احمد خان طارق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احمد خان طارق
معلومات شخصیت
پیدائش 24 جنوری 1952  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ڈیرہ غازی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 10 فروری 2017 (65 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان سرائیکی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

احمد خان طارق سرائیکی دوہڑے کا مقبول ترین شاعرجسے سرائیکی وسیب میں ”دوہڑے کا بادشاہ“ کہا جاتا ہے۔

نام[ترمیم]

پیدائشی نام احمد بخش اور تخلص طارق ہے۔

ولادت[ترمیم]

احمد خان طارق 1924ء میں تونسہ شریف کے علاقہ شاہ صدر دین میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام بخش خان ہے۔

تعلیم[ترمیم]

تعلیم پرائمری ،پیشہ زمیندارہ اور ذات کھوسہ ہے۔

شاعری[ترمیم]

شاعری میں ابتدائی اصلاح ڈیرہ غازی خان کے معروف شاعر نور محمد سائل سے لی۔ سرائیکی وسیب کے معروف و منفرد شاعر عزیز شاہدانہی نور محمد سائل کے فرزند ہیں۔ ان کا دوہڑہ علاقائی روایت و ثقافت،غربت و افلاس،عشق و محبت اور علاقائی محرومیوں کی بھرپورعکاسی کرتاہے۔ ان کی شاعری میں ”بیٹ“ کا ماحول اپنی تمام تر رعنائیوں اور حسن و جمال کے ساتھ سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم سے مُوقلم کا کام لیتے ہیں اور شاعری کے کینوس پر دیہاتی زندگی کی سچی اور سادہ مگر متحرک تصویریں پینٹ کرتے ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

احمد خان طارق کیے مجموعہ کلام میں

  • گھروں درتانڑے
  • طارق دے دوہڑے
  • متاں مال ولے
  • میکوں سی لگدے
  • ہتھ جوڑی جُل
  • بیٹ دی خوشبو
  • عمراں داپوہریا
  • سسی
  • میں کیا آکہاں شامل ہیں۔

وفات[ترمیم]

احمد خان طارق 10 فروری 2017 کو 93 سال کی عمر میں انتقال کیا

نمونہ کلام[ترمیم]

ان کے مشہوردوہڑے ۔

  • (1) اے پاگل دل! بے ہوش نہ تھی، ذرا آپ کوں جھل، کل آ ویسی
  • کل سجھ دا وعدہ کر گئے چن، من کہیں دی گل، کل آ ویسی
  • شالا خیر ہووِس، تھیسی خیر دا ڈینہہ ،بہسوں رست مل، کل آ ویسی
  • اجاں اج تاں طارق ویندا پئے کل لہسی کل، کل آ ویسی
  • (2) تیڈی چہاں تے پلدے پئے ہاسے کر پاسہ گئیں چن دُھپ کیتی
  • بس لکدا چھپدا دیکھ تیکوں میڈا سیت وہ گئے لک چھپ کیتی
  • چن چاندڑیاں چٹیاں ڈد ھ راتیں گئیں قہر دیاں کالیاں گھپ کیتی
  • ادھ بزم دے طارق بہن والے اج بیٹھوں چنڈ ءِ چ چپ کیتی [2]

حوالہ جات[ترمیم]