اثری مکتب فکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اثری عالمانہ اسلامی تحریک ہے جو آٹھویں صدی میں شروع ہوئی۔ یہ تحریک قرآن اور حدیث کے متن کے خلاف تمام اسلامی عقلی دلائل کو مسترد کرتی ہے۔[1][2]

اثری تحریک کے پیرو مانتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے ظاہر مطالب عقیدہ اور قانون کے متعلق حاکم اور مستند بنیادی ماخذ ہیں نیز یہ کہ سچ کو ماپنے کے لیے عقلی مباحثوں کا استعمال بھی ممنوع ہے۔[3] اس تحریک کے ماننے والے قرآن پر لفظ بہ لفظ عمل پر یقین رکھتے ہیں اور تاویل یعنی تفسری اور استعاری معانی کے خلاف ہیں۔ وہ عقل کے مطابق قرآن کے تصوراتی معانی کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ انکا عقیدہ ہے کہ قرآن کے ظاہری مطالب کے علاوہ تمام چھپے مطالب جاننا خدا کے لیے تفویض ہے۔[4] دراصل قرآن اور حدیث کو بلاکیف اور کیوں مانتے ہیں۔

اثری تحریک ان حدیث کے علما سے نکلی ہے جو امام احمد بن حنبل کی سربراہی میں بننے والے فرقہ اہل الحدیث سے تعلق رکھتے ہیں۔[5] عقائد کے معاملے میں یہ لوگ معتزلہ کے عقائد اور مزید ملتے جلتے عقلی دلائل کے خلاف ہیں۔[5] دسویں صدی میں اشعری اور ماتریدی فرقوں نے معتزلہ اور اور حنبلی مکتب فکر کی ملتی جلتی تعلیمات اپنا لیں۔ اور معتزلہ کی عقلی تاویلات کو اپنا کر اثری مکتب فکر کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔[6] مگر حنبلی مکتب فکر کے مرکزی علمانے اسے مسترد کر دیا اگرچہ ان کی تعداد بہت کم تھی اور عباسی دور کے بغداد میں ان کی جذباتی سوچ دین کے معاملے میں اثر انداز رہی۔[7]

جبکہ اشعری اور ماتریدی مکاتب فر جسے راسخ العقیدہ سنی مکتب فکر بھی کہا جاتا ہے وہ بھی ساتھ ساتھ فروغ پاتی رہی۔[8]

تاریخ[ترمیم]

آٹھویں صدی کے آخر میں حدیث کے علما جو قرآن اور مستند احادیث کو ہی دینی قانون کے لیے قابل قبول سمجھتے تھے ان علما سے یہ مشترکہ طور پر یہ تحریک شروع ہوئی۔[5] شروعات میں دینی مدارس میں یہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں جاری ہوئی مگر نویں صدی کے شروع میں احمد بن حنبل کی سرکردگی میں یہ تحریک بڑے پیمانے پر اہل حدیث کے نام سے شروع ہوئی۔[5] عراق کے حنفی مفتیوں اور مدینہ کے مالکی مفتیوں کی طرف سے اس تحریک پر قانونی معاملات میں اپنی رائے کے استعمال پر بہت تنقید ہوتی رہی ہے۔[5] اور اللہ کے کلام کے حق میں قیاس کے استعمال پر بھی سخت مخالف رہے ہیں۔[5] عقیدہ کے مقابلہ میں یہ روایت پرست لوگ معتزلہ اور دوسرے مکتب کے عقیدہ کے متعلق سوچ اور عقلی طریقوں کے استعمال کے سخت مخالف ہیں۔[5]

ان روایتیوں کو حکومتی احکامات کی حمایت نا کرنے کی بنا پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔[5] انہیں اچھائی کا درس دو اور برائی کو چھوڑ دو اور رہبانیت کی تعلیم اور آلات موسیقی بزور توڑنے شطرنج اور شراب خانوں پر مسلح حملے کرنے کی تعلیم دینے پر سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔[5] خلیفہ مامون الرشید نے 833ء میں تمام دینی علما پر معتزلہ فکر اپنانے کی کوشش کی اور ایک قانون محنہ بنایا جس میں معتزلہ کے تمام عقائد ماننے اور قرآن کو مخلوق ماننا لازمی قرار دیا گیا۔[9] ابن حنبل کو اثری تحریک کا سربراہ ہونے کی وجہ سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ مانتے تھے کہ قرآن غیر مخلوق ہے اور ہمیشہ سے خدا کے ساتھ ہے۔[10] معتزلہ قانون 851ء تک حکومت کا حصہ رہا تاہم اس کا اصل مقصد حکومتی رٹ کو مضبوطی سے قائم رکھنا اور اثری تحریک کو سختی سے دبانا رہا ہے۔[11]

