مندرجات کا رخ کریں

احمد بن عاشر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
احمد بن عاشر
(عربی میں: أبو العباس أحمد بن عاشر)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
وفات سنہ 1364ء   ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سلا   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت امارت غرناطہ
مرین سلسلہ شاہی   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

احمد بن محمد بن عمر بن عاشر اندلسی (پیدائش: بشمينہ، اندلس — وفات: 1364ء، سلا) آپ اندلس کے ایک جلیل القدر عالم دین اور صوفی بزرگ تھے۔ شہر سلا میں آپ اور سیدی عبد اللہ بن حسون کو ’’سلا کے اولیاء کے سلاطین‘‘ کہا جاتا ہے۔ [1]

زندگی اور ابتدائی حالات

[ترمیم]

آپ کی پیدائش تیرہویں صدی عیسوی کے اواخر میں اندلس کے علاقے بشمينة میں ہوئی۔ وہیں قرآنِ کریم حفظ کیا اور ابتدائی علوم حاصل کیے۔ بعد ازاں الجزيرة الخضراء منتقل ہوئے، جہاں کچھ عرصہ قیام کر کے قرآنِ مجید کی تعلیم دیتے رہے۔ وہاں آپ کی ملاقات اکابر اہلِ علم و سلوک سے ہوئی، جن میں شیخ ابو سرحان مسعود الابله بھی شامل تھے۔ اس کے بعد آپ نے حج اور زیارت کا سفر کیا، پھر مراکش واپس آئے۔

سلا میں سیدی ابن عاشر کا مزار

آپ نے پہلے فاس میں قیام کیا، پھر مكناسہ زيتون (میکناس) میں کچھ عرصہ سکونت اختیار کی۔ ایک روایت کے مطابق آپ آٹھویں صدی ہجری کے اوائل میں اپنے خاندان کے ساتھ سلطان ابو عنان فارس مرينی کے دور میں مراکش آئے۔ حج سے واپسی کے بعد میکناس میں مقیم رہے اور بالآخر 1350ء میں مستقل طور پر شہر سلا میں سکونت اختیار کر لی۔ آپ کی نسل سے سلا کا معروف خاندان ’’آل اعمار‘‘ منسوب ہے۔ [2][3]

علمی و روحانی خدمات

[ترمیم]

جب آپ سلا آئے تو پہلے رباط الفتح میں زاویہ شیخ ابو عبد اللہ يابوری میں قیام کیا۔ یہ شیخ علم کے احیاء میں نمایاں کردار رکھتے تھے۔ شیخ يابوری آپ کو ’’شاب اسعد الصالح‘‘ (نیک بخت نوجوان) کہہ کر پکارتے تھے اور خاص توجہ دیتے تھے۔ انھوں نے آپ کو زاویہ شالة میں خلوت دی اور بچوں کو قرآن پڑھانے کی ترغیب دی۔ آپ کی عادت تھی کہ صرف اپنی محنت کی کمائی سے کھاتے تھے۔ کتابت اور کتب کی نقل و فروخت کرتے، خصوصاً عمدة الأحكام سے خاص شغف رکھتے تھے۔

آپ دنیاوی جاہ و منصب سے دور رہتے تھے۔ روایت ہے کہ سلطان ابو عنان مرينی کئی مرتبہ آپ سے ملاقات کے لیے آئے مگر آپ نے اجازت نہ دی۔ شیخ يابوری کے وصال کے بعد آپ سلا کے دوسرے کنارے (عدوة سلا) منتقل ہوئے اور زاویہ شیخ ابو زكرياء کے قریب قیام کیا۔ [4]

زہد اور شخصیت

[ترمیم]

عبد اللہ التليدي نے اپنی کتاب المطرب في مشاہير أولياء المغرب میں لکھا کہ سیدی احمد بن عاشر زہد و ورع میں بے مثال تھے۔ وہ امرا اور حکام سے انتہائی کنارہ کش رہتے تھے اور دنیا سے بے رغبتی اختیار کیے ہوئے تھے۔

وفات

[ترمیم]

آپ کا انتقال 764ھ (1364ء) میں ماہِ رجب میں ہوا۔ آپ کو شہر سلا میں سمندر کے قریب، جامع اعظم سے کچھ فاصلے پر دفن کیا گیا۔ آپ کی قبر آج بھی مشہور زیارت گاہ ہے اور لوگ خصوصاً بیماریوں اور تکالیف کے موقع پر وہاں حاضری دیتے ہیں۔


حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "سيدي احمد بنعاشر – مدينة سلا"۔ www.villedesale.ma۔ 2024-05-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-02-11
  2. تراحم عبر التاريخ۔ "ابن عاشر أحمد بن عمر (أحمد بن عمر بن محمد بن عاشر أبو العباس)"۔ tarajm.com (بزبان عربی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-02-11
  3. "أحمد بن عاشر السلوي"۔ مغرس۔ 2024-02-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-02-11
  4. fatimimohamadi (2019-12-18)۔ "سيدي احمد بن عاشر"۔ المعهد الفاطمي المحمدي (بزبان عربی)۔ 12 فبراير 2024 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-02-11 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  • عبد العزيز بن عبد الله، مصادر التصوف المغربي، التاريخ العربي، عدد: 22
  • سيدي أحمد بنعاشر