مندرجات کا رخ کریں

ابو مظفر اسفرائینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو مظفر اسفرائینی
(عربی میں: أبو المظفر شاهفور بن طاهر بن محمد الإسفراييني ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
وفات سنہ 1078ء [1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طوس   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب الإمام الكبير، حجة [3]

ابو مظفر شاہفور ابن طاہر بن محمد اسفرائینی ایک مسلم اصولی عالم (علم اصول الفقه اور علم اصول الدين میں مہارت رکھنے والے)، مفسر اور شافعی فقہا میں سے ایک فقیہ تھے۔ وہ علم اصول الدین اور علم کلام کے بڑے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔ ابن عساکر نے اپنی کتاب «تبيين كذب المفتري في ما نسب إلى الإمام الأشعري» میں انھیں چوتھی طبقه کے اشاعره میں شمار کیا ہے اور انھیں امامِ کامل، فقیہ، اصولی اور مفسر قرار دیا ہے۔ [4] انھوں نے اصم کے شاگردوں اور ابو علی الرفاء کے شاگردوں سے حدیث سنی۔ ان کا امام ابو منصور بغدادی کے ساتھ رشتہ مصاہرت بھی تھا اور ان سے مبارک نسل آگے بڑھی۔ ان کی اولاد اور دیگر نسل بلخ کے معزز اور معروف افراد میں شمار ہوتی تھی اور وہ اس شہر کے نامور علما اور ائمہ میں شامل تھے۔[5]

تصانیف

[ترمیم]

امام ابو المظفر الاسفراييني نے اصول، تفسیر اور عقائد کے موضوعات پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔ تاہم، ان کی بیشتر تصانیف ضائع ہو چکی ہیں اور جو چند محفوظ رہیں، وہ درج ذیل ہیں:

  1. . التبصير في الدين وتمييز الفرقة الناجية عن الفرق الهالكين – (دین میں بصیرت اور نجات یافتہ فرقے کی پہچان)
  2. . الأوسط – امام اسفراييني نے اپنی مختلف تصانیف میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب عقائد اور ادیان و ملل کے موضوع پر لکھی گئی تھی۔
  3. . تاج التراجم في تفسير القرآن الكريم للأعاجم – (غیر عربوں کے لیے قرآن کریم کی تفسیر)، یہ کتاب متعدد بار طبع ہو چکی ہے۔

علما کا امام ابو المظفر الاسفرائينی کے بارے میں تأثر

[ترمیم]

متعدد جلیل القدر علما نے امام ابو المظفر الاسفرائينيی کی مدح و توصیف بیان کی ہے:

  • امام ذہبیؒ نے فرمایا:

"علامہ، مفتی، ابو المظفر طاہر بن محمد الاسفراييني، پھر الطوسی الشافعی، "التفسير الكبير" کے مصنف، جلیل القدر علما میں سے ایک تھے۔ انھوں نے ابن محمش اور اصم کے شاگردوں سے حدیث روایت کی اور زاہر الشحامی اور دیگر نے ان سے روایت کی۔ ان کا استاذ ابو منصور بغدادی سے رشتہ مصاہرت تھا۔ وہ 471 ہجری میں طوس میں وفات پا گئے۔"[6]

  • داوُدی نے کہا:

"وہ ایک کامل امام، فقیہ، اصولی اور مفسر تھے، جنھوں نے نہایت عالمانہ انداز میں "التفسير الكبير" تحریر کیا اور اصول الفقه پر بھی تصنیف کی۔ انھوں نے علم کے حصول کے لیے سفر کیے اور وافر مقدار میں علم حاصل کیا۔ نظام الملک نے انھیں طوس میں متعین کیا، جہاں انھوں نے کئی سال تدریس کی اور لوگوں کو بہت زیادہ نفع پہنچایا۔"[7]

  • تاج الدین السبکیؒ نے فرمایا:

"وہ ایک اصولی، فقیہ اور مفسر تھے، جنہیں نظام الملک نے طوس میں متعین کیا۔ عبد الغافر نے کہا: انھوں نے "التفسير الكبير" تصنیف کیا اور اصول الفقه پر بھی لکھا۔ وہ اصم کے شاگردوں سے حدیث روایت کرتے تھے اور ابو منصور بغدادی کے ساتھ رشتہ مصاہرت رکھتے تھے۔ وہ 471 ہجری میں وفات پا گئے۔"[8]

  • امام محی الدین نوویؒ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا:

"امام ابو المظفر الاسفراييني ہمارے خراسانی متکلمین میں سے ایک جلیل القدر امام تھے۔"

وفات

[ترمیم]

امام ابو المظفر الاسفرائينی رحمہ اللہ نے 471 ہجری میں طوس میں وفات پائی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ناشر: او سی ایل سی — وی آئی اے ایف آئی ڈی: https://viaf.org/viaf/39687215 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 مئی 2018
  2. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb15529131v — بنام: Šahfūr ibn Ṭāhir ibn Muḥammad Isfarāyīnī — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. التبصير في الدين وتمييز الفرقة الناجية عن الفرق الهالكين. آرکائیو شدہ 2016-09-29 بذریعہ وے بیک مشین
  4. تبيين كذب المفتري، ابن عساكر، ص: 276.
  5. طبقات المفسرين، الداودي. آرکائیو شدہ 2016-06-16 بذریعہ وے بیک مشین
  6. سير أعلام النبلاء، الذهبي. آرکائیو شدہ 2018-01-01 بذریعہ وے بیک مشین
  7. طبقات الشافعية الكبرى، تاج الدين السبكي. آرکائیو شدہ 2018-01-01 بذریعہ وے بیک مشین
  8. "شرح صحيح مسلم للإمام النووي (1/338)"۔ الموسوعة الشاملة۔ 2018-01-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا

بیرونی روابط

[ترمیم]