اگلی دو صدیوں نے اہل سنت کے طلوع ہونے کو دیکھا اور آہستہ آہستہ حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی مذاہب کو قرآن اور حدیث کے متعلق روایت پرستوں (اہل اثر) پر اعتماد ہونا شروع ہو گیا۔ اور فقہ میں قیاس کا استعمال مناسب سمجھا جانے لگا۔[12] ابو الحسن اشعری (874ء-936ء) نے دین میں معتزلہ کے عقلی دلائل اور حنبلی روایتی علم کے درمیان میں قدر مشترکہ کو اپنایا[6] جبکہ ابو منصور ماتریدی (متوفیٰ 944ء) نے ایک مخالفی عقیدہ شروع کیا جس میں حنابلہ اور معتزلہ میں سے ایک عقیدہ کو ماسوائے حنبلی اور شافعی لوگوں کے تمام سنی مذاہب کے پیروکاروں نے قبول کر لیا۔[6]

گو کہ وہ علما جنہوں نے اس اشعری/ماتریدی مکتب فکر کو مسترد کر دیا تھا اور ان کی تعداد قلیل تھی مگر ان کی فکری اور جذباتی تحریک کا اثر بغداد اور گردونواح میں جاری رہا۔[13] نویں صدی کے آخر سے گیارہویں صدی تک یہ تحریک گاہے بگاہے سر اٹھاتی رہی۔ خاص طور پر جب سرعام علمائے دین میں عقل کے استعمال کے دلائل دیتے تو ایسے علما کی بعض لوگ مخالفت کرتے۔[14]

خلیفہ المتوکل نے جب عقلی استدلال ممنوع کر دیے تو عباسی خلفا نے اثری تحریک کی حمایت شروع کر دی۔[14] گیارہویں صدی کے عباسی خلیفہ القادر نے عوام میں کھلے عام عقلی عقائد کی تبلیغ منع کر دی۔[15] مگر گیارہویں صدی کے آخر میں سلجوک بادشاہ نظام الملک نے اشعری تعلیمات کے فروغ کی حمایت کی اور دوسرے علاقوں سے اشعری علما کو بغداد میں تبلیغ کی دعوت دی۔ اسی بنا پر ایک دفعہ شہر میں خانہ جنگی شروع ہوئی جو پانچ ماہ جاری رہی۔[15]

اشعریت اور ماتریدیت کو راسخ العقیدہ سنی جہاں کہا جاتا ہے وہیں روایت پسند (اہل اثر) بھی راسخ العقیدہ کہے جاتے۔[8] زمانہ جدید میں یہ غیر متناسب طور پر اثر انداز ہوئی جبکہ وہابی اور سلفی عقائد سے تائید پاکر حنبلی مکتب فکر کو شہرت ملی۔[16]

عقائد[ترمیم]

قرآن کے متعلق[ترمیم]

اثری عقائد کے مطابق قرآن سارے کا سارا غیر مخلوق ہے۔[17][18] احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ ”قرآن خدا کا کلام ہے جو اس نے بیان کیا ہے یہ مخلوق نہیں اور جو قرآن کو مخلوق مانتے ہیں وہ جہمی اور بے دین ہیں اور جو صرف یہ کہتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور ساتھ یہ نہیں کہتے کہ مخلوق نہیں وہ پہلوں سے بھی بدتر ہیں۔“[19]

کلام اور فہم انسان[ترمیم]

اثریوں کے نزدیک انسانی فہم کا اثبات نہایت محدود ہے۔ اس لیے انسانی دلائل کو عقائد کے معاملے میں معتبر نہیں سمجھا جا سکتا۔[3] عقلی ثبوت جب تک قرآن کے تابع نا ہوں ان کا پختہ ہونا غیر ممکن ہے۔[20] مگر ایسا ماننا ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا بہت اسے اثری علما کلام میں تحقیق کر چکے ہیں گو وہ مانیں نا۔[21]

