احنف بن قیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احنف بن قیس
معلومات شخصیت
وفات سنہ 687  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

احنف بن قیس اپنے عہد کے بڑے عاقل،مدبر،حکیم اورحلیم تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

ضحاک نام،ابو بحرکنیت،عرفی نام احنف ہے،اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ احنف کے پیروں میں خلقی کجی تھی،عربی میں اس کو حنف کہتے ہیں،اس لیے وہ احنف مشہور ہو گئے نسب نامہ یہ ہے احنف ابن قیس بن معاویہ بن حصین بن حفص بن عباد ہ بن نزال بن مرہ بن عبید بن مقاعس بن عمرو بن کعب ابن سعد بن زید مناۃ بن تمیم کے سرداروں میں تھے۔

عہد رسالت[ترمیم]

احنف عہد رسالت میں مشرف باسلام ہوئے اوران کا قبیلہ انہی کی تحریک پر اسلام لایا [1] ابن سعد نے ان کے حالات تابعین ہی کے زمرہ میں لکھے ہیں۔ جس روایت سے ان کے اسلام کا نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو قبیلہ بنی سعد (احنف کا قبیلہ) میں تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا،انہوں نے جاکر اسلام پیش کیا احنف بھی موجود تھے،انہوں نے اسلامی تعلیمات سن کر کہا کہ یہ شخص بھلائی کی طرف بلاتا ہے اوراچھی باتیں سناتا ہے،مبلغ صحابی نے جاکر یہ واقعہ آنحضرتﷺ سے بیان کیا آپ نے سن کر دعا فرمائی کہ خدایا احنف کی مغفرت فرما۔[2]

عہد فاروقی[ترمیم]

عمر فاروق کو جب ان پر کامل اعتماد ہو گیا تو انہیں ان کے وطن بصرہ واپس کر دیا اور ابو موسیٰ اشعری والی بصرہ کو ہدایت کردی کہ ان کو اپنے ساتھ رکھنا،ان سے مشورہ لینا اوران کے مشوروں اورہدایتوں پر عمل کرنا احنف اہل بصرہ کے سردار تھے،عمرکے اس حکم کے بعد سے احنف کے مراتب روز بروزبلند ہونے لگے۔[3] فارس کی مہم میں شرکت اس وقت ایران پر فوج کشی ہوچکی تھی،بصرہ واپس جانے کے بعد احنف اس میں شریک ہوئے ؛چنانچہ 17ھ میں فارس کی مہم میں نظر آتے ہیں۔

خانہ جنگی سے اجتناب[ترمیم]

عثمان کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہوا اوراس وقت احنف نے اپنی تلوار میان میں کرلی؛چنانچہ جب علی اورعائشہ میں اختلافات شروع ہوئے،اس وقت احنف نے جو مکہ میں تھے عائشہ،طلحہ اورزبیرسے مل کر اصل حقیقت کا اندازہ کرکے علی کے ہاتھوں پر بیعت کرلی لیکن جنگ میں کسی جانب سے حصہ نہ لیا عائشہ نے بھی انہیں اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی لیکن اس وقت وہ بیعت کرچکے تھے۔

جنگ صفین میں شرکت[ترمیم]

جب علی اورامیر معاویہ میں جنگ چھڑی ،اس وقت ان کی حق شناس تلوار میان میں نہ رہ سکی اورانہوں نے علی کی حمایت میں نہایت پرجوش حصہ لیا اوراہل بصرہ کو ان کی امداد واعانت پر آمادہ کیا۔[4]

وفات[ترمیم]

عبد اللہ بن زبیرکے بھائی مصعب والی کوفہ کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے،احنف ان سے ملنے کے لیے کوفہ گئے،یہیں انتقال ہو گیا ابن عماد حنبلی کے بیان کے مطابق یہ 72ھ تھا ۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب شذرات الذہب :1/78
  2. ابن سعد،ق1:7/66
  3. اسد الغابہ:1/55
  4. اخبار الطوال:157