احمد شاہ درانی کی ہندوستان پر لشکری مہمات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبدالغفور بریشنا کی مصوری میں احمد شاہ درانی کا ایک خیالی عکس

احمد شاہ درانی کی ہندوستان پر لشکری مہمات ہندوستان پر لشکری حملوں کا ایک وہ سلسلہ ہے جو درانی سلطنت کے بانی اور پہلے حکمران احمد شاہ درانی (جسے احمد شاہ اَبدالی بھی کہا جاتا ہے) نے ہندوستان پر 1748ء سے 1767ء کے درمیانی عرصے میں 8 بار کیے جو سلطنت مغلیہ کے عہد میں خطۂ پنجاب اور مرکزِ حکومت دہلی پر مشہور حملے تصور کیے جاتے ہیں۔جون 1747ء میں نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ درانی تختِ افغانستان پر تخت نشیں ہوا اور درانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ہندوستان پر حملوں کی ابتدا 1748ء سے ہوئی اور اِن کا اِختتام 1767ء میں ہوا۔ اِن حملوں میں احمد شاہ درانی نے مغلوں، جاٹ، راجپوت، مرہٹوں اور سکھوں کو شکست دی اور اپنی سلطنت کا دائرہ کار پنجاب تک وسیع کیے رکھا۔ اُس کے ہندوستان پر آخری حملے کے بعد پنجاب میں سکھوں نے عروج پکڑا اور اور خود یہاں حکمران ہو گئے۔ احمد شاہ درانی کا ہندوستان پر سب سے زیادہ مشہور اور تاریخی حملہ پانچواں حملہ ہے جس میں 14جنوری 1761ء کو پانی پت کی تیسری لڑائی لڑی گئی جس ایک اندازے کے تحت مرہٹوں کے 30,000 سپاہی قتل ہوئے۔ احمد شاہ درانی کے اِنتقال کے بعد افغانستان کی طرف سے ہندوستان پر کوئی حملہ یا لشکرکشی نہیں کی گئی اور جلد ہی درانی سلطنت بھی زوال پزیر ہو گئی۔اِن حملوں میں ہندوستان کے شاہی خزانے بھی احمد شاہ درانی کے ہاتھ لگے جس سے سلطنت مغلیہ رُو بہ زوال ہوئی۔

ہندوستان پر پہلا حملہ — 1748ء[ترمیم]

ہندوستان پر احمد شاہ درانی کا پہلا حملہ 1748ء میں ہوا جب لاہور کے مغل گورنر شاہ نواز خان کی درخواست پر احمد شاہ درانی ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔ بعد ازاں جب مغل شہنشاہ محمد شاہ نے اُسے لاہور کی نظامت پر بحال کر دیا تو احمد شاہ درانی کے خلاف محاذ آرائی پر آگیا اور 1748ء میں احمد شاہ درانی جب لاہور پہنچا تو شاہ نواز خان اُس کے خلاف لشکرکشی کے لیے تیار تھا مگر بعد میں خود احمد شاہ درانی سے جا ملا۔ شاہ نواز خان کی بے جا کوششوں کے باوجود لاہور میں موجود درانی فوج اور لاہور میں مغل فوج کے مابین جنگ چھڑگئی جس میں افغانوں نے زبردست حملے کیے۔ شاہ نواز خان نے بے سُود کوشش کی کہ جنگ رک جائے مگر مغل فوج منتشر ہوچکی تھی، جس کو جمع کرنا آسان کام نہ تھا۔ جنوری 1748ء میں چھڑنے والی اِس جنگ کا رخ تب بدل گیا جب شاہ نواز خان جنگ سے فرار ہو گیا اور اور لاہور کے وہ تمام مشیر جنہیں شاہ نواز خان نے نظربند کیا ہوا تھا، احمد شاہ درانی سے ملاقات کو گئے اور استدعاء کی کہ تاوان کے بدلے لاہور سے درانی فوج باہر نکالی لی جائے۔ 30 لاکھ روپئے تاوان اداء کیا گیا اور احمد شاہ درانی دہلی کو روانہ ہو گیا جہاں اُس کا مقابلہ مغل فوج سے ہوا اور 11 مارچ 1748ء کو منوپور کی لڑائی میں وزیر قمر الدین خان قتل ہو گیا اور مغل فوج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا جس سے ایک ہزار کے قریب افغانی قتل ہوئے اور احمد شاہ درانی نے میدانِ جنگ چھوڑ دیا اور واپسی کی راہ لی۔ اِس حملے کو احمد شاہ درانی کا ناکام حملہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]