ابو قتادہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو قتادہ انصاری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 604 (عمر 1416–1417 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو قتادہ انصاری آپ کا نام حارث بن ربعی یا ابن نعمان ہے،کنیت سے زیادہ مشہور ہیں ان کا لقب’’ فارس رسول اللہ‘‘ ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

حارث نام، ابوقتادہ کنیت ،فارس رسول اللہ لقب،قبیلہ خزرج کے خاندان سلمہ سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، حارث بن ربعی بن بلدمہ بن خناس ابن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ بن زید بن جشم بن خزرج ،ابو قتادة الانصاري الخزرجی، ثم من بنی سلمہ، ہے۔ والدہ کا نام کبشہ بنت مظہر بن حرام تھا اوربنو سلمہ میں سواد بن غنم کے خاندان سے تھیں۔[1]

ولادت[ترمیم]

ہجرت سے تقریبا 10سال پیشتر مدینہ میں پیدا ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

غزوہ بدر میں شریک نہ تھے،احد اورخندق اورتمام غزوات میں شرکت کی ،ربیع الاول میں غزوہ ذی قردیا غابہ پیش آیا، اس میں ان کی شرکت نمایاں تھی،آنحضرتﷺ کی اونٹنیاں ذی قردنامی ایک گاؤں میں چرا کرتی تھیں ،آپ کے غلام جن کا نام رباح تھا، ان کے نگران تھے، چند غطفانی چرواہوں کو قتل کرکے اونٹنیوں کو ہانک لے گئے، سلمہ بن ؓ اکوع ایک مشہور صحابی تھے انہوں نے سنا تو عرب کے عام قائدہ کے موافق مدینہ کی سمت رخ کرکے "یا صباحاہ" کے تین نعرے لگائے، اور رباح کو آنحضرتﷺ کے پاس دوڑایا اورخود غطفانیوں کے تعاقب میں رہے،آنحضرتﷺ نے مدد کے لئے 3 سوار بھیجے اور پیچھے خود بھی روانہ ہوئے،سلمہ منتظر تھے،نظر اٹھی توا حرم اسدی، ان کے پیچھے ابوقتادہؓ انصاری اوران کے پیچھے مقدا وکندی گھوڑا اڑاتے چلے آرہے تھے،غطفانی سواروں کو دیکھ کر فرار ہوگئے،لیکن احرم کو شوق شہادت دامنگیر تھا، غفطانیوں کے پیچھے ہولیے،آگے بڑھ کر ان میں عبدالرحمن غطفانی میں مقابلہ ہوگیا اوراحرم شہید ہوگئے، عبدالرحمن ان کا گھوڑا لے جانا چاہتا تھا کہ ابوقتادہ ؓ پہنچ گئے اور بڑھ کر نیزہ کا وار کیا اور عبدالرحمن کا قصہ بھی پاک ہوگیا یہاں سے لوٹے تو رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوئی آپ نے قصہ سن کر فرمایا (کان خیر فرساننا الیوم ابو قتادہ) یعنی آج ابوقتادہ بہترین سوار تھے۔ [2]

شعبان ۸ھ میں آنحضرتﷺ نے نجد کے ایک مقام خضرہ کی جانب ۱۵ آدمیوں کو روانہ فرمایا، حضرت ابوقتادہؓ ان کے امیر تھے ،چھاپہ مارنا مقصود تھا اس لئے رات بھر چلتے اوردن کو کہیں چھپ رہتے تھے، مقام خضرہ میں قبیلہ غطفان آباد تھا،جو غارت گر امن وامان اورمسلمانوں کا قدیم دشمن تھا، حضرت ابو قتادہؓ موقع پاکر اچانک پہنچ گئے ،قبیلہ طاقتور تھا ،بہت سے آدمی جمع ہوگئے اور میدان کار زار گرم ہوگیا؛ لیکن ابو قتادہ نے لوگوں سے کہہ دیا کہ جو تم سے لڑے اس کو مارنا، ہر شخص سے تعرض کی ضرورت نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ کا جلد خاتمہ ہوگیا اور ۱۵ دن کے بعد مالِ غنیمت لے کر صحیح وسالم مدینہ واپس آئے، مال غنیمت میں اونٹ ۲۰۰،بکریاں ۲۰۰۰ اوربہت سے قیدی تھے ۔ اس کا خمس نکال کر باقی وہیں تقسیم کرلیا گیا، حضرت ابوقتادہؓ کے حصہ میں ایک حسین لڑکی بھی آئی تھی، آنحضرتﷺ نے اسے اپنے لئے مانگ کر محمیہ بن ضرہ کو دیدی۔ [3]

اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد رمضان کے مہینہ میں ۸ آدمیوں کا ایک سریہ بطن اخم کی طرف بھیجا، حضرت ابوقتادہؓ اس کے بھی سرگروہ تھے، بطن اخم ذی خشب اور ذی مروہ کے درمیان مدینہ سے ۳ منزل کے فاصلہ پر مکہ کی جانب واقع ہے، آنحضرتﷺ مکہ پر فوج کشی کا ارادہ کرچکے تھے، ان لوگوں کے بھیجنے کا مدعا یہ تھا کہ لوگوں کو مکہ کا خیال نہ آئے اور لڑائی سے پہلے یہ راز کسی طرح فاش نہ ہو ذی خشب پہنچ کر معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ روانہ ہوگئے ،اس لئے یہ لوگ وہاں سے چل کر سقیار میں آنحضرتﷺ کے لشکر کے ساتھ شریک ہوگئے۔ [4]

فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین واقع ہوا، لڑائی اتنی سخت تھی کہ بڑے بڑے جانبازوں کے قدم اکھڑ گئے تھے؛ لیکن حضرت ابو قتادہؓ نے اس میں نہایت شجاعت دکھائی ایک مسلمان اور مشرک میں لڑائی ہورہی تھی،دوسرا مشرک پیچھے سے حملہ کی فکر میں تھا، حضرت ابو قتادہؓ نے مسلمان کو تنہا دیکھ کر اس مشرک پر پیچھے سے حملہ کیا،تلوار کندھے پر پڑی جو ذرہ کاٹتی ہوئی اچٹ کا ہاتھ تک پہنچی اورہاتھ صاف ہوگیا، وہ دوسرے ہاتھ سے دست وگریبان ہوگیا، آدمی تنومند تھا، اس زور سے دبایا کہ حضرت ابو قتادہؓ گھبراگئے؛ لیکن خون زیادہ نکل چکا تھا، اس لئے ابو قتادہؓ نے موقع پاکر قتل کردیا، خود کہتے ہیں کہ مجھے جان کے لالے پڑگئے تھے ؛لیکن قضا اس کی آئی تھی۔

مکہ کا آدمی ادھر سے گذررہا تھا اس نے مقتول کا سارا سامان اتار لیا اس وقت لشکر اسلام میں عجیب سر اسمیگی طاری تھی ،لوگ میدان سے ہٹ رہے تھے، یہ بھی اسی طرف چلے ایک مقام پر حضرت عمرؓ کچھ آدمیوں کے ساتھ کھڑے تھے ان سے پوچھا کیا بات ہے حضرت عمرؓ نے کہا جو خدا کی مرضی ،اتنے میں لوگ پلٹ پڑے اورمیدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا ۔ لڑائی کے بعد آنحضرتﷺ نے اعلان کیا کہ جس نے جس کافر کو مارا ہو اس کا مال و متاع ثبوت کے بعد اس کو دلایا جائے گا، حضرت ابوقتادہؓ نے اٹھ کر کہا میری نسبت کون شہادت دیتا ہے کسی طرف سے آواز نہ آئی ۳۰ مرتبہ ایسا ہی ہوا تو آنحضرتﷺ نے فرمایا ابوقتادہؓ ! کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے سار قصہ گوش گذار کیا، ایک شخص بولا سچ کہتے ہیں ان کا سامان میرے پاس ہے،لیکن ان کو راضی کرکے مجھے دلوادیجئے، حضرت ابوبکرؓ نے کہا یہ بے انصافی ہے کہ خدا کا شیر امارت اورمال سے محروم رہے اور قریش کی ایک چڑیا مفت میں مزے اڑائے ،آنحضرتﷺ نے فرمایاحقیقت یہی ہے بہتر ہے کہ ان کا مال انہی کو دے دو۔ حضرت ابوقتادہؓ نے اس کو فروخت کرکے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا،قبول اسلام کے بعد جائداد خرید نے کی یہ پہلی بسم اللہ تھی۔

