ابو عبیدہ
| ابو عبیدہ | |
|---|---|
| (عربی میں: حذيفة بن سمير بن عبد الله الكحلوت) | |
دسمبر 2025ء میں حماس کی جانب سے جاری کردہ ابو عبیدہ کی تصویر
| |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 11 فروری 1985ء غزہ پٹی |
| وفات | 30 اگست 2025ء (40 سال)[1] رمال [2] |
| رہائش | غزہ پٹی |
| شہریت | |
| جماعت | حماس |
| رکن | حماس ، عز الدین القسام بریگیڈ |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | غزہ جامعہ اسلامیہ [3] |
| تعلیمی اسناد | ایم اے |
| مادری زبان | عربی |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی |
| ملازمت | عز الدین القسام بریگیڈ |
| عسکری خدمات | |
| وفاداری | ریاستِ فلسطین ، حماس |
| لڑائیاں اور جنگیں | غزہ کی جنگ ، 2008ء-2009ء غزہ پر اسرائیلی حملے |
| درستی - ترمیم | |
ابو عبیدہ فلسطینی مجاہد کا دفاعی و مزاحمتی نام ہے، جو القسام بریگیڈ کے ترجمان تھے، جو فلسطین کی اسلام پسند سیاسی اور عسکری تنظیم حماس کا عسکری دستہ ہے۔[4] 30 اگست 2025ء کو شہید ہو گئے۔ وہ القسام بریگیڈ کی میڈیا مہم کی مرکزی شخصیت گردانے جاتے تھے۔
زندگی نامہ
[ترمیم]
حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت المعروف ابو عبیدہ 11 فروری 1984ء کو سعودی عرب میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی و تعلیمی ایجنسی (اونروا) کے زیرِ انتظام مدارس میں حاصل کی۔ اسی دوران وہ شمالی غزہ پٹی کے احمد الشقیری ثانوی مدرسہ میں اسلامی بلاک، جو تحریکِ مزاحمتِ اسلامی (حماس) کا طلبہ ونگ ہے، میں سرگرم رہے۔ 2002ء میں انھوں نے سائنسی شعبے سے امتیازی نمبروں کے ساتھ ثانوی تعلیم مکمل کی، اس کے بعد انجینئرنگ کی تعلیم شروع کی تاہم بعد ازاں انھوں نے رخ بدلتے ہوئے کلیۃ اصول الدین میں داخلہ لیا۔ 2013ء میں جامعہ اسلامیہ غزہ کے کلیۃ اصول الدین، شعبۂ عقیدہ سے انھوں نے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا: ”الأرض المقدسة بين اليهودية والنصرانية والإسلام“ (ارضِ مقدس یہودیت، نصرانیت اور اسلام کی روشنی میں)۔
ابو عبیدہ نے دوسری انتفاضہ فلسطین کے آغاز یعنی 2000ء کے ساتھ ہی تحریکِ حماس اور اس کے عسکری ونگ کتائب القسام میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ وقت کے ساتھ وہ القسام کے اندر میدانی اور ابلاغی ذمہ داریوں میں نمایاں ہوتے گئے۔ ان کی ابتدائی میڈیا موجودگی میں نہ ان کا اصل نام معلوم تھا اور نہ ان کی شکل و صورت بلکہ ان کی نجی زندگی سے متعلق معلومات تقریباً ناپید تھیں۔ وہ ہمیشہ اپنی میڈیا پیشیوں اور ویڈیو بیانات میں سرخ کفیہ سے چہرہ اور سر مکمل طور پر ڈھانپے رکھتے تھے سوائے آنکھوں کے۔ ان کے بیانات عموماً کتائب القسام کے سرکاری کھاتوں پر جاری کیے جاتے تھے، بعض اوقات یہ حماس سے وابستہ الاقصیٰ ٹی وی پر نشر ہوتے تھے اور نسبتاً کم دیگر چینلوں جن میں الجزیرہ بھی شامل ہے، پر دکھائے جاتے تھے۔
ایک طویل عرصے تک ان کی شناخت شدید ابہام کا شکار رہی۔ وہ ہمیشہ نقاب پوش حالت میں یا تو تنہا یا کتائب القسام کے مسلح افراد کے حصار میں نظر آتے رہے۔ 2006ء میں جب وہ پہلی مرتبہ ٹیلی وژن اسکرین پر نمودار ہوئے اور اسرائیلی فوجی جلعاد شالیط کی گرفتاری کا اعلان کیا تو اس کے بعد ان کی آواز فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے مانوس ہو گئی۔ اسی وقت سے وہ کتائب القسام کے سرکاری اور مرکزی ترجمان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
2014ء میں بعض عبرانی ذرائع ابلاغ نے شاباک کی ہدایت پر ایک تصویر شائع کی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ابو عبیدہ کی ہے۔ اس تصویر میں ایک طرف نقاب پوش ابو عبیدہ کو الاقصیٰ ٹی وی کی اسکرین پر دکھایا گیا جبکہ نیچے ایک داڑھی والے شخص کی تصویر کے ساتھ نام ”حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت“ درج تھا۔ تحریکِ حماس نے ان اسرائیلی دعوؤں کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ یہ تصویر جعلی اور مرکب ہے، جس کا مقصد القسام کے ترجمان کی اصل شناخت تک رسائی حاصل کرنے کی ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ حماس کے مطابق ابو عبیدہ عملی طور پر تحریک کے عسکری ونگ کے نمایاں قائدین میں شمار ہوتے تھے۔[5]
ابو عبیدہ اپنی تقاریر کا اختتام عموماً کتائب القسام کے معروف نعرے پر کرتے تھے: ”وإنه لجهاد نصر أو استشهاد“، جو شہید عز الدین القسام کے اس تاریخی قول سے ماخوذ ہے جو انھوں نے 1935ء میں معرکۂ احراشِ یعبد سے قبل فرمایا تھا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Israeli defence minister says Hamas armed wing spokesperson killed in Gaza — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2025
- ↑ تاریخ اشاعت: 30 اگست 2025 — Over 15 Killed in Gaza City, One Day After Israel Ends Daily Pauses for Aid — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2025
- ↑ مارك: الارض المقدسة بين اليهودية والنصرانية والاسلام — اخذ شدہ بتاریخ: 14 دسمبر 2025
- ↑ "What about Hamas? Question snarls peace bid". این بی سی نیوز (بزبان انگریزی). 7 Oct 2009. Retrieved 2022-07-02.
- ↑ ""أبو عبيدة".. الملثم الذي أرعب "إسرائيل""۔ الميادين۔ 9-أيار-2021۔ 2021-05-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت)
