ابو سلمان شاہجہان پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہا نپوری 30 جنوری1940ء کو شاہجہان پور میں پیدا ہوئے۔آپ کا اصل نام تصدق حسین خان تھا۔ ابتدائی تعلیم شاہ جہان پور میں حاصل کی۔مدرسہ سعیدیہ شاہ جہان پوراور مدرسہ شاہی مراد آباد سے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی اور وہیں ابتدائی عربی اور فارسی کے درس لئے ۔آپ شروع ہی سے اپنے چچا مولانا عبدالہادی خان جو مفتی کفایت اللہ دہلوی کے شاگرد ِرشید تھے ،کی زیر تربیت رہے ۔تقسیم کے بعد ۱۹۵۰ء میں آپ پاکستان آگئے اور اپنی باقی تعلیم جاری رکھی ۔1970ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم ۔اے(اُردو)اور 1980ء میں سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔آپ کا موضوعِ تحقیق’’ تذکرہ خانوادہ ولی اللٰہی ازسر سید احمد خان،ترتیب و تالیف و تدوین‘‘تھا۔لیکن دراصل آپ کے اصل ذوق کی تسکین کا سامان ابو الکلام آزادؔ کے فکرو فن میں موجود تھا اس لئے آپ نے اپنی باقی زندگی ابو الکلامیات اور آزاد شناسی کے سپرد کر دی ۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری کااصل موضوع تحقیق مولانا آزادؔ کی شخصیت ،اُن کے افکار اور ان کے علمی اور ادبی کارنامے ہیں۔آپ نے گزشتہ نصف صدی اور موجودہ صدی کی پہلی دہائی میں دنیائے ادب و سیاست کے نابغہ روزگار شخصیت مولاناابوالکلام آزادؔ(۱۸۸۸ء-۱۹۵۸ء)کی زندگی، فکر، فلسفے ،سیاست اور ادب پراتنا دقیع کام کیا جس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔موصوف نے اپنی دیگر ہمہ جہت علمی اور ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ابولکلامیات کے دائرے میں 150سے زیادہ تصانیف کی تدوین اور تالیف کے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔آپ نے پاکستان میں آزاد شناسی کی بنیاد اُس وقت رکھی جب ابوالکلام آزادؔ کے ادبی اور علمی آثار سیاسی تعصب کی دبیز تہوں کے نیچے دب چکے تھے۔ انہوں نے وقت اور حالات کی پرواہ کئے بغیر انتہائی دلیری سے مولانا ابو الکلام آزادؔ کے علمی، ادبی، مذہبی اور سیاسی آثارو نقوش کی ترتیب و تدوین کا اہم کا م شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ڈاکٹر ابو سلمان اپنی زندگی کے اس عظیم مقصد کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔ میری پہلی تحریر۱۹۷۵ء روزنامہ امروز ۔کراچی میں شائع ہوئی تھی۔یہ ایک مراسلہ تھا۔

تصانیف[ترمیم]

۱۔ آثار ونقوش :۔یہ کتاب ڈاکٹر ابوسلمان کا ایک شاندار تحقیقی کارنامہ ہے۔یہ مولاناابولکلام آزاد کے اُن تاریخی وسیاسی خطوط اور احکام و ہدایات کا مجموعہ ہے جو نیشنل آرکائیوزآف انڈیانئی دہلی میں محفوظ ہیں یہ تمام تحریریں مولانا کے زمانہ وزارت کی ہیں۔ جو آئی سی سی آر کی فائلوں اور دیگر ذرائع سے ماخوذ ہیں۔

۲۔جامع الشواہد فی د خول غیرالمسلمین فی المساجد:۔اسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے طویل مقدمے کے ساتھ۱۹۹۷ء میں شائع کیا ۔یہ کتاب سب سے پہلے ۱۹۱۹ء میں شائع ہوئی جس میں مولانا آزادؔنے شرعی دلائل سے ثابت کیاتھا کہ غیرمسلموں کا مسجدوں میں داخل ہونا اور وہاں منعقد ہونے والی مجلسوں میں شمولیت کرنا جائز ہے۔

۳۔ انڈیاونسزفریڈم:۔یہ مولانا آزادکی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے ایک طویل مقدمے کے ساتھ اسے شائع کیا اور ساتھ ہی وہ تیس صفحات بھی شامل کر دیئے جن کے متعلق فیصلہ ہواتھا کہ انہیں مولانا آزادکی وفات کے تیس سال بعد شائع کیا جائے۔

۴۔ مولانا ابولکلام آزاداور ان کے چند بزرگ دوست اور عقیدت مند:۔

۵۔ کلیات آزاد:۔

۶۔ ابوالنصرآہ کا کلام

۷۔ مولاناابوالکلام آزاد ایک نابغہ ٔروزگار شخصیت:۔

۸۔ ابوالکلامؒ و عبدالماجد۔۔۔۔ادبی معرکہ

۹۔ اردو کا ادیب اعظم

۱۰۔ ارمغان آزادؒ(ابتدائی دور کے مضامین و کلام)

۱۱۔ اِفادات آزادؒ(مذہبی و ادبی سوالات کے جوابات)

۱۲۔ امام الہند مولانا آزادؒ،تعمیرافکار

۱۳۔ پیغام کلکتہ ۱۹۲۱ء کی عکسی اشاعت

۱۴۔ لسان الصدق کلکتہ ۱۹۰۳ء کی عکسی اشاعت

۱۵۔ مولانا ابواکلام آزادؔ آثار و افکار

۱۶۔ مولانا ابواکلام آزادؔ اور ان کے معاصرین

۱۷۔ مولانا ابوالکلام آزادؔایک مطالعہ

۱۸۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ کی صحافت

۱۹۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ شخصیت ،سیرت اور کارنامے

۲۰۔ ہندوستان میں ابن تیمیہؒ

۲۱۔ اُردو کی ترقی میں مولانا آزادؔکا حصہ

۲۲۔ مولاناآزاد ؔایک سیاسی مطالعہ

۲۳۔ انجمن خدام کعبہ(تاریخ و مقاصد و خدمات )

۲۴۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات