احمد بسیونی حنبلی
ظاہری ہیئت
| ||||
|---|---|---|---|---|
| معلومات شخصیت | ||||
| وفات | 9 مارچ 1919ء قاہرہ |
|||
| عملی زندگی | ||||
| پیشہ | فقیہ | |||
| پیشہ ورانہ زبان | عربی | |||
| درستی - ترمیم | ||||
جناب احمد بن علی بن محمد بسیونی علوانی ادریسی حسنی ہاشمی حنبلی (متوفی 1337ھ )، الازہر میں حنبلی شیخ تھے ۔ [1]
نسب
[ترمیم]ان کا نسب سلیمان البسیونی (وفات: 735 ہجری) تک پہنچتا ہے، جو بسیون، محافظة الغربية میں ایک مشہور شخصیت تھے اور ان کا ایک معروف مسجد و مزار بھی ہے۔ ان کا سلسلۂ نسب امام حسن بن علی بن ابی طالب تک جا پہنچتا ہے۔
تعلیم
[ترمیم]بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد میں جامعہ ازہر میں داخل ہوئے، جہاں انھوں نے علومِ عربیہ اور علومِ شریعت کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں یوسف البرقاوی النابلسی الحنبلی شامل تھے، جن سے انھوں نے فقہ و حدیث کی تعلیم حاصل کی۔
وفات
[ترمیم]آپ نے 7 جمادی الآخر 1337 ہجری کو وفات پائی۔[2][3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "العلامة أحمد البسيوني أشهر شيوخ الحنابلة في مصر"۔ 2024-05-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-12-17
- ↑ "هيئة كبار العلماء - الأزهر الشريف"۔ 2024-11-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-12-17
- ↑ "العلامة أحمد البسيوني شيخ الحنابلة بالأزهر الشريف"۔ 2024-05-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-12-17

