احمد الدین چکوالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مولانا احمد الدین چکوالی سلسلہ چشتیہ اور سلسلہ قادریہ کے بلند پایہ بزرگ تھے۔


مولانا احمد الدین چکوالی
ذاتی
پیدائش (20 رمضان 1268ھ بمطابق 8 جولائی 1852ء)
وفات (1347ھ بمطابق 8 مئی 1929ء)
مذہب اسلام
والدین
  • مولانا غلام حسین (والد)
سلسلہ چشتیہ ، قادریہ
مرتبہ
مقام چکوال
پیشرو شمس الدین سیالوی ، نقیب سلمان

ولادت[ترمیم]

احمد الدین کی ولادت 20 رمضان 1268ھ بمطابق 8 جولائی 1852ء کو ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کا نام مولانا غلام حسین تھا۔ والدین نے احمد الدین کا نام چراغ دین رکھا لیکن آپ نے اپنے اصل نام کی بجائے احمد الدین سے شہرت پائی۔ آپ کے اجداد کا وطن موضع بولہ تحصیل پنڈ دادانخان ضلع جہلم تھا۔ انہوں وہاں سے ہجرت کر کے چکوال شہر میں سکونت اختیار کی۔

تعلیم[ترمیم]

احمد الدین نے سات سال کی عمر میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ نے اپنی تمام مروجہ تعلیم اپنے والد گرامی مولانا حسین سے ہی حاصل کی۔ 1298ھ میں انگریز گورنمنٹ نے علمائے کرام کا انٹرویو لیا جس میں اول آنے پر آپ کو 50 روپے نقد انعام دیا گیا۔ اس انعام کے علاوہ آپ کا 15 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا تا کہ آپ اورینٹل کالج لاہور میں اعلی تعلیم حاصل کرسکیں۔ جب آپ کالج گئے تو وہاں کا ماحول اور نظام تعلیم چونکہ بہت پست تھا اس کیے آپ واپس چلے آئے۔ 1298ھ میں آپ زیارت حرمین شریفین کی زیارت کے لیے عرب شریف تشریف لے گئے۔ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد روضہ رسول کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ بعد ازاں آپ کی ملا قات قاتح عیسائیت نقیب ملت مولانا رحمت الله کیرانوی مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی جو آپ کے والد ماجد مولانا غلام حسین کے بھی استاد تھے۔ آپ نے ان کے ہاں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ رہ کر ان سے حدیث، قرات، ہیت ، ردبع مجیب اور ربع مقطر وغیرہ علوم وہاں کے جید علما سے حاصل کر کے تعلیم و تدریس کی اعلی سندیں حاصل کیں۔ اعلی سند حاصل کرنے کے بعد آپ واپس وطن تشریف لے آ ئے۔

درس و تدریس[ترمیم]

حرمین شریفین سے زیارات اور علوم کی تعمیل کے بعد مولانا احمد الدین کراچی تشریف لے گئے۔ قیام کراچی کے دوران محلہ کھڈہ میں مولانا محمد عبد الله کے پاس کچھ عرصہ قیام کیام وہاں پر ایک دینی مدرسہ دار العلوم کے نام سے قائم کیا جو ابھی تک قائم و دائم ہے۔ کراچی میں قیام کے دوران کئی علما اور طلبہ نے آپ سے اکتساب فیض کیا۔ مولانا احمد الدین نے علم الطب بھی حاصل کیا ہوا تھا۔ اس وجہ سے آپ لوگوں کا علاج معالجہ بھی کرتے تھے۔ آپ کے علاج سے کئی لا علاج مریض شفایاب ہو گئے تھے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

مولانا احمد الدین چکوالی کو سلسلہ چشتیہ میں خواجہ شمس الدین سیالوی سے اور سلسلہ قادریہ سے نقیب سلمان سے اجازت بیعت حاصل تھی۔

  1. مولانا احمد الدین 1280ھ میں اپنے والد گرامی کے ہمراہ حضرت خواجہ شمس العارفین خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے۔
  2. مولانا احمد الدین 1310ھ میں دوبارہ بلاد مقدسہ کی زیارت کے لیے دوبارہ تشریف لے گئے۔ اس دوران آپ بغداد شریف میں نقیب سلمان رحمتہ الله علیہ کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں شرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ آپ انہی سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں خلافت سے سرفراز ہوئے۔

رشد و ہدایت[ترمیم]

مولانا احمد الدین چکوالی زيارات مقدسہ سے مشرف ہونے کے بعد اپنے گھر چکوال واپس تشریف لے آئے۔ اس دوران آپ نے جالی والی مسجد چکوال شہر میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں آپ کی شہرت کا دور دور چرا ہونے لگا۔ دور دور سے علما اور طلبہ آنے لگے اور مستفیض ہونے لگے۔ آپ کے درس میں خاص طور مثنوی شریف، ربع مجیب، ربع مقطر وغیرہ اور دیگر علوم دینیہ پڑھائے جاتے تھے۔ اس درس کو پڑھنے کے لیے دور دور سے علمائے کرام حاضر ہو کر زانوے تلمذ طے کر کے اکتساب فیض کرتے رہے۔ آپ پہلے حافظ قرآن نہ تھے مگر بعد میں حفظ کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ آپ نے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد ہر سال نماز تراویح میں سناتے تھے۔ تاریخ گوئی میں آپ کو کمال دسترس حاصل تھی۔ آپ عربی فارسی اور اردو میں مشق سخن فرماتے تھے۔

اولاد[ترمیم]

مولانا احمد الدین چکوالی کی اولاد میں دو صاحبزادے شامل تھے۔

  1. مولانا حافظ علاؤ الدین
  2. مولانا حافط ضیاء الدین

آپ کا پہلا صاحبزادہ 21 سال کی عمر میں وفات پا گیا تھا۔ آپ کق دوسرا صاحبزادہ ایک حادثے کا شکار ہو کر انتقال کر گیا تھا۔ آپ کے دونوں بیٹے آپ کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے۔

وصال[ترمیم]

مولانا احمد الدین چکوالی کا وصال 1347ھ بمطابق 8 مئی 1929ء کو چکوال میں ہوا۔ آپ کا مزار چکوال کے آبائی قبرستان میں ہے۔ آپ کی قبر کسمپرسی کے عالم میں ہے۔ آج کے زمانے میں آپ کی مرقد کو پہنچانے والے بھی کم رہے گئے ہیں اگر چکوال کے علما اہل سنت نے اس طرف توجہ نہ دی تو اس بلند پایہ ولی کامل کا مرقد گم ہو جائے گا۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 533 تا 535