احمد شاہ مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
احمد شاہ مسعود
(فارسی میں: احمد شاه مسعود)،(طاجيكية میں: Аҳмадшоҳи Масъудخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 2 ستمبر 1953[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بازارک، پنجشیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 ستمبر 2001 (48 سال)[2][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
صوبہ تخار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Afghanistan (2002-2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،عسکری افراد کار،عسکری قائد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
کمانڈر شمالی اتحاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کمانڈر بہ (P598) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں افغانستان میں سوویت جنگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

احمد شاہ مسعود (پیدائش: 2 ستمبر 1953ء – وفات: 9 ستمبر 2001ء) افغانستان کے ایک سیاسی و عسکری رہنما تھے، جو 1979ء سے 1989ء کے درمیان سوویت قبضے کے خلاف مزاحمت میں اور بعد ازاں خانہ جنگی کے ایام میں بھی مرکزی حیثیت کے حامل تھے ۔ انہیں 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے دن ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے۔

افغان فوجی دستے برسی کے دن احمد شاہ مسعود کے مزار پر پھول چڑھا رہے ہیں

مسعود نسلاً تاجک اور مسلکاً سنی تھے اور آپ کا تعلق شمالی افغانستان کی وادی پنجشیر سے تھا۔ آپ نے 1970ء کی دہائی میں کابل یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، جہاں وہ دوران تعلیم کمیونسٹ مخالف تحریک کا حصہ بنے۔ 1979ء میں سوویت اتحاد کے قبضے کے بعد مزاحمتی رہنما کا کردار نبھانے پر آپ کو شیر پنجشیر کا خطاب دیا گیا۔ 1992ء میں معاہدۂ پشاور کے تحت آپ کو افغانستان کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا۔ پھر افغان خانہ جنگی کے ایام میں آپ گلبدین حکمتیار اور بعد ازاں طالبان کے خلاف نبرد آزما رہے۔

1996ء میں طالبان کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد آپ ان کے نظریہ اسلام کے مخالف کے طور پر ابھرے اور ایک مرتبہ پھر ہتھیار اٹھا لیے۔ آپ نے شمالی اتحاد کے رہنما کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بالآخر 9 ستمبر 2001ء کو ایک خودکش حملےمیں مارے گئے۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ القاعدہ نے کروایا تھا جس میں تین حملہ آور صحافیوں کی حیثیت سے آئے اور دوران انٹرویو کیمرے میں نصب بم پھٹنے سے احمد شاہ مسعود چل بسے۔

افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی نے آپ کو "قومی ہیرو" کا خطاب دیا۔ ان کی برسی کے دن یعنی 9 ستمبر کو افغانستان میں "یوم مسعود" کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔

  1. ^ 1.0 1.1 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6b8670v — بنام: Ahmad Shah Massoud — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14050447h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