احمد شوقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احمد شوقی
أحمد شوقي
Ahmad shawqy.jpg
احمد شرقی کی تصویر۔
پیدائش 16 اکتوبر 1868(1868-10-16)
قاہرہ، خديويت مصر
وفات اکتوبر 14، 1932(1932-10-14) (عمر  63 سال)
قاہرہ، مملکت مصر
پیشہ ڈراما نگار، شاعر

احمد شوقی (1868–1932) (عربی: أحمد شوقي، مصری عربی تلفظ: [ˈʔæħmæd ˈʃæwʔi])، جسے احمد شوقی بک، عرف امیر الشعرا’ (شعرا کا بادشاہ، عربی: أمير الشعراءعربی ادب کا بہت بڑا شاعر ڈراما نگار تھا،[1] احمد شوقی کو مصر کا قومی شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

زندگی[ترمیم]

ان کی نظموں میں مغربی خیالات کا اظہار ہے، جواُن پر فرانسیسی لٹریچر کے مطالعہ کا اثر ہے۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یعنی مدح کے وقت مدح اور مرثیہ کے موقع پر درد وغم کا اظہا رکرتے ہیں۔ شوقی قاہرہ میں 1868ء میں پیدا ہوئے اور وہیں ابتدائی وثانوی تعلیم حاصل کی۔ شیخ صالح کے مدرسہ میں چار برس کی عمر میں داخل ہوئے۔ پھر کئی مدرسوں میں منتقل ہوئے۔ یہاں تک کہ مصر کے کالج سے ڈگری حاصل کی۔ 1887ء میں خدیو توقیق بن اسماعیل کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس گئے۔ وہاں دوسال تک قانون کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران میں انہوں نے انگلستان اور الجزائر کی بھی سیر کی۔ ابھی قانون کی تعلیم کا تیسرا سال بھی پورا نہ ہوا تھا کہ بیمار پڑ گئے جس کے علاج کے لیے الجزائر گئے۔ صحت یاب ہونے کے بعد پھر پیرس آئے اور قانون کی تعلیم کاتیسرا سال مکمل کیا۔ پیرس میں قیام کے دوران میں انہوں نے مغربی تہذیب وتمدن اور مغربی افکار کا گہرا مطالعہ کیا اور ابن الروحی کی طرح ان خیالات کا اظہار اپنی شاعری میں کیا۔ شوقی، صاحبِ ثروت وامارت تھے۔ 1896ء میں حکومت مصر کی طرف سے مستشرقین ی کانفرنس منعقدہ جنیوا میں نمائندہ بنا کر بھیجے گئے۔ پھر وہ خدیو مصر کے انگریزی ترجمان کے عہدے پر فائز ہوئے لیکن جب حکومت برطانیہ نے خدیو مصر کو معزول کر دیا تو یہ اس عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔ پھر جب سلطنت برطانیہ نے ان کو جلاوطن ہونے کا حکم دیا تویہ اسپین چلے گئے۔ 1915 سے 1919 تک کا زمانہ ان کی جلاوطنی کا ہے۔ اس جلاوطنی کی وجہ سے ان کے دل میں قوم ووطن کا جذبہ شدت اختیار کر گیا۔ 1919 میں جب مصر کا سیاسی مطلع صاف ہوا اور حالات درست ہوئے تووہ پھر مصر لوٹ آئے۔ 1919ء سے 1932ء تک کا دور شوقی کی ادبی زندگی کے عروج کا زمانہ ہے۔ وہ حافظ ابراہیم کے ہم پلہ شاعر مانے جاتے تھے اورجب 1932ء میں حافظ ابراہیم کا انتقال ہوا توانہوں نے حافظ کی موت پر ایک دردناک مرثیہ زنانہ (رلانے والا) کے عنوان سے لکھا جس کو رسالہ الضیاء نے اپنی کئی اشاعتوں میں شائع کیا۔ پھر جب اسی سال شوقی کا انتقال ہوا تو امین ناصرالدین نے حافظ ابراہیم کی زبان سے ان کا مرثیہ لکھا۔ اس کو بھی رسالہ الضیاء نے کئی اشاعتوں میں چھاپا۔ 1927ء میں شوقی کے اعزاز میں ایک عظیم الشان جلسہ انعقادپزیر ہوا۔ جس میں عرب ممالک کے بیشتر شاعروں اور ادیبوں نے شرکت کی اوران کی ادبی خدمات کا اعتراف کر تے ہوئے ان کو” امیرالشعرا“ کا لقب عطا کیا۔ شوقی کی شاعری کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : دورِاوّل :(1891–1915) اس دور کی شاعری قدیم اسلوب کی شاعری ہے کیونکہ اس میں زیادہ ترطویل منظومات ہیں۔ جو مدح، مرثیہ، غزل اور خمریات کے موضوعات پر لکھی گئی ہیں۔ اگرچہ اس دور کی شاعری قدیم طرز پر لکھی گئی روایتی انداز کی شاعری ہے لیکن اسلوب میں نیاپن اور تراکیب وبندش اورالفاظ میں جدت ہے۔ بیان میں سلاست وروانی ہے۔ نئی تشبیہات واستعارات ہیں۔ ان کی شاعری کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے نفسیاتی اورانسانی مدرکات کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا ہے۔ دور دوم: (1915–1919) شوقی کی زندگی کا یہ زمانہ ان کی جلاوطنی کا زمانہ ہے۔ انہیں اس دور میں حرمان نصیبی، حزن وملال اور رنج و الم کا احساس ہوا۔ اس احساس نے ان کو حب الوطنی ،ملی زوال، انسانی دکھ درد کا ادراک دیا اورا نہوں نے نہ صرف نغمہ غم بلکہ غم انسانیت کے گیت گائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ذات سے نکل کر آفاق کی پنہائیوں میں سرگرداں ہوتی ہے۔ انہوں نے انقلاباتِ زمانہ کو دیکھا تھا اور تعمیر ہوتے ہوئے نئے سماج کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا۔ دورسوم:(1919–1932) جب شوقی جلاوطنی کا زمانہ گزارنے کے بعد مصرواپس آئے تو ان کا دل ارض وطن کی محبت سے لبریز تھا۔ انہوں نے ملک وقوم کو اونچا اٹھانے کے لیے نظمیں لکھیں اور قومی فلاح وبہبود کا پیغام دیا۔

ملاحظات[ترمیم]

  1. Egypt۔ "Poet Laurate"۔ Tripadvisor.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-12-20۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • Glimpses of Ahmed Shawqi’s Life and Works، Egypt Magazine، Issue No. 19-Fall 1999.

بیرونی روابط[ترمیم]