ابو طالب بن عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو طالب بن عبد المطلب
(عربی میں: أبو طالب بن عبد المطلبخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 549  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 619 (69–70 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ فاطمہ بنت اسد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد علی بن ابی طالب،جعفر ابن ابی طالب،عقیل ابن ابی طالب،طالب ابن ابی طالب،ام ہانی بنت ابی طالب،جمانہ بنت ابی طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد عبد المطلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمہ بنت عمرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ بیوپاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

ابو طالب بن عبد المطلب ( أبو طالب بن عبد المطلب‎ ولادت 549ء - وفات 619ء) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا اور علی ابن ابی طالب کے والد تھے۔ ان کا نام عمران اور کنیت ابوطالب تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی والدہ آمنہ بنت وہب اور دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے آپ کے زیر کفالت رہے۔ آپ نے ایک بار شام اور بصرہ کا تجارتی سفر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ بحیرا راہب کا مشہور واقعہ، جس میں راہب نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبوت کی نشانیاں دیکھ کر پہچان لیا تھا، اسی سفر کے دوران میں پیش آیا تھا۔

خاندان[ترمیم]

آپ کے والد کا نام عبدالمطلب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبد المطلب کے واحد سگے بھائی تھے چونکہ دیگر کی والدہ مختلف تھیں۔[2]

قبولیتِ اسلام و ایمان[ترمیم]

آپ نے اسلام قبول کیا یا نہیں، ایک متنازع موضوع ہے۔ آپ نے تاحیات اشاعت اسلام میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا اور ان کی بت پرستی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی جبکہ سیرت ابن ہشام میں ان کے کلمہ پڑھنے کا ذکر ہے۔ [حوالہ درکار] عبد المطلب کی وفات (578ء) کے بعد انہوں نے ہی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش کی۔ آپ کی تقلید میں ابولہب کے سوا باقی تمام بنو ہاشم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پشت پناہ بنے رہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاطر بڑی سختیاں جھیلیں۔ خدیجہ بنت خویلد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح انہوں نے ہی پڑھایا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا۔[2] سیرت ابن ہشام کے مطابق وفات کے قریب آپ نے کلمہ اسلام زبان پر جاری کیا تھا۔[2] تاہم کئی مؤرخین ان کے قبول اسلام کو مستند نہیں سمجھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح پڑھانے کو قبولیت اسلام کی دلیل نہیں سمجھتے۔  [حوالہ درکار] ایمان ابو طالب پر علامہ صائم چشتی اور طاہر القادری نے بڑے سکہ بند حوالوں کے ساتھ کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان اعتراضات کا جواب دیا ہے جو ایمان ابوطالب پر کئے جاتے ہیں۔ دونوں علماء مسلک اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کتب کے مطابق عبدالمطلب کے دس بیٹے تھے جن میں عبداللہ آخری نمبر پر تھے اور سب بھائیوں میں بہت زیادہ خوبصورت اور خوب سیرت تھے۔ ان کا انتقال حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ولادت سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ جب ہاشمی خاندان میں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کفالت کا معاملہ اٹھا تو عبدالمطلب نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے سامنے بٹھایا اور ان سب کے دلوں پر روحانی نظر دوڑائی اور ابو طالب کو اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے میرے بیٹے میں نے تیرے دل میں اپنے پوتے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کو دیکھا ہے اس لیے اس کی کفالت تمہارے ذمے ہے اس دن سے ابوطالب نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی کفالت میں لے لیا اور آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش شروع کردی۔ آپ کسی بھی وقت اپنے بھتیجے کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ آپ کی زوجہ فاطمہ بنت اسد بھی آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے والہانہ محبت کرتی تھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ان انتقال ہوا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو دفن کرنے سے پہلے ان کی قبر مبارک میں لیٹے اور اپنی نورانی چادر ان کے کفن کے ساتھ لپٹا کر ان کو دفن کیا گیا۔ جب آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس دنیا میں ظہور ہوا تو آقا درود کا نام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) عبدالمطلب اور ابو طالب نے تجویز فرمایا جبکہ آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ میرا نام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) عرش معلیٰ پر نور کے ستر ہزار حجابات میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔

ایمان ابوطالب پر اثباتی دلیلیں[ترمیم]

  • اسلام سے پہلے آپ دین ابراہیم علیہ السلام پر تھے چنانچہ ان کی بت پرستی کی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی۔
  • آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح پڑھایا تھا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا تھا۔ اللہ کا نام وہ لوگ استعمال کرتے تھے جو دینِ ابراہیمی پر عمل کرتے تھے۔
  • ان کی زوجہ فاطمہ بنت اسد نے اسلام قبول کیا تو ان کا نکاح فسخ نہ ہوا جبکہ اگر کسی مشرک یا کافر کی زوجہ اسلام قبول کرتی تو اس کی شادی فسخ ہو جاتی۔
  • آپ نے علی بن ابی طالب کو مسلمان ہونے پر کچھ نہ کہا حالانکہ وہ سن و سال میں چھوٹے تھے۔
  • آپ کے اشعار جو سیرت ابن اسحاق، سیرت ابن ہشام، تاریخ طبری وغیرہ کے علاوہ عربی ادب میں عموماً ملتے ہیں، آپ کے ایمان پر سند ہیں۔
  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلام کے عمومی اعلان کے بعد بھی ابو طالب کے دسترخوان پر کھانا کھاتے جبکہ کسی مشرک و کافر کے ساتھ نہ کھاتے۔
  • جس سال ابوطالب اور خدیجہ بنت خویلد کا انتقال ہوا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید دکھ ہوا اور انہوں نے اس سال کا نام عام الحزن (یعنی غم کا سال) رکھا۔
  • ابوطالب نے ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کی یہاں تک کہ ان کے بستر پر بدل بدل کر اپنے بیٹوں خصوصاً حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سلاتے تاکہ قریش حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ یہ بھتیجے کی محبت کے علاوہ اسلام سے بھی محبت کا ثبوت ہے کیونکہ بھتیجے کی محبت بیٹوں سے فوقیت نہیں رکھتی۔
  • سیرت ابن ہشام و سیرت ابن اسحاق کے مطابق وفات کے وقت ایک صحابی نے کان لگا کر سنا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہا کہ خدا کی قسم یہ وہی کلمات کہہ رہے ہیں جو اس سے قبل آپ ان کو کہنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کلمہ پڑھنے کو کہا تھا۔

ایمان ابوطالب پر نفی کی دلیلیں[ترمیم]

ایمان ابوطالب پر یقین نہ کرنے والے درج ذیل عمومی دلیلیں دیتے ہیں۔ قرآن پاک کی آیت کریمہ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ(القصص:56) اے نبیﷺ آپ ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو ہاں خدا ہدایت دیتا ہے جسے چاہے وہ خوب جانتا ہے جو راہ پانے والے ہیں۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیہ کریمہ ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی۔ معالم التنزیل، جلالین، مدارک التنزیل، کشاف، زمحشری، تفسیر کبیر سب نے ابو طالب کے متعلق لکھا امام نووی شرح صحیح مسلم شریف کتاب الایمان میں فرماتے ہیں : فَقَدْ أَجْمَعَ الْمُفَسِّرُونَ عَلَى أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي أَبِي طَالِب۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی ۔ مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے : لِقَوْلِهِ تَعَالَى فِي حَقِّهِ بِاتِّفَاقِ الْمُفَسِّرِينَ: إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ اللہ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے جو باتفاق مفسرین اس (ابو طالب) کے بارے میں ہے : اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو۔

