ابو علی قالی
| ابو علی قالی | |
|---|---|
| اسکرپٹ نقص: فنکشن «fs» موجود نہیں ہے۔ | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 901ء [1][2][3] مالازگیرت |
| وفات | سنہ 967ء (65–66 سال) قرطبہ |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | ماہر اسلامیات |
| کارہائے نمایاں | الامالی (کتاب) |
| اسکرپٹ نقص: فنکشن «fs» موجود نہیں ہے۔ | |
| درستی - ترمیم | |
ابو علی اسماعیل بن قاسم بغدادی قالی ( 288ھ - 356ھ ) ایک عرب مسلم مصنف اور عالم، جو مشرق میں پیدا ہوئے اور بعد میں اندلس منتقل ہو گئے۔
سیرت
[ترمیم]ابو علی اسماعیل بن القاسم بن عیذون بن ہارون بن عیسی بن محمد بن سلمان القالی 288ھ میں ملاذکرد، دیار بکر میں پیدا ہوئے۔ ان کے جد سلمان محمد بن عبد الملک بن مروان کے موالی میں سے تھے۔ وہ 303ھ میں بغداد آئے اور آرمینیہ کے ایک گاؤں "قالي قلا" سے نسبت ہونے کی وجہ سے القالي کہلائے۔[4] [5]
اساتذہ
[ترمیم]انھوں نے کئی جید علما سے علم حاصل کیا، جن میں شامل ہیں:
- ابو القاسم البغوی
- ابوسعید الحسن بن علی العدوی
- ابوبکر بن ابی داؤد السجستانی
- ابن درید
- ابواسحاق الزجاج
- نفطویہ
- ابن الانباری
- ابن درستویہ
اندلس کی طرف ہجرت
[ترمیم]ابو علی القالی 330ھ، 27 شعبان کو قرطبہ پہنچے، جو اس وقت خلیفہ عبد الرحمن الناصر لدین اللہ کے زیرِ حکومت تھا۔ اندلس میں قیام کے دوران، ولی عہد الحکم نے انھیں اپنے قریب کر لیا اور علمی تصنیف و تحقیق کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔ ان کا علم اندلس میں پھیل گیا اور ان سے عبد اللہ بن الربیع التمیمی، ابو بکر الزبیدی اور احمد بن أبان بن سید جیسے جید علما نے روایت کی۔
تصنیفات
[ترمیم]ابو علی القالی نے کئی کتب تصنیف کیں، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں:
- . کتاب الأمالی – نادر تاریخی واقعات اور اشعار پر مشتمل معروف تصنیف۔
- . البارع في اللغة – لغت پر ایک اہم کتاب۔
- . المقصور والممدود والمهموز – الفاظ کے اشتقاق پر تحقیق۔
- . الأمثال – مشہور عربی امثال و محاورات۔
- . الإبل ونتاجها – اونٹوں اور ان کی نسلوں پر تحقیق۔
- . مقاتل الفرسان – جنگجوؤں کی بہادری اور جنگی معرکوں کا بیان۔
- . في حلي الإنسان والخيل وشياتها – انسانی زیب و زینت اور گھوڑوں کے رنگ و نشان پر کتاب۔
- . فعلت وأفعلت – لغوی و نحوی قواعد پر تحقیق۔
- . کتاب شرح المعلقات – مشہور عربی معلقات کی تشریح۔
- . تفسیر السبع الطوال – قرآن کی سات بڑی سورتوں کی تفسیر۔ [6]
وفات
[ترمیم]ابو علی القالی کا 7 جمادی الاول 356ھ کو قرطبہ میں انتقال ہوا۔[5]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ ناشر: او سی ایل سی — وی آئی اے ایف آئی ڈی: https://viaf.org/viaf/90043929 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 مئی 2018
- ↑ عنوان : Gran Enciclopèdia Catalana — گرین انسائکلوپیڈیا کیٹلینا آئی ڈی: https://www.enciclopedia.cat/ec-gec-0053470.xml — بنام: Abū ‘Alī al-Qālī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb14368247m — بنام: Ismāʿīl ibn al-Qāsim al- Qālī
- ↑ سانچہ:حوالہ مختصر
- ^ ا ب ابن الفرضی (1966)۔ تاریخ علماء الأندلس۔ ج 1۔ ص 69
- ↑ الضبي۔ بغية الملتمس
- ↑ الزركلي (2002)۔
{{حوالہ کتاب}}: پیرامیٹر|title=غیر موجود یا خالی (معاونت)
بیرونی روابط
[ترمیم]- أبو الوليد عبد الله بن محمد بن يوسف ابن الفرضي (1966)۔ تاريخ علماء الأندلس۔ الدار المصرية للتأليف والترجمة
- أحمد بن يحيى الضبّي (1967)۔ بغية الملتمس في تاريخ رجال أهل الأندلس۔ دار الكاتب العربي
- خیر الدین زرکلی (2002)، الأعلام: قاموس تراجم لأشهر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين (بزبان عربی) (15 ایڈیشن)، بیروت: دار العلم للملایین، OCLC:1127653771، QID: Q113504685
- أبو العباس أحمد بن محمد بن إبراهيم بن أبي بكر ابن خلكان (1972)۔ وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان۔ دار الكتب العلمية، بيروت