ابو عثمان نہدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو عثمان نہدیتابعین اکابر زمرہ میں شمار کیے جاتے ہیں

نام ونسب[ترمیم]

عبدالرحمن نام،ابو عثمان کنیت،کنیت ہی سے مشہور ہیں،نسب نامہ یہ ہے،عبدالرحمن ابن مل بن عمروبن عدی بن وہب بن ربیعہ بن سعد بن خزیمہ بن کعب بن رفاعہ بن مالک بن نہدا بن زید بن لیث بن سود بن اسلم بن الحاف بن قضاعہ۔

اسلام[ترمیم]

ابو عثمان نے جاہلیت اوراسلام دونوں کا زمانہ پایا تھا [1]زمانہ جاہلیت میں عام عربوں کی طرح بتوں کی پرستش کرتے تھے،عہد رسالت میں اسلام قبول کیا لیکن آنحضرت ﷺ کی زیارت سے محروم رہے،لیکن صدقات برابر آنحضرت ﷺ کے تحصیلداروں کو ادا کرتے تھے۔ [2]

عہد فاروقی[ترمیم]

عہد صدیقی میں ان کا پتہ نہیں چلتا، حضرت عمر کے عہدِ خلافت میں مدینہ آئے اور عراق کی اکثر مہموں قادسیہ ،جلولاء،نہاوند،سروند،یرموک وغیرہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی تھی۔ [3]

فضل وکمال[ترمیم]

علمی اعتبار سے کوئی ممتاز شخصیت نہ رکھتے تھے،لیکن سلمان فارسی کی صحبت میں بارہ سال رہے تھے [4] ان کے فیض صحبت سے اتنا علم حاصل ہو گیا تھا کہ علما میں شمار ہوتا تھا۔[5]

حدیث[ترمیم]

حدیث میں حضرت عمر،علی،سعد،سعید،طلحہ،سلمان فارسی،ابن مسعود،حذیفہ،ابوذر،ابی بن کعب،اسامہ بن زید،بلال،حنظلہ کاتب،ابو سعید خدری اورابو موسیٰ اشعری جیسے اکابر صحابہ سے ان کی روایات ملتی ہیں۔ ثابت البنانی،قتادہ،عاصم الاحول،سلیمان التیمی،خالد الخداء،ایوب سختیانی اورحمید الطویل جیسے ممتاز علما ان کے فیض یافتہ تھے۔[6]

عبادت وریاضت[ترمیم]

ابو عثمان کا امتیازی وصف ان کی عبادت وریاضت اوران کا زہد وتقویٰ تھا،اس میں وہ اپنے معاصرین میں ممتاز شخصیت رکھتے تھے،حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ وہ عالم قائم اللیل اورصائم النہار تھے،نمازیں اتنی پڑھتے تھے کہ بے ہوش ہو ہوجاتے تھے۔

ان کا دامن کسی معصیت سے آلودہ نہیں ہوا،ان کے تلمیذ سلیمان التیمی کا بیان ہے کہ جہاں تک میرا خیال ہے،ان سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔[7] (ایضاً)

ذکر خدا[ترمیم]

فرماتے تھے میں جانتا ہوں کہ خدا مجھے کس وقت یاد کرتا ہے کس نے پوچھا کیسے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :اذکرونی اذکرکم اس لیے جب میں اس کو یاد کرتا ہوں تو وہ بھی مجھے یاد کرتا ہے اورجب ہم اس سے دعا کرتے ہیں تو اس کی قسم وہ قبول کرتا ہے،پھر فرماتا ہے۔

وفات[ترمیم]

سنہ وفات کے بارہ میں اختلاف ہے بروایت صحیح 100 یا اس کے لگ بھگ انتقال فرمایا،اس وقت ایک سو تیس سال کی عمر تھی۔

[8]

  1. تہذیب التہذیب:6/277،مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند
  2. تاریخ خطیب:10/204
  3. تاریخ خطیب:10/208
  4. (شذرات الذہب،ج اول،ص118،دار ابن كثير، دمشق - بيروت
  5. تذکرۃ الحفاظ:1/50،دار الكتب العلمية بيروت-لبنان
  6. تہذیب التہذیب:6/278،مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند
  7. تذکرۃ الحفاظ:1/56،دار الكتب العلمية بيروت-لبنان
  8. تاریخ خطیب:10/205