ابیونی فرقہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ابیونی فرقہ مسیحیت کا ایک قدیم ترین فرقہ تھا جو اب معدوم ہو گیا ہے۔ اس کے دو فریق تھے دونوں کا یہ اعتقاد تھا کہ سیدنا مسیح بشر تھے خدا نہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنہوں نے سید مسیح کو خود دیکھا اور ان سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا۔ سیدنا مسیح کی پیدائش کو مافوق الفطرت مانتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ مقدس یوسف سیدنا مسیح کے باپ ضرور تھے لیکن کنواری مریم کا حمل روح القدس کے ذریعہ ہوا۔ یہ فرقہ اس بات کا بھی معتقد تھا کہ سیدنا مسیح صلیب پر چڑھ جانے کی وجہ سے تمام انسانوں کے گناہوں کا کفارہ بن گئے ہیں۔

جے۔ ایم۔ رابرٹسن ابیونی فرقے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ”یہ لوگ مسیح کی خدائی کا انکار کرتے تھے اور پولس کو رسول تسلیم نہ کرتے تھے۔ “[1]

ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ یسوع انسان تھے جسے معجزات دیے گئے تھے۔ یہ لوگ پولس کے بارے میں تسلیم نہ کرتے تھے کہ وہ موسوی دین سے برگزشتہ ہوکر مسیحی ہو گیا تھا۔ اور یہ لوگ خود شریعت موسوی کے احکام اور رسموں یہاں تک کہ ختنہ پر بھی مضبوطی کے ساتھ کاربند تھے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. A Short History of Christianity (London), 1913 Pg.5, by J. M. Robertson
  2. انسائکلوپیڈیا برٹانیکا، ص 881، جلد 7