احمد شاہ مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

احمد شاہ مسعود (پیدائش: 2 ستمبر 1953ء – وفات: 9 ستمبر 2001ء) افغانستان کے ایک سیاسی و عسکری رہنما تھے، جو 1979ء سے 1989ء کے درمیان سوویت قبضے کے خلاف مزاحمت میں اور بعد ازاں خانہ جنگی کے ایام میں بھی مرکزی حیثیت کے حامل تھے ۔ انہیں 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے صرف دو روز قبل ایک خودکش حملے میں مار دیا گیا۔

افغان فوجی دستے برسی کے دن احمد شاہ مسعود کے مزار پر پھول چڑھا رہے ہیں

مسعود نسلاً تاجک اور مسلکاً سنی تھے اور آپ کا تعلق شمالی افغانستان کی وادی پنجشیر سے تھا۔ آپ نے 1970ء کی دہائی میں کابل یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، جہاں وہ دوران تعلیم کمیونسٹ مخالف تحریک کا حصہ بنے۔ 1979ء میں سوویت اتحاد کے قبضے کے بعد مزاحمتی رہنما کا کردار نبھانے پر آپ کو شیر پنجشیر کا خطاب دیا گیا۔ 1992ء میں معاہدۂ پشاور کے تحت آپ کو افغانستان کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔ پھر افغان خانہ جنگی کے ایام میں آپ گلبدین حکمتیار اور بعد ازاں طالبان کے خلاف نبرد آزما رہے۔

1996ء میں طالبان کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد آپ ان کے نظریہ اسلام کے مخالف کے طور پر ابھرے اور ایک مرتبہ پھر ہتھیار اٹھا لیے۔ آپ نے شمالی اتحاد کے رہنما کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بالآخر 9 ستمبر 2001ء کو ایک خودکش حملےمیں مارے گئے۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ القاعدہ نے کروایا تھا جس میں تین حملہ آور صحافیوں کی حیثیت سے آئے اور دوران انٹرویو کیمرے میں نصب بم پھٹنے سے احمد شاہ مسعود چل بسے۔

افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی نے آپ کو "قومی ہیرو" کا خطاب دیا۔ ان کی برسی کے دن یعنی 9 ستمبر کو افغانستان میں "یوم مسعود" کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