ابو عمرو بن علاء بصری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابو عمرو بصری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

ابو عمرو بن العلا البصری التمیمی۔قراء سبعہ میں شامل ہیں انہیں ابو عمرو بصری بھی کہا جاتا ہے

ولادت[ترمیم]

ولادت 68ھ مکہ میں ہوئی

نام[ترمیم]

ان کا پورا نام زبّان بن العلاء ابن العريان بن عبد الله التميمی المازنی البصری ابو عمرو ہے یہ ابو عمرو بن العلاء بن عماد التمیمی بصرے کے رہنے والے تھے۔ ائمہ رجال ان کی توثیق کرتے ہیں۔[1]

اساتذہ[ترمیم]

انھوں نے حمید بن قیس الاعرج یحیٰ بن یعمر، مجاہد بن جبیر، سعید بن جبیر، عکرمتہ البریری اور عبد اللہ بن کثیر سے قرآن پڑھا تھا

شاگرد[ترمیم]

ان سے عبد الوارث بن سعید، حماد بن زید، معاذ بن معاذ، ہارون الاعور، یونس بن حبیب النحوی، یحیٰ بن مبارک الیزیدی، ابو بحر البکراری، خارجہ بن مصعب اور عبد الوہاب بن عطا وغیرہ نے قرآن پڑھا تھا۔[2] حمید بن قیس الاعرج ابو صفوان المکی الاسدی۔ یہ اسدیوں میں سے کسی کے آزاد کردہ غلام تھے۔ مجاہد سے حدیث روایت کرتے ہیں ان سے ابو عمرو بن العلاء نے قرآن پڑھا تھا۔ یحیٰ بن یعمر المروزی البصری۔ مرد کے رہنے والے تھے۔ بصرے میں آبسے تھے۔ پھر مرد میں قاضی بھی مقرر ہوئے تھے۔ بڑے ادیب ماہر عربیت عالم لغت اور مشہور نحوی تھے۔ حسین بن الولید، ہارون بن موسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن مجید پر سب سے پہلے نقطے انھوں نے لگائے۔ نحو میں ابو الاسود الدولی کے شاگرد تھے۔

وفات[ترمیم]

ان کی وفات سنہ154ھ میں کوفہ میں ہوئی اس وقت ان کی عمر 86 سال تھی

اِمام ابوعمرو بن العلاء البصری کے بارے اکابرین کے اقوال[ترمیم]

ان پر مختصر مگر جامع تبصرہ جرح و تعدیل کے لحاظ سے پیش خدمت ہے : 1۔ امام ذہبی نے کہا: الإمام الکبیر المازني البصري النحوي، شیخ القراء بالبصرۃ ’’بہت بڑے امام مازنی بصری نحوی، بصرہ کے قاریوں کے شیخ‘‘ [3] 2۔ امام ابو عمرو الشیبانی نے کہا: ما رأیت مثل أبي عمرو بن العلاء ’’میں نے ابوعمرو بن علاء جیسا (کوئی) نہیں دیکھا‘‘ [3] 3۔ امام یحییٰ بن معین نے کہا: ’ثقہ‘ [3] 4۔ امام ابوعبیدہ نے کہا: کان أعلم الناس بالقراء ات والعربیۃ والشعر وأیام العرب، وکانت دفاتر ملء بیت إلی السقف، ثم تنسک فأحرقہا۔ کان من أشراف العرب، مدحہ الفرزدق وغیرہ۔[4] 5۔ قال ابو حاتم: لیس بہ بأس اس میں کوئی حراج نہیں 6۔ وقال أبو عمر الشیباني: ما رأیت مثل أبي عمرو میں نے ابو عمرو جیسا کسی کو نہ دیکھا 7۔ امام شعبہ نے کہا: أنظر ما یقرأ بہ أبوعمرو مما یختارہ فاکتبہ، فإنہ سیسیر للناس أستاذا، قال إبراھیم الحربي: کان أبوعمرو من أھل السنۃ۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تہذیب التہذیب ،ابن حجر،جلد 12 صفحہ 178
  2. مقدمات فی علم القراءات،مؤلفین: محمد احمد مفلح القضاة، احمد خالد شكرى، محمد خالد منصور،ناشر: دار عمار - عمان (الاردن)
  3. ^ ا ب پ معرفۃ القراء الکبار:1؍231
  4. ^ ا ب سیر أعلام النبلاء: 6؍408