عام حالات[ترمیم]

اپنے وقت کے بہترین شہسوار اور تیز انداز تھے۔ یہ پہلے شخص تھے جنھوں نے مال غنیمت بیچ کر اپنے لیے ایک باغ خریدا اور اسلامی تاریخ میں جائداد بنانے کی مثال قائم کی۔ تقریبا 150 احادیث آپ سے مروی ہیں۔ مدینہ میں انتقال فرمایا۔ حضرت علی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ عہد نبوت کے بعد علی المرتضیٰ کے زمانہ مبارک میں امارت مکہ پر نامزد ہوئے تھے،لیکن پھر کسی وجہ سے قثم بن عباس امیر بنائے گئے، یہ 36ھ کا واقعہ ہے، اسی سنہ میں جنگ جمل اوردوسرے سال صفین کا معرکہ ہوا، ابو قتادہ دونوں میں شریک ہوئے 38 ھ میں خوارج نے علم بغاوت بلند کیا، جناب علی نے جس فوج کے ساتھ فوج کشی کی تھی، ابو قتادہ اس کے پیادوں کے افسر تھے۔

وفات[ترمیم]

سنہ وفات میں سخت اختلاف ہے بعض کے نزدیک 40ھ ہے ،ان لوگوں کے نزدیک کوفہ میں انتقال کیا تھا اور جناب علی نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں 6 یا 7تکبیریں کہیں،لیکن صحیح یہ ہے کہ 50 ھ اور 60 ھ کے درمیان انتقال کیا، امام بخاری نے اوسط میں یہی لکھا ہے اوراس پر دلائل قائم کیے ہیں۔

حلیہ[ترمیم]

حلیہ مفصل مذکور نہیں،اتنا معلوم ہے کہ گردن تک بال رکھتے تھے جس کو جمہ کہتے ہیں کبھی کبھی کنگھی کرتے،آنحضرتﷺ نے ایک مرتبہ پراگندہ مودیکھا تو فرمایا ذرا ان کو تو درست کرو، آدمی بال رکھے تو ان کی خبر گیری بھی کرے، ورنہ رکھنے سے کیا فائدہ اس سے تو گھٹا ہوا سر اچھا ہے۔

اولاد[ترمیم]

چار بیٹے تھے، عبداللہ،معبد،عبدالرحمن ثابت،موخرالذکرام ولد سے تولد ہوئے تھے بیوی کا نام سلافہ بنت براء بن معروربن صخر تھا[5]، خاندان سلمہ کے نہایت ممتا ز گھرانے سے تھیں ،جو خود صحابیہ اورجلیل القدر صحابی کی لڑکی تھیں۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

