احمد بن عجیبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

احمد بن عجیبہ اٹھارہویں صدی عیسوی میں مراکش میں درقاویہ صوفی سنی سلسلۂ طریقت کے درویش تھے۔

ولادت[ترمیم]

احمد بن محمد بن المہدی ابن عجيبہ، الحسنی الانجری1160ھ1747ء میں انجرا قبیلہ کی شاخ شریف کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے جو مراکش کے بحیرہ روم کے ساحلی علاقے کے ساتھ طنجہ سے تطوان تک آباد ہے۔

سوانح حیات[ترمیم]

بچپن میں ہی آپ میں علم، حفظ قرآن اور قدیم عربی صرف و نحو کا مضامین کا مطالعہ، مذہبی اخلاقیات، شاعری، قرآن اور تفسیر سے محبت پیدا ہو گئی۔ جب آپ اٹھارہ کے سن کو پہنچے تو آپ نے گھر چھوڑ دیا اور قصر الکبیر میں سید محمد السوسی السملالی کے زیر نگرانی علم تفسیر کے مطالعہ کیا۔ یہیں آپ سائنس، فن، فلسفہ، قانون اور علم تفسیر  سے متعارف ہوئے اور ان کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ محمد التوحیدی بن سودا، بینانی اور الورزازی سے علم کے حصول کے لیا فاس گئے اور 1208ھ (1793ء) میں درقاویہ میں شمولیت اختیار کی جس جبالہ کے علاقہ کے شمالی حصہ کے آپ نمائندہ تھے۔ آپ نے اپنی پوری عمر تطون میں گزاری

تصنیفات[ترمیم]

آپ چالیس کتب کے مصنف ہیں اور 19ویں صدی کے آغاز میں تطوان کے علمی مرکز بننے سے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کرنے والی ایک سوانح کے بھی مصنف ہیں۔

  • البحر المديد فی تفسير القرآن المجيد - چار جلدوں میں ہے
  • ازهار البستان
  • شرح القصيدة المنفرجہ
  • شرح صلوات ابن مشيش
  • تبصرة الطائفہ الزرقاويہ
  • الفتوحات الإلهيہ في شرح المباحث الأصليہ
  • الفتوحات القدوسيہ في شرح المقدمہ الآجروميہ
  • فهرسہ اپنے مشائخ کی
  • ايقاظ الهمم فی شرح الحكم [1]

وفات[ترمیم]

آپ نے1224ھ ([[1809ء) میں طاعون سے وفات پائی اور انجرہ میں دفن ہیں

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • اخباریہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الأعلام خیر الدین زركلی
  • مراکشی صوفیا کی سوانح از احمد بن عجیبہ: جین لوئس مشن اور ڈیوڈ سٹریٹ، فانس ویٹائی، لوئس وکی سکنہ کینٹکی امریکا نے 1999ء میں اس کا عربی سے ترجمہ کیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]