ابو نخیلہ راجز
| ابو نخیلہ راجز | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| تاریخ پیدائش | غير معلوم |
| وفات | سنہ 762ء خراسان |
| شہریت | سلطنت امویہ |
| نسل | عربي |
| عملی زندگی | |
| صنف | شعر عربی تقليدی سیاسی شاعری |
| ادبی تحریک | الشعر في العصر العباسي الأوَّل |
| پیشہ | شاعر |
| درستی - ترمیم | |
ابو نخیلَہ راجز (؟ – 145ھ / 762ء) ایک عرب شاعر تھا، جو مخضرمین میں شمار ہوتا ہے۔ اُس نے اموی دور کے اختتام اور عباسی دور کے آغاز کو پایا۔ اُس کی شاعری پر سیاسی موضوعات کا غلبہ تھا، یہاں تک کہ اس کی ایک نظم نے ایک گورنر کو ناراض کر دیا، جس کے نتیجے میں اُسے قتل کروا دیا گیا۔
حالات زندگی
[ترمیم]ابو نخیلہ اصل نام ہی تھا، یہ کوئی کنیت نہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس کا نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس کی ماں نے اسے ایک کھجور کے درخت کے نیچے جنم دیا تھا۔ اُس کا پورا نسب کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے: ابو نُخیلہ بن حَزْن بن زائِدَہ بن لَقِيط بن ہدْم اور اُس کی کنیت ابو جُنَید تھی، جبکہ ابو عَرماس بھی اُسے کہا جاتا ہے، جو اس کے بیٹوں کے ناموں پر مبنی ہیں۔ اُس کا تعلق بنی حمان قبیلے سے تھا، جو بنی تمیم کی ایک شاخ ہے۔[1][2]
ابو نُخیلہ نے اپنی ابتدائی زندگی بصرہ میں گزاری۔ اُس کی تاریخ پیدائش محفوظ نہیں، لیکن غالب گمان ہے کہ وہ پہلی صدی ہجری کے وسط میں پیدا ہوا۔ اُس کا رنگ سیاہ تھا اور وہ شکل و صورت کے لحاظ سے بدصورت سمجھا جاتا تھا، جس کا ذکر وہ خود بھی اپنی شاعری میں کرتا ہے۔
اُس کا اپنے والد سے تعلق اچھا نہ تھا۔ روایات کے مطابق وہ نافرمان تھا، یہاں تک کہ اس کے والد نے اُسے عاق کر دیا۔ اس کے بعد وہ بصرہ چھوڑ کر شام چلا گیا، جہاں اُسے امویوں کے دورِ حکومت میں مسلمہ بن عبد الملک کی سرپرستی حاصل ہوئی، جس نے اُسے دربار تک پہنچایا۔
جب عباسیوں نے اقتدار سنبھالا، تو ابو نُخَیلَہ نے فوراً اُن کی وفاداری کا اعلان کیا اور عباسی خلفاء کی مدح اور بنو امیہ کی ہجو کہنا شروع کر دیا۔ اس نے خود کو "شاعر بنی ہاشم" کہنا شروع کر دیا۔[3]
سیاست اور موت
[ترمیم]ابو نُخیلہ کی عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور سے قربت تھی، مگر ولی عہد عیسیٰ بن موسیٰ سے اُس کے تعلقات خراب تھے۔ ابو نخیلَہ نے ایک ارجوزہ (رجزی نظم) لکھی، جس میں اُس نے ابو جعفر کو مشورہ دیا کہ وہ عیسیٰ کو ولی عہدی سے ہٹا کر خلافت صرف اپنے بیٹوں تک محدود کر دے۔
یہ بات عیسیٰ کو بہت ناگوار گذری اور اُس نے ابو نُخیلَہ کا پیچھا کروایا۔ ابو نُخیلہ خراسان بھاگ گیا، لیکن عیسیٰ کے ایک غلام نے وہاں جا کر اُسے قتل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس کا سر قلم کیا گیا اور چہرے کی کھال اُتاری گئی۔ یہ واقعہ 145ھ میں پیش آیا۔[1]
شاعری اور ورثہ
[ترمیم]ابو نُخَیلَہ کی زیادہ تر شاعری رجز کی صنف میں ہے۔ اُس کا کلام زیادہ تر مدح (تعریف) اور ہجو (تنقید) پر مشتمل ہے۔ اُس نے کچھ غزلیں بھی کہیں اور خود اپنے کمالات، شاعری، انسان اور قدرت کی خوبصورتی کا ذکر بھی کیا۔ اُس کے اشعار میں نادر اور مشکل الفاظ کا استعمال زیادہ ہے، اسی لیے اُس کے اشعار کو لغت دانوں میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔
عہدِ جدید میں اُس کی شاعری پر عدنان خطيب نے کام کیا، 1993ء میں اُس کے اشعار جمع کیے اور 1998ء میں ایک مکمل دیوان کی صورت میں شائع کیا، جس میں اُس کی زندگی اور شاعری پر تفصیلی تحقیق بھی شامل ہے۔ اس کام پر اُسے معہد مخطوطات عربیۃ (عرب مخطوطات ادارہ) کی جانب سے ایوارڈ بھی دیا گیا۔[4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب "أبو نُخَيلة (الراجز)". الموسوعة العربية (بزبان العربية). Archived from the original on 10 مارس 2020. Retrieved 10 ديسمبر 2016.
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(help)اسلوب حوالہ: نامعلوم زبان (link) - ↑ عفيف عبد الرحمن، مُعجم الشعراء العباسيين. جروس برس - طرابلس. دار صادر - بيروت. الطبعة الأولى - 2000. ص، 555
- ↑ عفيف عبد الرحمن، ص. 555-556
- ↑ السوري عدنان الخطيب يفوز بجائزة معهد المخطوطات العربية. هالة خوري، مقال نُشِر على جريدة "الشرق الأوسط"، العدد: 8240، 20 يونيو 2001. اطلع عليه بتاريخ: 10 ديسمبر 2016 آرکائیو شدہ 2019-12-16 بذریعہ وے بیک مشین