اخوت اسلامی کا یہ حال تھا کہ ایک انصاری کا جنازہ آنحضرتﷺ کے پاس نماز کے لیے لایا گیا آپ ﷺنے پوچھا اس پر قرض تو نہیں، لوگوں نے کہا دو دینار (1روپے) ہیں، فرمایا کچھ چھوڑا بھی ہے؟ جواب ملا کچھ نہیں، ارشاد ہوا کہ تم لوگ نماز پڑھ لو، ابو قتادہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں قرض ادا کردوں تو آپ نماز پڑھائیں گے،فرمایا ہاں ،چنانچہ انہوں نے قرض ادا کرکے آنحضرتﷺ کو خبر کی، اس وقت آپ نے جنازہ منگا کر نماز پڑھی۔[6] ایک مسلمان پر ان کا کچھ قرض تھا، جب یہ تقاضا کرنے جاتے تو وہ چھپ رہتا،ایک روز گئے تو اس شخص کے لڑکے سے معلوم ہوا کہ گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں، پکار کر کہا، نکلو مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپنا بیکار ہے، جب وہ آیا تو چھپ رہنے کی وجہ پوچھی ،اس نے کہا بات یہ ہے کہ میں تنگدست ہوں، میرے پاس کچھ نہیں ہے اس کے ساتھ عیال دار بھی ہوں، پوچھا واقعی تمہارا حال خدا کی قسم ایسا ہی ہے، بولا ہاں، ابوقتادہ آبدیدہ ہو گئے اوراس کا قرض معاف کر دیا۔[7] حضرت ابوبکرؓ نے جب مرتدین کے مقابلہ کے لیے لشکر بھیجا تھا تو حضرت خالدؓ کو لکھا کہ وہ مالک بن نویرہ یربوعی کی طرف جائیں، انہوں نے کسی وجہ سے مالک کو جس نے اسلام قبول کر لیا تھا، قتل کرڈالا، حضرت ابوقتادہؓ کو اتنی ناگواری ہوئی کہ انہوں نے بارگاہ خلافت میں عرض کیا کہ میں ان کی ماتحتی میں نہ رہوں گا انہوں نے ایک مسلمان کا خون کیا ہے۔[8]

وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں امر بالمعروف کا خیال رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ چھت پر کھڑے تھے کہ ستارہ ٹوٹا، لوگ دیکھنے لگے فرمایا اس کا زیادہ دیکھنا منع ہے۔ [9] اکثر خدمت رسول اللہ ﷺ کی سعادت بھی حاصل ہوتی تھی، ایک سفر میں آنحضرتﷺ کے ساتھ تھے ،آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ پانی کی خبر لو ورنہ سویرے پیاسے اٹھوگے، لوگ پانی ڈھونڈنے نکل گئے،لیکن حضرت ابو قتادہؓ موکب نبوی کے ساتھ رہے، آنحضرتﷺ اونٹ پر سوار تھے، جب آپ اونگھ میں کسی طرف جھکتے تو یہ بڑھ کر ٹیک لگادیتے ، ایک دفعہ گرنے کے قریب تھے انہوں نے ٹیک لگائی،آپ کی آنکھ کھل گئی ،فرمایا کون؟عرض کیا ابوقتادہ فرمایا کب سے میرے ساتھ ہو کہا شام سے، آنحضرتﷺ نے دعا دی حفظک اللہ کما حفظت رسولہ! جس طرح تم نے میرے نگہبانی کی خدا تمہارا نگہبان رہے۔ [10] فطرۃ نہایت رحیم تھے، جانورں تک پر رحم کرتے تھے،ایک مرتبہ اپنے بیٹے کے گھر گئے بہو نے وضو کے لئے پانی رکھا، بلی آئی اور منہ ڈال کر پانی پینے لگی، حضرت ابو قتادہؓ نے بھگانے کی بجائے برتن اس کی طرف جھکا دیا کہ خوب اچھی طرح پی لے، بہو کھڑی ہوئی یہ تماشا دیکھ رہی تھی، کہا بیٹی اس میں تعجب کی کیا بات ہے، آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ نجس نہیں، وہ تو گھروں کی آنے جانے والی ہے۔ [11] شکار کا بے حد شوق تھا ،ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کے ہمراہ مکہ جارہے تھے راستہ سے کچھ ساتھیوں کو لے کر نکل گئے، علاقہ پہاڑی تھا، ان کو پہاڑ پر تیزی سے چڑھنے کی مشق تھی، دوستوں کو لے کر پہاڑ پر تفریحاً چڑھے کہ ایک جانور نظر آیا، انہوں نے بڑھ کر دیکھا اور پوچھا بتاؤ کون جانور ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ٹھیک نہیں بتا سکتے،بولے گور خر ہے، پہاڑ چڑہتے وقت کوڑا بھول آئے تھے، ساتھیوں سے کہا میرا کوڑا لاؤ، یہ لوگ احرام باندھ چکے تھے، اس بنا پر شکار میں شریک نہیں ہوسکتے تھے، اس لئے خود نیزہ لے کر گورخر کے تعاقب میں روانہ ہوئے اوراس کو شکار کرکے ساتھیوں کو آوازدی کہ اس کے اٹھانے میں ہاتھ بٹاؤ، لیکن اس میں بھی کسی نے مدد نہ کی، آخر خود اٹھا کر لائے اور گوشت پکایا لوگوں کو کھانے میں بھی تامل ہوا۔ بعضوں نے کھایا اوربعض محترز رہے، حضرت ابو قتادہؓ نے کہا اچھا ! تھوڑی دیر میں بتاؤں گا،رسول اللہ ﷺ سے چل کر پوچھتا ہوں،چنانچہ جب آپ سے ملاقات ہوئی تو اس واقعہ کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا اس کے کھانے میں کیا مضائقہ ہے، خدا نے تمہارے لئے بھیجا تھا، اگر کچھ باقی ہو تو میرے لئے لاؤ، لوگوں نے پیش کیا، آپ نے صحابہ سے فرمایا :اس کو کھاؤ۔ [12] نہایت ملنسار تھے، اس لئے احباب کا ایک حلقہ تھا، حدیبیہ میں جب آنحضرتﷺ کے ساتھ مکہ جارہے تھے تو راستہ میں دوست احباب ہنستے اورمذاق کرتے جاتے تھے، [13] ابو محمد بھی ان کی مجلس کے ایک رکن تھے۔ [14]

