احمد بن عبد اللہ ملثم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو العباس احمد بن عبد اللہ بن ہاشم نام معروف بہ ملثم رمضان 658ھ کو پیدا ہوا۔ جب بڑا ہو ابتدائی تعلیم کے بعد شیخ تقی الدین بن دقیق العید کی خدمت میں فقہ شافعی کی تحصیل اور سماع حدیث میں مشغول ہوا۔ شیخ تقی الدین کے حلقہ درس میں حدیث نبوی سنتا رہا۔ علاوہ ازیں انماطی سے یہ مسلم اور شیخ تقی الدین بن دقیق سے متعدد بڑی بڑی کتابیں سنیں۔ ظاہر ی علوم کی تکمیل کے بعد اس نے عبادت و ریاضت کا طریقہ اختیار کیا۔ ابلیس کی طرف سے اس کو اپنا آلہ کار بنانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ جن مختلف نوری شکلوں میں رونما ہوتا ہے اور طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر اور مدارج علیا کے مژدے سناکر راہ حق کی تلاش کی کو شش کر تا ہے۔ ایسی حالت میں اگر کسی مسیحا نفس مرشد کامل کا ظل عاطفت سر پر توفگن ہو تو عابد شیطانی دام تزویر سے محفوظ رہتا ہے۔ ورنہ وہ ایسی بری طرح پٹخنی بھی دیتے ہیں کہ عابد صراط مستقیم کی حبل متین کو ہاتھ سے چھوڑ کر ہلاکت کے اسفل السافلین میں جا پڑتا ہے۔ اگر عابد کسی ہادی طریقت کے بر کت انفاس سے محروم ہو تو جنود ابلیسی سے محفوظ ہونے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت اور مسلک سلف صالح کی میزان حق کو مضبوطی سے تھا۔ے رہے۔ ہر چیز کو قرآن و حدیث سے دیکھے اور اپنے تمام انکشافات کو منجانب اللہ یقین کرنے سے پہلے اس کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیا کرے۔ لیکن مشکوک بہت سے عابد نوری شکلیں دیکھتے اور طرح طرح کی دل آویز صدائیں سنتے ہیں تو تمام قوائے عقلیہ کھو بیٹھے ہیں۔ اور کتاب و سنت اور مسلک سلف صاع کے معیار حق کو طاق نسیان پر رکھ کر اپنی بدبختی سے شیاطین کے آگے کٹھ پتلی کی طرح ناچنے لگتے ہیں۔ جب احمد پر شیاطین نے حسب معتاد پنجہ اغوادار ماراتو عامہ عباء کی طرح اس کا مزاج بھی اعتدال سے منحرف ہو گیا۔ چنانچہ 689ھ میں بڑے لمبے چوڑے دعوے کر دیے۔ پہلے تو کہنے لگا کہ میں نے بار ہا خداوند عالم کو خواب میں دیکھا ہے یہ تو خیر کچھ بعید نہ تھا کیونکہ اہل اللہ رب العالمین کو خواب میں ہے کیف دیکھا کرتے ہیں لیکن اس کے بعد اس نے یہ رٹ لگانی شروع کی کہ مجھے حالت بیداری میں ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ میں آسمانوں کو عبور کر کے سدرة المنتہی تک اور وہاں سے عرش اعظم تک پہنچا۔ اس وقت جبریل امین اور ملا نکہ کا ایک جم غفیر میرے ساتھ تھا۔ خدا تعالی مجھ سے ہمکلام ہوا اور مجھے بتایا کہ تم مهدی مد عود ہو۔ ملائکہ نے مجھے بڑی بڑی بشارتیں بھی بعد میں دیں۔ اور خود سرور کائنات ﷺ مجھ سے ملاقاتی ہوئے اور فرمایا کہ تم میرے فرزند ہو اور تم ہی مهدی موعود ہو۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ اپنی مهدویت کا اعلان کر دو اور لوگوں کو حق تعالی کی طرف بلاؤ۔ جب احمد کے ان بلند بانگ دعووں کا شہرہ ہوا تو حاکم قاہرہ نے اس کو گرفتار کر کے زندان بلا میں ڈال دیا۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے قید خانہ میں جا کر اس کا گلا گھونٹ دینے کا ارادہ کیا تو اس کا ہاتھ خشک ہو گیا انہی ایام میں اس کے استاد قاضی القضاة شیخ تقی الدین بن دقیق العید اس کے پاس مجلس میں گئے اور دیکھا کہ اس نے پانی کا گھڑا اور کھانے کے بر تن توڑدیئے ہیں اور لوگوں پر حملہ آور ہورہا ہے۔ قاضی صاحب نے اس کو دیوانہ قرار دے کر رہا کر دیا۔ جب شیخ نصیر کو اس کا علم ہوا تو انہیں سخت ناگوار ہوا۔ انہوں نے بیبرس سے جو ان کامعتقد تھااس کی شکایت کی اور اسے مشورہ دیا کہ جام زہر پلا کر اس کا کام تمام کر دیا جائے۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس کو کئی مرتبہ زہر دیا گیا۔ مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ اس کے بعد اس کو پاگل خانہ میں بھیج دیا گیا۔ وہاں بھی شراب میں ملا کر اس کو زہر دیا گیا۔ لیکن پھر بھی کچھ اثر نہ ہو اور جب شراب ایک واجب القتل قیدی کو پلائی گئی تو وہ ہلاک ہو گیا لیکن مقام مسرت ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہوا ئے موافق نے اسے توبہ کی تو فیق عطا فرمائی۔ اور اس نے اعلان کر دیا کہ میں وہ مہدی نہیں ہوں جن کے ظہور کی حضرت مخبر صادق نے بشارت دے رکھی ہے بلکہ میں صرف مہدی بمعنی ہدایت یافتہ ہوں۔ آخر 740ھ میں مر گیا۔ اس وقت اس کی عمر اسی سال سے متجاوز تھی۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جھوٹے نبی مولف ابو القاسم دلاوری صفحہ 362 تا 363