ابو علی فارمدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیخ ابو علی فارمدی

شیخ ابو علی فارمدی
خواجہ ابو علی فارمدی کا نام فضل بن محمد ہے آپ کی ولادت 407 ہجری اور وفات 477 ہجری میں ہوئی۔

نام و کنیت[ترمیم]

اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی اور فارمد کی طرف منسوب ہے جو طوس (موجودہ ایران) کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔ علم کا حصول فقہ کےامام ابو حامد غزالی سے ہوا اور ابو عبد اللہ بن باکو شیرازی ابو منصور تمیمی،ابو عبد الرحمن نیلی اور ابو عثمان صابونی سے حدیث کا سماع کیا۔[1]

مقام و مرتبہ[ترمیم]

خراسان کے شیخ الشیوخ ہیں ا پنے وقت کے یکتا تھے۔اوراپنی طریقت میں خاص تھےوعظ و نصیحت میں ابو القاسم کے شاگرد تھے۔ ان کی نسبت تصوف میں دوطرف کی ہے۔ایک تو شیخ بزرگوار ابو القاسم گرگانی(جرجانی) کی طرف دوسری شیخ بزرگوار ابو الحسن خرقانی کی طرف جو مشائخ کے پیشوا اور وقت کے قطب ہیں۔ طریقہ نقشبندیہ میں خواجہ ابوالقاسم گرگانی سے بیعت ہوئے لیکن اویسی طور پر ابوالحسن خرقانی سے فیض یاب ہوئے۔ آپ کے صاحب کمال ہونے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی آپ کے مرید اور تربیت یافتہ تھے۔[2]

حصول علم باطن[ترمیم]

آپ فرماتے ہیں کہ میں شروع جوانی میں نیشا پور میں طلب علم میں لگا تھا میں نے سنا کہ شیخ سعید ابوالخیر منہ سے آئے ہیں اور وعظ کہتے ہیں میں گیا تاکہ ان کو دیکھوں جب میری آنکھ ان کے جمال پر پڑی تو میں ان پر عاشق ہو گیااور صوفیہ کی محبت میرے دل میں بڑھ گئی۔ ایک مرتبہ شیخ کی زیارت کی آرزو ہوئی لیکن وہ زیارت کا وقت نہ تھا ایسے ہی باہر نکلا تو شیخ کو کثیر انبوہ میں دیکھا شیخ نے مجھے نہ دیکھا تھا میں چپکے سے پیچھے چل پڑا جب وہ سماع میں پہنچےمیں بھی چھپ کر بیٹھ گیا ۔جب شیخ پر وجد کی حالت طاری ہوئی کپڑے پھاڑ دئے قمیص کا اگلا حصہ چاقو سے پھاڑا اور آواز دی اے ابو علی طوسی کہاں ہو میں سمجھا کسی اور کو بلا رہے ہیں تین دفعہ بلانے پر میں نہ گیا تولوگ کہنے لگے تمہیں بلاتے ہیں میں گیا تو شیخ نے وہ قمیص اور چاقو مجھے عنایت کئےاور فرمایا تم ہمیں اس قمیص اور چاقو کی طرح ہومیں نے انہیں بڑی عزت سے رکھ لیا۔

استاد کی خدمت[ترمیم]

دوران طالب علمی ابو القاسم قشیری کی خدمت میں رہے جو حال مجھ پر ظاہر ہوتا انہیں عرض کرتا فرماتے علم سیکھو لیکن ہر روز روشنائی بڑھنے لگی ایک دن قلم کو دیکھا وہ سفید ہوگیااستاد سے عرض کی تو فرمایا جب علم نے تجھ سے علیحدگی کر لی تم بھی علاحدہ ہو جاؤریاضت میں مشغول ہو جاؤ میں خانقاہ میں استاد امام ابو القاسم کی خدمت میں مشغول ہو گیا ایک دن استاد حمام گئے میں نے پانی کے ڈول ان پر گرائےجب استاد ابو القاسم نماز سے فارغ ہوئے پوچھا یہ پانی کس نے گرایا تھا میں سمجھا شاید یہ بیوقوفی کی ہے خاموش رہا تیسری مرتبہ عرض کیا میں تھا تو استاد نے فرمایا اے بو علی جو کچھ ابو القاسم نے ستر سال میں پایا تم نے ایک ہی ڈول میں پا لیا۔[3][4] بوعلی فارمدی بڑے پر اثر خطیب اور شیریں گو واعظ تھے[5] طائفہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ شیخ بو علی کو خطرات قلب پر واقفیت دی گئی مگر اس کے اظہار کی اجازت نہ تھی[6]

وصال[ترمیم]

شیخ بو علی فارمدی کی تاریخ وصال حضرات القدس میں 511ھ درج ہے جبکہ مشائخ نقشبندی مجددیہ میں 477ھ لکھی ہے۔ ایران کے مشہور شہر طوس جسے آجکل مشہد کہا جاتا ہے، میں ہوا۔ آپ کا مزار طوس یعنی مشہد میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات الشافعیہ التاج السبکی
  2. ^ 2.0 2.1 http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/books/jalwagah/h09.htm
  3. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ، محمد نور بخش توکلی ،صفحہ 90 ،مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور
  4. نفحات الانس ،عبد الرحمن جامی، صفحہ400، شبیر برادرز اردو بازار لاہور
  5. مرآۃ الاسرار صفحہ 513
  6. حضرات القدس صفحہ 111