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح بے شک آپ ہی نے پڑھایا۔ تا ہم یہ خطبہ نکاح آج کل کے خطبہ نکاح کی طرح نہ تھا اس میں نہ تو لاالہ الا اللہ کا اقرار ہوتا تھا اور نہ ہی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہوتا تھا لہذا یہ نکاح پڑھانا آپ کے ایمان لانے کی دلیل نہیں بن سکتا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوت ِ اسلام نہیں دی تھی۔ اس لیے اس وقت تک کوئی کافر نہیں کہلایا جاسکتا تھا۔ دعوت ِ اسلام کے بعد ہی اسلام اور کفر کا فرق واضح ہوا جس نے کلمہ کا اقرار کیا صرف وہ ہی مسلمان کہلائے جانے کا حقدار ہوا۔
  • دوسری وجہ جو ان کی قبول اسلام کی نفی کرتی ہے یہ ہے کہ کفار مکہ نے اس وقت مسلمانوں کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا تھا مگر انہوں نے کبھی آپ کو مسلمان سمجھ کر کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔ بت پرستی کا مخالف نہیں سمجھا حالانکہ آپ کے صاحبزادے حضرت جعفر طیار کو ان ہی کفار نے ہجرت پر مجبور کر دیا تھا۔
  • آپ کے دو صاحبزادے جعفر ابن ابی طالب اور علی ابن ابی طالب جو عباس بن عبدالمطلب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیر کفالت تھے [حوالہ درکار] ابتدا ہی میں دولت اسلام سے سرفراز ہوئے اور بقیہ دو صاحبزادے جو آپ کے ہمراہ رہا کرتے تھے ان میں عقیل فتح مکہ پر مسلمان ہوئے اور چوتھا بیٹا طالب (جس کے نام پر آپ کی کنیت ابو طالب تھی) ‏غزوہ بدر میں کفر کی طرف سے لڑتا ہوا مارا گیا۔  [حوالہ درکار] اس سے اندازا کرنا مشکل نہیں کے گھر کا ماحول کس حد تک مومنانہ تھا۔

ابوطالب بن عبدالمطلب کے اشعار[ترمیم]

ابوطالب شاعر تھے اور ان کے بے شمار اشعار تاریخ میں ملتے ہیں۔ ان کا ایک قصیدہ بہت مشہور ہے جس کا ابن کثیر نے تذکرہ و تعریف کی ہے۔ یہ سو سے زیادہ اشعار پر مشتمل ہے اور تمام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح و ثنا میں ہے۔ ایک شعر کا ترجمہ کچھ یوں ہے : میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا سچا جانثار ہوں۔ اور انہیں اللہ کا سچا رسول مانتا ہوں۔ خدا نے انہیں دنیا کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ کوئی ان کا مثل نہیں ہے۔ ان کا معبود ایسا ہے جو ایک لمحہ کے لیے بھی ان سے غافل نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ممتاز ہے کہ ہر بلندی اس کے آگے پست ہے۔ اور اس کی حفاظت کے لیے ہم نے اپنے سینوں کو سپر بنا لیا ہے۔ خدا اس کو اپنی حمایت و حفاظت میں رکھے اور اس کے نہ مٹنے والے دین کو دنیا پر غالب کر دے۔

تاریخ ابوالفداء میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ ابوالفداء کے دیے ہوئے اشعار میں سے ایک کا ترجمہ یہ ہے: بخدا کفارِ قریش اپنی جماعت سمیت تم (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں زمین میں دفن نہ ہوجاؤں۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم کو جو خدا کا حکم ہے اس کا بے خوف اعلان کرو۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم نے مجھ کو اللہ کی طرف دعوت دی ہے۔ مجھے تمہاری صداقت و امامت کا محکم یقین ہے اور تمہارا دین تمام مذاہبِ عالم سے بہتر اور ان کے مقابلے میں کامل تر ہے۔[3] سیرت ابن ہشام میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ سیرت ابن ہشام میں کچھ شعر ایسے ہیں جس میں حضرت ابوطالب نے ابولہب کو متنبہ کیا ہے کہ اسے عرب کے میلوں اور محفلوں میں برا کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی کئی اشعار سیرت ابن ہشام نے نقل کیے ہیں۔[2]

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مظالم کی انتہا کر دی۔ آپ کی وفات 619ء میں ہوئی۔ اسی سال خدیجہ بنت خویلد کی وفات بھی ہوئی۔ ان دو واقعات کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن یعنی "دکھ کا سال" قرار دیا۔

