]

ابورجاء نے آنحضرت ﷺ کا زمانہ پایا تھا لیکن اس وقت بالکل نوخیز تھے عہد نبوی میں عرصہ تک ان کا قبیلہ اسلام سے بھاگتا رہا، لیکن پھر آخر میں اسے اسلام کا طوقِ غلامی گردن میں ڈالنا پڑا، ان واقعات کو خود رجاء کی زبان سے سنو ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے زمانہ میں میں اپنے چشمے سند پر اونٹوں کی چرائی پر تھا کہ اطلاع ملی کہ عرب میں ایک شخص مبعوث ہوا ہے جو لوگ اس کی اطاعت نہیں کرتے، ان کو وہ قتل کردیتا ہے، یہ خبر سن کر ہم لوگ اپنے اہل وعیال کو لے کر بنی سعد کا میدان عبور کرکے بھاگ گئے، وہاں جاکر معلوم ہوا کہ اس شخص سے بچنے کی سبیل ‘لا الہ الا اللہ محمد اعبدہ ورسولہ کی شہادت ہے، جو شخص اس کا اقرار کرلیتا ہے، اس کی جان اوراس کا مال محفوظ ہوجاتا ہے یہ معلوم کرکے ہم لوگ لوٹ آئے اوراسلام میں داخل ہوگئے [1]یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا [2]اگرچہ ابورجاء عہد رسالت میں مشرف بہ اسلام ہوگئے، لیکن آنحضرت ﷺ کے دیدار اوربقاء کے شرف سے محروم رہے۔

فضل وکمال[ترمیم]

ابورجاء کے زمانہ میں بہت سے صحابہ موجود تھے اس لیےا نہیں حصولِ کمال کا پوراموقع ملا، حافظ ذہبی لکھتے ہیں "من کبار علماء التابعین، کان ثقۃ بکتا عالما عاملا"

قرآن[ترمیم]

قرآن کے ممتاز عالم تھے، اس کی تعلیم انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ اورمفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے حاصل کی تھی [3] ان کی تعلیم نے انہیں قرآن کا عالم بنادیا۔ [4]

حدیث[ترمیم]

حدیث میں حضرت عمرؓ، علیؓ، عمران بن حصینؓ، ابن عباسؓ، سمرہ بن جندبؓ اورام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے ان کی روایات ملتی ہیں، ان سے روایات کرنے والوں میں ایوب جریر بن حازم عوف الاعرابی عمران القصیر، مہدی بن میمون، ابو الاشہب، حماد بن نجیع، سعید بن ابی ربیعہ، ابو عثمان اورحسن بن ذکوان وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ [5]

زہد وعبادت[ترمیم]

زہد وعبادت میں بھی ممتاز تھے حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ وہ بڑے عبادت گزار، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے شیخ تھے [6]رمضان میں تراویح میں تین قرآن ختم کرتے تھے۔ [7]

امامت[ترمیم]

اپنے علمی مذہبی کمالات کی وجہ سے اپنے قبیلہ کے امام تھے اور چالیس سال تک یہ خدمت انجام دی۔ [8]

وفات[ترمیم]

ان کے زمانہ وفات کے بارہ میں بہت اختلاف ہے، بعضوں کے نزدیک عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں بعضوں کے نزدیک 105 میں بعضوں کے نزدیک 107 میں بعضوں کے نزدیک108 میں اور بعضوں کے نزدیک 109 میں وفات پائی [9] اس وقت کم و بیش ایک سو بیس سال کی عمر تھی، ان کے وفات پر فرزدق شاعر نے یہ شعر کہا: الم تران الناس مات کبیر وقد عاش قبل البطث محمد

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ایضاً)
  2. (تذکرۃ الحفاظ:1/57)
  3. (ایضاً)
  4. (ابن سعد:7/101)
  5. (تہذیب التہذیب:8/140)
  6. (تہذیب التہذیب:8/140)
  7. (تہذیب التہذیب: ایضاً)
  8. (ایضاً:101)
  9. (یہ تمام اقوال ابن سعد تذکرۃ الحفاظ اورتہذیب میں ہیں، دیکھو کتب مذکورہ حوالا بالا)