مثال کے طور پر حنبلی صوفی عالم خواجہ عبد اللہ انصاری اور حنبلی فقیہ ابن قدامہ[22] نے کلام اور انسانی عقل کے استعمال کے خلاف کتاب لکھی۔[23] ابن قدامہ کہتے ہیں کہ یہ تحریک تمام بدعتوں سے بدتر ہے۔ ابن قدامہ نے اس تحریک کے تمام بانیوں، علما اور ماننے والوں پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے یہ تحریک ابتدائی نیک و پرہیزگار مسلمانوں کی سخت ہتک ہے مزید ابن قدامہ لکھتے ہیں کہ اس تحریک کے ماننے والے اس دنیا میں سب سے زیادہ قابل نفرت ہیں اور اگلے جہان میں بھی مزید نفرت اور سزا ان کا مقدر ہوگی، ان میں سے کسی کو بھی ترقی نہیں ملے گی اور کوئی ایک بھی صراط مستقیم پر نہیں چلتا۔[24]

خدا کی صفات کے متعلق نظریہ[ترمیم]

اثری عقیدہ کے مطابق خدا کی صفات موجود ہیں اور یہ خدا ہی کی طرح ابدی اور غیر فانی ہیں۔ اور قرآن کی آیات اور حدیث کو بنا کسی عقلی استدلال کے جوں کا توں مانتے ہیں۔[25]

اثریوں کے مطالق خدا اور اس کی صفات کے اصل مطالب و مقاصد سوائے خدا کی ذات کے کسی کو معلوم نہیں ہو سکتے اور ان کا تعلق خدا کی وحدانیت سے ہے اس نظریہ کے مطابق ہر ایک قرآن کو بنا کسی قولی و عقلی پرکھ کو ماننے سچا اور محترم اور پاک مانے۔[26]

احمد بن حنبل بیان کرتے ہے کہ "اس کی تمام صفات اس کی ذاتی ہیں اور اس سے نکلتی ہیں۔ ہم انسانون کو قرآن، پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے فعل سے دور نہیں جانا چاہیے۔ اور نا ہی ہم جانتے ہیں کہ رسول اور قرآن ان صفات کی تائِید اور کیسے مانتے ہیں۔“[27]

ابن قدامہ مقدسی کے مطابق ”ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہی نہیں کہ اللہ کی صفات سے مراد کیا ہے اور چونکہ ان کے ساتھ کوئی عمل اور فعل مخصوص نہیں اس لیے انہیں جوں کا توں ماننا لازمی ہے۔[28]

اثری علما تشبیہی اصطلاحات کو بہت مانتے ہیں مگر یہ تمام علما مجموعی طور پر اثری تحریک کی نمائندگی نہیں کرتے۔[29]

ایمان کے متعلق[ترمیم]

اثری مانتے ہیں کہ ایمان فرض اور عمل یعنی پنج وقتہ نماز قرآن وغیرہ سے کم یا زیادہ ہو جاتا ہے،[30][31] ان کا ماننا ہے کہ ایمان دل میں ہوتا اور زبان اظہار کرتی اور عمل اس کا ثبوت ہوتے ہیں۔[19]

توحید پر اختلاف[ترمیم]

اثری مکتب کے علما کے نزدیک توحید کی تین اقسام ہیں۔ توحید الربوبیہ یعنی اللہ کی وحدانیت سے مراد اللہ اس جہان کا مالک اور تخلیق کرنے والا ہے، توحید الوہیہ یعنی صرف اللہ عبادت کے لائق ہے اور توحید الاسماء و الصفات یعنی اللہ کے نام اور صفات اللہ سے نکلے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں اور کسی میں کوئی تضاد نہیں۔[32] ابن تیمیہ نے پہلی دفعہ اس اختلاف کو بیان کیا ہے۔[32][33]

تنقید[ترمیم]