فضل وکمال[ترمیم]

گو حضرت ابوقتادہؓ قرآن مجید اوراحادیث نبوی کی اشاعت کے فرض سے غافل نہ رہے،لیکن روایت حدیث میں نہایت محتاط تھے،ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرتﷺ سے کذب علی الرسول کی حدیث سنی تھی اس وقت سے وہ حدیث کے باب میں نہایت محتاط ہوگئے تھے۔ [15]

تابعین کی ایک مجلس میں حدیث کا چرچا تھا، ہر شخص قال اللہ کذا، قال اللہ کذا کہہ رہا تھا، حضرت ابوقتادہؓ نے سن کر فرمایا،بدبختو!منہ سے کیا نکال رہے ہو؟ آنحضرتﷺ نے جھوٹی حدیث بیان کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی ہے۔ [16] لیکن اس احتیاط کے باوجود ان کے مرویات کی تعداد ۱۷۰ ہے ،راویوں میں صحابہ کبار اور تابعین عظام داخل ہیں، حضرت انس بن مالکؓ ،حضرت جابر بنؓ عبداللہ، ابو محمد نافع بن الاقرع(ان کے آزاد کردہ تھے) سعید بن کعب بن مالک (بہو کے بھائی تھے)کبشہ بنت کعب بن مالک (بہو تھیں) عبداللہ بن رباح، عطار بن یسار، ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، عمربن سلیم زرقی عبداللہ بن معبد زمانی،محمد بن سیرین، بنہان مولی اثوامہ،سعید بن مسیب،ابن منکدر کہ سپہر حدیث کے آفتاب و ماہتاب ہیں،ان کے لمعاتِ فضل سے مستغنی نہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. (مسلم:۲/۱۰۱)
  3. (طبقات حصہ مغازی)
  4. (طبقات حصہ مغازی:۹۶)
  5. (طبقات ابن سعد:/۲۰۳)
  6. مسند:5/295
  7. مسند:5/318
  8. تاریخ یعقوبی:2/148
  9. (مسند:۵/۲۹۹)
  10. (مسند:۵/۲۹۷)
  11. (مسند:۵/۳۰۳)
  12. (بخاری:۹/۵۲۸، ۲۶ فتح الباری)
  13. (مسند:۵/۳۰۱)
  14. (مسند:۵/۲۹۵)
  15. (مسند ابن حنبل:۷۹۲)
  16. (مسند ابن حنبل:۳۱۰)