اجرت میں صنفی خلاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اجرت میں صنفی خلاء (انگریزی: Gender pay gap) مساوی کام کے لیے مساوی اجرت کے اصول کے مغائر ہے۔ اس قدرے عام مشاہدے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جب مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ حاصل کرنے کی بات آتی ہے تو ، لڑائی ختم نہیں ہوتی ہے۔ اور بدقسمتی سے تنخواہوں میں عدم مساوات کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا جنسی مساوات کی جنگ کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ صنفی اجرت کے فرق کو کس طرح بند کرنے کے بارے میں بحث جاری ہے ، یہ واضح ہو گیا ہے کہ صنف پر مبنی تنخواہ کی عدم مساوات کو کس طرح ختم کیا جائے اس کے بارے میں بہت سے مختلف خیالات اور غلط فہمیاں ہیں[1]، جن پر قابو پانے کی کافی کوششوں اور قانون سازی کے باوجود جدید دور میں بھی دیکھا گیا ہے۔

ریاستہائے متحدہ[ترمیم]

صنفی تنخواہوں کا فرق سب سے پہلے 1963ء میں ریاستہائے متحدہ کی صدارتی توجہ میں لایا گیا تھا۔ اس وقت ایک برابر تنخواہ قانون پر صدر جان ایف کینیڈی نے دستخط کیا تھاأ یہ ایک جنسی مساوات کے رخ میں اچھا آغاز تھا- اس قانون سازی کی بہ دولت 2004ء میں خواتین کی اوسط آمدنی مردوں کی بہ نسبت 62٪ سے بڑھ کر 80٪ تک کی ہو گئی۔ تاہم مکمل مساوات کا مقصد پھر بھی حاصل نہیں ہوا ۔ اس کے بعد پھر 2009ء میں صدر بارک اوباما کے دور اس تعلق سے مزید ایک قانون سازی کی گئی۔ جس سے تنخواہوں کے خلاء کو پُر کرنے میں مزید پہل کی گئی اور جدید طور پر عورتیں مردوں کے بہت حد تک قریب آمدنی کر پاتی ہیں۔[2]

ریاستہائے متحدہ میں ہی فلم اور فنون کی دنیا مین 2011ء کے مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ مرد اور خواتین فن کاروں کی اجرتوں میں عام طور سے کافی فرق دیکھا گیا ہے۔[3]

فرانس[ترمیم]

فرانس حریت اور جنسی برابری کا یورپ میں علم بردار ملک رہا ہے۔ تاہم اجرت میں صنفی خلاء کے معاملے میں یہاں کے حالات بھی خوش کن نہیں ہیں۔ 2020ء کی ایک نئی تحقیق میں جابرانہ اعداد و شمار سے پردہ اٹھایا گیا ہے جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ فرانس میں خواتین اور مردوں کے درمیان اجرت کے فرق کو ختم کرنے یا اسے ختم کرنے میں 1000 سال سے زیادہ وقت لگے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلاء 2010 میں 15.6 فیصد سے کم ہوکر 2018 میں 15.5 فیصد رہ گئی ہے، جو انتہائی سست تبدیلی ہے۔[4]

بھارت[ترمیم]

بھارت ورلڈ اکنامک فورم کے صنفی خلاء کے پیمانے میں 2018ء میں 108 ویں مقام پر تھا، جو 2017ء جیسا ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت میں اجرت میں صنفی خلاء کافی زیادہ ہے اور اس میں فرق بہت ہی دھیمی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]