سولہویں صدی کے سنی عالم ابن حجر ہیتمی نے ابن تیمیہ کے متعلق اثری خیالات کی تردید کی ہے۔[34] مزید یہ کہ عقلی تحریک کے مخالفین اور اثریہ ہی دراصل وہ ذرائع ہیں جن پر اسلامی خیالات کی بنیاد ہے۔[35]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Abrahamov (2014)
  2. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 36۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔ The Atharis can thus be described as a school or movement led by a contingent of scholars (ulama), typically Hanbalite or even Shafi'ite, which retained influence, or at the very least a shared sentiment and conception of piety, well beyond the limited range of Hanbalite communities. This body of scholars continued to reject theology in favor of strict textualism well after Ash'arism had infiltrated the Sunni schools of law. It is for these reasons that we must delineate the existence of a distinctly traditionalist, anti-theological movement, which defies strict identtification with any particular madhhab, and therefore cannot be described as Hanbalite.
  3. ^ ا ب Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 36۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  4. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحات 36–37۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  5. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح Lapidus (2014)
  6. ^ ا ب پ Blankinship (2008); Lapidus (2014)
  7. Halverson (2010)
  8. ^ ا ب Brown (2009): "The Ash‘ari school of theology is often called the Sunni ‘orthodoxy.’ But the original ahl al-hadith, early Sunni creed from which Ash‘arism evolved has continued to thrive alongside it as a rival Sunni ‘orthodoxy’ as well."
  9. Blankinship (2008); Lapidus (2014)
  10. Blankinship (2008); Lapidus (2014)
  11. Blankinship (2008)
  12. Lapidus (2014)
  13. Berkey (2003); Halverson (2010)
  14. ^ ا ب Berkey (2003)
  15. ^ ا ب Berkey (2003)
  16. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Hoover 2014 page=625 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  17. A. R. Agwan؛ N. K. Singh (2000)۔ Encyclopedia of the Holy Qur'an۔ Global Vision Publishing House۔ صفحہ 678۔ آئی ایس بی این 8187746009۔
  18. Christopher Melchert, Ahmad Ibn Hanbal, Oneworld Publ., 2006, p 154
  19. ^ ا ب Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 41۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  20. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 39۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  21. Aaron Spevack (2014)۔ The Archetypal Sunni Scholar: Law, Theology, and Mysticism in the Synthesis of Al-Bajuri۔ State University of New York Press۔ صفحہ 45۔ آئی ایس بی این 978-1-4384-5370-5۔ However, as discussed below, this was not always the case, as a number of Atharis delved into kalam, whether or not they described it as such.
  22. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 37۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  23. Aaron Spevack (2014)۔ The Archetypal Sunni Scholar: Law, Theology, and Mysticism in the Synthesis of Al-Bajuri۔ State University of New York Press۔ صفحہ 76۔ آئی ایس بی این 978-1-4384-5370-5۔
  24. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 38۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  25. Zulfiqar Ali Shah۔ Anthropomorphic Depictions of God: The Concept of God in Judaic, Christian, and Islamic Traditions: Representing the Unrepresentable۔ صفحہ 573۔ آئی ایس بی این 1565645758۔
  26. Binyāmîn Abrahamov, Anthropomorphism and Interpretation of the Qur'an in the Theology of Al-Qasim Ibn Ibrahim: Kitab Al-Mustarshid (Islamic Philosophy, Theology and Science). ISBN 9004104089, p 6.
  27. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 42۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  28. David Waines (2003)۔ An Introduction to Islam۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 122۔ آئی ایس بی این 0521539064۔
  29. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 40۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  30. Jeffry R. Halverson (2010)۔ Theology and Creed in Sunni Islam: The Muslim Brotherhood, Ash'arism, and Political Sunnism۔ Palgrave Macmillan۔ صفحہ 20۔ آئی ایس بی این 9781137473578۔
  31. Herbert W. Mason, Humaniora Islamica, Volume 1, p 123.
  32. ^ ا ب David B. Burrell؛ Carlo Cogliati؛ Janet M. Soskice؛ William R. Stoeger (ویکی نویس.)۔ Creation and the God of Abraham۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 111۔
  33. Asian Journal of Social Science (انگریزی زبان میں)۔ Brill۔ 2006-01-01۔ صفحہ 106۔
  34. Sabine Schmidtke (2015)۔ The Oxford Handbook of Islamic Theology۔ Oxford University Press۔ صفحہ 537۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2016۔
  35. Rico Isaacs, Alessandro Frigerio Theorizing Central Asian Politics: The State, Ideology and Power Springer 2018 ISBN 9783319973555 p. 108