احمد حسن دانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

{{ Research on the وادی سندھ کی تہذیب پر تحقیق کے لئے مشہور تھے#استدعا:Unsubst||$B=

احمد حسن دانی
پروفیسر احمد حسن دانی, Ph.D
پروفیسر احمد حسن دانی, Ph.D

معلومات شخصیت
پیدائش 20 جون 1920  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
باسنا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 26 جنوری 2009 (89 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
رہائش اسلام آباد
قومیت پاکستانی
عملی زندگی
المؤسسات جامعہ قائد اعظم
جامعہ ڈھاکہ
جامعہ پشاور
پشاور میوزیم
مادر علمی انسٹیٹیوٹ آف آرکیالوجی, یونیورسٹی کالج لندن
ڈاکٹری مشیر مورٹیمر ویلر
پیشہ ماہرِ لسانیات،مؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان انگریزی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل علم الآثار, تاریخ, لسانیات
اعزازات

}}

پروفیسر احمد حسن دانی (20 جون 1920ء - 26 جنوری 2009ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مفکر، مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پروفیسر احمد حسن دانی کشمیری الاصل تھے۔ وہ 20 جون 1920ء کو بسنہ، چھتیس گڑھ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[3]۔ انہوں نے 1944ء میں جامعہ بنارس ہندو سے ایم اے کیا۔ وہ اس ادارے سے ایم اے کی ڈگری لینے والے پہلے مسلمان طالبِ علم تھے۔ اگلے ہی برس انھوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ میں ملازمت اختیار کر لی اور پہلے ٹیکسلا اور اُس کے بعد موہنجوڈارو میں ہونے والی کھدائی میں حصّہ لیا۔

ڈھاکہ[ترمیم]

آثارِ قدیمہ میں اُن کی بے حد دلچسپی کے پیشِ نظر انھیں برطانیہ کی حکومت نے تاج محل جیسے اہم تاریخی مقام پر متعین کردیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور ڈھاکہ میں فرائض انجام دینے لگے۔ تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل ہی میں پروفیسر دانی نے محسوس کر لیا تھا کہ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کو عوام تک پہنچانے کے لیے عجائب گھروں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ 1950ء میں انھوں نے وریندر میوزیم راجشاہی کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ بعد جب انھیں ڈھاکہ میوزیم کا ناظم مقرر کیا گیا تو انھوں نے بنگال کی مسلم تاریخ کے بارے میں کچھ نادر تاریخی نشانیاں دریافت کیں جو آج بھی ڈھاکہ میوزیم میں دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

غیر ملکی دورے[ترمیم]

متحدہ ہندوستان میں انگریز ماہرین کے تحت کام کرتے ہوئے پروفیسر دانی کے دِل میں اس بیش بہا تاریخی، ثقافتی اور تمدنی خزانے کو دیکھنے کی تمنّا پیدا ہوئی تھی جو انگریزوں نے اپنے طویل دور میں جمع کر لیا تھا۔ پروفیسر دانی کی یہ خواہش بیس پچیس برس بعد اس وقت پوری ہوئی جب خود ان کا نام تاریخ اور عمرانیات کے مطالعے میں ایک حوالہ بن چُکا تھا۔ سن ستر کی دہائی میں انھیں انگلستان اور امریکا کے طویل مطالعاتی دوروں کا موقع مِلا۔

اعزازات[ترمیم]

احمد حسن دانی کو انکی اعلٰی ترين علمی خدمات کے صلے ميں حکومت پاکستان نے ستارہ امتياز اور ہلال امتياز سے نوازا۔ خود اُن کے علم و بصیرت کی چکا چوند جب مغربی دنیا میں پہنچی تو آسٹریلیا سے کینیڈا تک ہر علمی اور تحقیقی اِدارہ اُن کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کی دوڑ میں پیش پیش نظر آنے لگا۔ امریکہ، برطانیہ فرانس اور آسٹریلیا کے علاوہ انہیں جرمنی اور اٹلی میں بھی اعلیٰ ترین تعلیمی، تدریسی اور شہری اعزازات سے نوازا گیا۔

گندھارا[ترمیم]

گندھارا تہذیب میں بے پناہ دلچسپی کے باعث پروفیسر دانی کا بہت سا وقت پشاور یونیورسٹی میں گزرا۔ اسی زمانے میں انھوں نے پشاور اور لاہور کے عجائب گھروں کی تزئینِ نو کا بیڑا بھی اُٹھایا۔ 1971 میں وہ اسلام آباد منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے قائدِاعظم یونیورسٹی میں علومِ عمرانی کا شعبہ قائم کیا اور 1980 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی سے منسلک رہے۔

ریٹائرمنٹ[ترمیم]

ریٹائر ہونے کے بعد انھیں پتھروں پر کندہ قدیم تحریروں میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور اواخرِعمر تک وہ گلگت, بلتستان، چترال اور کالاش کے علاقوں میں، آثارِ قدیمہ کے جرمن ماہرین کی معاونت سے قدیم حجری کتبوں کے صدیوں سے سربستہ راز کھولنے کی کوشش میں مصروف رہے۔

وفات[ترمیم]

حسن دانی گردے اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے۔ 22 جنوری 2009ء کو انہیں پمز ہسپتال اسلام آباد لایا گیا جہاں ان کے علاج کی کوشش کی گئی لیکن 26 جنوری 2009ء وہ 88 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.timesonline.co.uk/tol/comment/obituaries/article5753682.ece
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12125310c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. خان سوانح حیات. سلام. تاریخ 15 مئی 2008.