اجزائے جملہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اجزائے جملہ[ترمیم]

اجزائے جملہ مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ مسند

2۔ مسند الیہ

1۔ مسند کا مفہوم

کسی شخص یا چیز کے بارے میں جو کچھ بھی بتایا جائے اسے اردو قواعد کی زبان میں مسند کہتے کہتے ہیں۔

مثالیں

عمران پڑھتا ہے، عرفان بہت لائق ہے، گلاب کا پھول سرخ ہے اِن جملوں میں پڑھتا ہے، لائق ہے، سرخ ہے مسند ہیں۔

2۔ مسند الیہ کا مفہوم

جس چیز یا شخص کی بابت جو کچھ کہا جائے اردو قواعد کی زبان میں اسے مسند الیہ کہتے ہیں۔

مثالیں

عمران پڑھتا ہے، عرفان بہت لائق ہے، گلاب کا پھول سرخ ہے اِن جملوں میں عمران، عرفان،گلاب کا پھول مسند الیہ ہیں۔

جملہ کی اقسام

جملہ کی دو اقسام ہیں۔

1۔ جملہ اسمیہ

2۔ جملہ فعلیہ

1۔ جملہ اسمیہ

جملہ اسمیہ اُس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں اور جس کے آخر میں فعل ناقص آئے۔

مثالیں

جیسے عمران بڑا ذہین ہے۔ اس جملے میں عمران مسند الیہ، بڑا ذہین مسند اور ہے فعل ناقص ہے۔

جملہ اسمیہ کے اجزا

جملہ اسمیہ کے مندرجہ ذیل تین اجزا ہیں۔

1۔ مبتدا

2۔ خبر

3۔ فعل ناقص

1۔ مبتدا

مسند الیہ کو مبتدا کہتے ہیں جیسے عمران بڑا ذہین ہے میں عمران مبتدا ہے۔

2۔ خبر

مسند کو خبر کہا جاتا ہے کیسے عمران بڑا ذہین ہے میں بڑا ذہین خبر ہے۔

3۔ فعل ناقص

فعل ناقص وہ فعل ہوتا ہے جو کسی کام کے پورا ہونے کو ظاہر نہیں کرتا ہے۔

مثالیں

اسلم بیما رہے، اکرم دانا تھا، عرفان بہت چالاک نکلا، چاند طلوع ہوا اِن جملوں میں ہے، تھا، نکلا اور ہوا ایسے فعل ہیں جن سے پڑھنے، لکھنے اور کھانے پینے کی طرح کسی کام کے کیے جانے یا ہونے کا تصور نہیں ملتا۔

چند افعال ناقص

پے، ہیں، تھا، تھے، تھیں، ہوا، ہوگا، ہوئے، ہوں گے، ہو گیا، ہو گئے، بن گیا، بن گئے نکلا، نکلے اور نکلی وغیرہ۔

چند اسمیہ جملے (مع اجزا)

مسند الیہ (مبتدا) مسند (خبر) فعل ناقص
عمران ذہین ہے
عرفان نیک تھا
امجد کامیاب ہو گیا
ارشد فیل ہوا
اکبر افسر بن گیا

(نوٹ): اسمیہ جملے میں سب سے پہلے مبتدا پھر خبر اور آخر میں فعل ناقص آتا ہے۔

2۔ جملہ فعلیہ

جملہ فعلیہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند الیہ اسم ہو اور مسند فعل جملہ فعلیہ میں فعل ناقص کی بجائے فعل تام آتا ہے جس سے کام کا تصور واضح ہوجاتا ہے۔

مثالیں

سلیم دوڑا، اسلم آیا، حنا نے کتاب پڑھی، اکرم نے نماز پڑھی وغیرہ۔

جملہ فعلیہ کے اجزا

1۔ فاعل

2۔ مفعول

3۔ فعل تام

1۔ فاعل

مسند الیہ کو فاعل کہا جاتا ہے جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں سلیم فاعل ہے۔

2۔ مفعول

مسند کو مفعول کہتے ہیں جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں نماز مفعول ہے۔

3۔ فعل تام

آخر میں آنے والے فعل کو فعل تام کہتے ہیں جیسے سلیم میں نماز پڑھی اس جملے میں پڑھی فعل تام ہے۔

متعلق خبر اور متعلق فعل

جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق خبر اور فعل سے ہوتا ہے۔ ان الفاظ کو متعلقات کہا جاتا ہے۔

متعلق خبر

عرفان کامیاب ہوا، عرفان امتحان میں کامیاب ہوا،عرفان اِس سال امتحان میں کامیاب ہوا، اِن جملوں کا اگر بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جملے میں صرف عرفان کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، دوسرے جملے میں خبر کی وضاحت کرتے ہوئے خبر میں بتایا گیا ہے کہ عرفان امتحان میں کامیاب ہوا جبکہ تیسرے جملے میں خبر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ عرفان اِس سال امتحان میں کامیاب ہوا۔ ا،ن جملوں میں ”امتحان اور اس سال“ متعلق خبر ہیں۔

متعلق فعل

عرفان نے کتاب خریدی، عرفان نے بازار سے کتاب خرییدی، عرفان نے کل بازار سے کتاب خریدی، اِن جملوں کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جملے میں علی فاعل ہے، کتاب مفعول ہے اور خریدی فعل ہے۔ دوسرے جملے مین فعل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کتاب کریدنے کا کام بازار سے کیا گیا ہے جبکہ تیسرے جملے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کتاب آج نہیں بلکہ کل خریدی گئی ہے۔ لہذا وہ تمام الفاظ جو فعل کے معنوں کی وضاحت کرتے ہیں متعلق خبر کہلاتے ہیں۔ اِن جملوں میں ” بازار سے “ اور ”کل“ متعلقات فعل ہیں جبکہ ”نے “ علامت فاعل ہے۔

ترکیب نحوی اور اصول

جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کے مختلف اجزا کو الگ الگ بیان کرنے اور اُن کے باہمی تعلق کو ظاہر کرنے کو ترکیب نحوی کہتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ زیر ترکیب جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ۔ 2۔ اگر کسی جملے میں فعل ناقص ہو تو وہ جملہ اسمیہ ہوتا ہے۔ فعل ناقص معلوم کرنے کے بعد جملے میں مبتدا اور خبر معلوم کی جاتی ہے۔

3۔ اگر کسی جملے میں فعل ناقص کی بجائے فعل تام ہو تو اس صورت میں جملہ فعلیہ ہوتا ہے۔ اس جملے میں میں فاعل، مفعول اور متعلقات معلوم کرتے ہیں۔

4۔ اگر کسی مصرع یا شعر کی ترکیب نحوی معلوم کرنی ہو تو پہلے اس کی نثر بنا لیتے ہیں۔

5۔ ترکیب نحوی میں جملہ اسمیہ کی ترتیب یہ یونی چاہیے۔

فعل ناقص، مبتدا، خبر، متعلق خبر۔

6۔ ترکیب نحوی میں جملہ فعلیہ کی ترتیب یہ ہونی چاہیے۔

فعل، فاعل، مفعول، متعلق فعل۔

امدادی فعل:جو دوسرے جملے کے ساتھ مل کر مفہوم کو واضح کرتا ہے۔ مثلا:میں نے کام "کر لیا" کر لیا امدادی فعل یے