اولاد[ترمیم]

ان کےچار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں سب سے بڑے بیٹے کا نام طالب ابن ابی طالب تھا۔ باقی بیٹوں میں جعفر الطیار، عقیل ابن ابی طالب، اور علی ابن ابی طالب شامل تھے اور دو بیٹیاں ام ہانی بنت ابی طالب اور جمانہ بنت ابی طالب۔

طالب بن ابی طالب[ترمیم]

ان کے بڑے بیٹے طالب کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ملتیں۔ کچھ روایات کے مطابق ان کی وفات شرک کی حالت میں جنگِ بدر میں ہوئی۔ ”عباس بن عبد المطلب‘ نوفل بن حارث‘ طالب بن ابی طالب‘ عقیل بن ابی طالب اور ان کے ساتھ دوسرے لوگ (بدر) روانہ ہوگئے“[4][5]۔
تاریخ خمیس میں علامہ دیار بکری نے لکھا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ نے زبردستی طالب کو جنگ کے لیے گھسیٹا جبکہ وہ جانا نہیں چاہتے تھے۔[6]۔ علامہ مسعودی نے لکھا ہے کہ کفارِ قریش نے طالب کو زبردستی جنگ کے میدان کی طرف لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ دوران میں سفر غائب ہو گئے پھر ان کی کوئی خبر نہ ملی مگر ان کے اس موقع پر اشعار علامہ مسعودی نے نقل کیے ہیں جن کا ترجمہ ہے: اے پروردگار یہ لوگ زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ تو ان کو شکست دے اور اس درجہ کمزور کر دے کہ یہ خود لوٹ لیے جائیں اور کسی کو لوٹ نہ سکیں۔[7]

عقیل ابن ابی طالب[ترمیم]

آپ کربلا کے واقعے سے پہلے کوفہ میں شہید ہونے والے حضرت مسلم ابن عقیل کے والد تھے۔ عقیل بن ابی طالب (عربی زبان: عقيل بن أبي طالب) 590 میں پیدا ہوئے۔ عقیل ابن ابی طالب علی کے بھائی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔عقیل ابو طالب کےچار بیٹوں میں سے دوسرے بیٹے ہیں۔ عقیل کی کنیہ ابو عقیل ہے۔ آغاز اسلام کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ سن پیدائش 590ء ملتا ہے۔ غزوہ موتہ میں شرکت فرمائی جس کے بعد نابینا ہو گئے۔ 96 سال کی عمر پائی۔ آپ کے کئی بیٹے تھے جن میں سے حضرت مسلم ابن عقیل سفیرِ حسین کے نام سے مشہور ہوئے اور کربلا کے واقعہ سے کچھ عرصہ قبل انہیں یزید کے گورنر عبید اللہ ابن زیاد نے قتل کر دیا۔ آپ نے 96 سال کی عمر میں وفات پائی۔

جعفر ابن ابی طالب (جعفر طیار)[ترمیم]

آپ صحابیٔ رسول تھے اور ایک حدیث کے مطابق انہیں جنت میں پر ملیں گے کیونکہ ان کے ہاتھ ایک جنگ میں کاٹے گئے تھے اسی لیے آپ جعفر طیار کے نام سے مشہور ہیں۔

علی ابن ابی طالب[ترمیم]

علی ابن ابی طالب اولین مسلمانوں میں شامل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے داماد، دینی بھائی اور خلیفہ تھے۔ اہل سنت و اہل حدیث کے مطابق چوتھے خلیفہ اور اہل تشیع کے مطابق پہلے امام تھے۔ تمام غزوات میں حضرت علی نے سب سے زیادہ کفار و مشرکین کو تہہ تیغ کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/123907519 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 سیرت ابن ہشام[مکمل حوالہ درکار]
  3. تاریخ ابوالفداء جلد اول
  4. تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی،الانفال،5
  5. تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی،الانفال،7
  6. تاریخ خمیس از علامہ دیار بکری
  7. مروج الذہب از علامہ مسعودی بر حاشیہ کامل ابن اثیر جلد 5 صفحہ 176