احمد زين الدين مليباری
| احمد زين الدين مليباری | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1531ء ماہے |
| تاریخ وفات | سنہ 1583ء (51–52 سال) |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | عالم ، کاتب ، مورخ ، منصف ، فقیہ |
| مادری زبان | عربی |
| پیشہ ورانہ زبان | ملیالم ، عربی |
| درستی - ترمیم | |
زین الدین احمد بن عبد العزیز بن زین الدین بن علی بن احمد المباری الملیبری الہندی (ولادت:؟ - وفات: 987ھ / 1579ء) شافعی فقہ تھے جو ملابار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ زين الدين بن علی مليباری کے پوتے تھے۔[1]
حالات زندگی
[ترمیم]آپ کی پیدائش 938 ہجری (تقریباً 1531ء) کے ابتدائی مہینوں میں "شومبال" نامی علاقے میں ہوئی، جو بھارت کے شہر "ماہی" کے قریب واقع ہے۔ ابتدائی دینی تعلیم آپ نے اپنے دادا کے زیر نگرانی حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم آپ کے والد محمد الغزالی اور چچا عبد العزیز بن شیخ مخدوم اول کے ذریعے مکمل ہوئی۔
بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، جہاں حج کی ادائیگی کے بعد دس سال تک قیام فرمایا۔ اس دوران آپ نے اسلامی شریعت اور دیگر علوم میں مختلف علما سے استفادہ کیا۔ آپ نے حافظ شهاب الدين بن حجر الهيتمي، مفتي الحرمين (مکہ اور مدینہ کے بڑے فقیہ) اور علم حدیث و فقہ کے مشہور شارح عز الدين بن عبد العزيز الزمزمي سے علم حاصل کیا۔ تصوف کی تعلیم آپ نے قطب الزمان زين العارفين محمد بن شيخ العارف أبو حسن البكري سے حاصل کی اور گیارہ خرقے (تصوف میں مرتبے کی علامت) عطا کیے گئے۔ مختصر عرصے میں آپ کو "شیخِ طریقت قادریہ" کے طور پر پزیرائی ملی۔
تالیفات
[ترمیم]- قرة العين بمهمات الدين: في الفقه الشافعي.
- فتح المعين بشرح قرة العين.
- الاستعداد للموت وسؤال القبر.
- إرشاد العباد إلى سبيل الرشاد.
- تحفة المجاهدين في بعض أخبار البرتغاليين.
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ الأعلام، الزركلي، ج3 ص64 آرکائیو شدہ 2020-12-02 بذریعہ وے بیک مشین