ابو زہرہ مصری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو زہرہ مصری
(عربی میں: محمد أبو زهرة ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1898  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1974 (75–76 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ استاد جامعہ،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ الازہر  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

محمد ابو زہرہ مصری (عربی: محمد أبو زهرة) (ولادت: 1898ء – وفات: 1974ء) مصری مفکر، محقق اور مصنف تھے، جو بیسویں صدی میں اسلامی قانون کے ممتاز عالم میں سے ایک ہیں۔[2][3] ابو زہرہ نے امام ابو حنیفہ، امام ملک، امام احمد بن حنبل، امام شافعی اور امام ابن تیمیہ پر کتابیں لکھی ہیں۔[4][5]

سوانح[ترمیم]

ابو زہرہ 1898ء میں مصر کے شہر الکبری کے ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ نے جامعہ احمدی، جو مصر کے جنوبی صوبے کے ایک مشہور شہر طنطا میں واقع ہے، سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ 1916ء میں آپ جامع احمدی سے مدرسہ قضاء شرعی میں منتقل ہو گئے۔ 9 برس کا عرصہ آپ نے اسی مدرسے میں گزارا اور 1925ء میں اسی مدرسہ قضاء شرعی سے شہادۃ عالمیہ کی سند حاصل کی۔اس کے بعد آپ نے 1927ء میں گریجویشن کی ڈگری بھی حاصل کی اور اس کے بعد درس وتدریس سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ مدرسہ قضاء شرعی اور دیگر مدراس میں پڑھانے کے بعد1933ء میں جامع الازھر کے کلیہ اصول دین میں استاد مقرر ہوئے۔ساتھ ہی ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہا۔ 1934ء میں لا کالج نے بھی آپ کی خدمات حاصل کر لیں اور 1942ء تک آپ دونوں جگہ یعنی لا کالج اور کلیہ اصول دین جامعہ ازھر میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1958ء میں آپ ملازمت سے سبکدوش ہوئے اوردیگر علمی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔جمعیتہ الدراسات الاسلامیہ اور انسٹیوٹ آف اسلامک اسٹیڈیز کی بنیاد رکھنے اور داغ بیل ڈالنے میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ 1962ء میں آپ کو مجمع البحوث الاسلامیہ، جامعہ ازھر کا تاحیات ممبر منتخب کر لیا گیا۔ آپ نے کئی ممالک کے سفر کیے اور وہاں عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ جنوری 1958ء میں ہونے والی اسلامی کانفرنس لاہور میں شرکت کی۔آپ کی علمی تراث دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخص اپنی پیشہ وارنہ مصروفیات کےساتھ ساتھ اس قدر تحقیقی اور تصنیفی کام بھی کرسکتا ہے۔ آپ کی کتابوں کی تعداد 50 سے زائد ہے۔تحقیقی مقالات سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، خطبات اور اخبارات اورجرائد کےلیے مضامین، ریڈیو اور ٹی۔وی کے لیے تقاریر اس کےعلاوہ ہیں۔

ابو زہرہ کا اسلوب ادبی ہے وہ تحقیقی اور علمی کتابیں بھی ادبی پیرائے میں لکھتے ہیں لہٰذا اُن کو پڑھنا اور سمجھنا آسان ہے۔آپ کی کتابوں کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوئے۔فقہی شخصیات پر لکھی جانے والی آٹھ کتابیں اردو میں ترجمہ ہوکر قبول عام حاصل کر چکی ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

  • امام ابو حنیفہ
  • امام ابن حزم
  • امام ابن تیمیہ
  • امام احمد بن حنبل
  • امام شافعی
  • امام مالک
  • اسلامی مذاہب

حوالہ جات[ترمیم]

  1. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/16491 — بنام: Muhammad Abu Zahra
  2. Shoaib A. Ghias (2015). "Defining Shari'a: The Politics of Islamic Judicial Review" (PDF). University of California, Berkeley. صفحہ 75. 
  3. اسم المؤلف: محمد أبو زهرةنداء الإيمان، تاريخ الولوج 24 سبتمبر 2013 آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ al-eman.com [Error: unknown archive URL]
  4. Ali Shehata Abdou Selim (2015). The Concept of Coexistence in Islamic Primary Sources: an Analytical Examination. Cambridge Scholars Publishing. صفحہ 156. ISBN 978-1-4438-7587-5. 
  5. Ralph H. Salmi, Cesar Adib Majul and George George Kilpatrick Tanham (1998)۔ Islam and Conflict Resolution: Theories and Practices، p. 90. لینہم، میری لینڈ: University Press of America۔ آئی ایس بی این 9780761810964۔