مندرجات کا رخ کریں

احیائے زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

احیائے زبان (جسے تجدید زبان یا بحالیِ زبان یا زبان کا احیا کرنا یا لسانی انحطاط کا سد باب بھی کہا جاتا ہے) ایک ایسی کوشش ہے جس کا مقصد کسی زبان کے زوال کو روکنا یا اس کے استعمال کو دوبارہ زندہ کرنا ہوتا ہے خواہ وہ زبان معدوم ہو چکی ہو یا محض قریب الختم ہو۔[1][2] ان کوششوں میں ماہرین لسانیات، ثقافتی یا مقامی برادریاں اور بعض اوقات حکومتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ کچھ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ احیائے زبان (یعنی ایسی زبان کو دوبارہ زندہ کرنا جس کے کوئی فصیح یا مادری طور پر بولنے والے باقی نہ ہوں) اور بحالیِ زبان (ایسی زبان کو دوبارہ قوت بخشنا جو زوال کا شکار ہو رہی ہو) میں فرق ہونا چاہیے۔

ایسی زبانیں جن کے استعمال اور اہمیت میں شدید کمی آ چکی ہو، اکثر احیائے زبان کی کوششوں کا مرکز بنتی ہیں۔ بعض اوقات ایسی تدابیر جن کا مقصد کسی زبان کو بچانا ہو، معدوم ہو چکی زبانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ احیائے زبان کے مقاصد ہر زبان اور صورت حال کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں لیکن عمومی طور پر اس کا ہدف یا تو زبان بولنے والوں کی تعداد اور اس کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے یا کم از کم اس موجودہ حالت کو محفوظ رکھنا تاکہ زبان کے مکمل خاتمے سے بچایا جا سکے۔

مخصوص مثالیں

[ترمیم]

مردہ زبان (یعنی ایسی زبان جس کے مادری طور پر کوئی بھی بولنے والے باقی نہ ہوں) کو مکمل طور پر اس طرح زندہ کرنا کہ وہ ایک خود کفیل معاشرے کے کئی ملین افراد کی مشترکہ بول چال کی زبان بن جائے، صرف ایک بار ہوا ہے اور وہ ہے عبرانی زبان کا احیا، جس کے نتیجے میں جدید عبرانی وجود میں آئی جو اب ریاست اسرائیل کی قومی زبان ہے۔ اس صورت میں کچھ مخصوص تاریخی و ثقافتی عوامل نے زبان کے احیا میں مدد دی۔ عبرانی جو کبھی محض مذہبی زبان ہوا کرتی تھی، انیسویں صدی عیسوی سے یہودیوں کے روزمرہ رابطے کی زبان کے طور پر بحال ہوئی جن میں سے بعض وہیں رہتے تھے جہاں آج ریاست اسرائیل قائم ہے۔ یہ دنیا میں زبان کی احیا کی سب سے مشہور اور کامیاب مثال ہے۔

اسی نوعیت کی ایک اور پیش رفت میں وہ ادبی زبانیں شامل ہیں جن کے بولنے والے تو اہلِ زبان نہیں ہوتے مگر وہ بے حد باوقار اور عملی طور پر رابطے کی زبان کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور بعض اوقات ان کے کروڑوں ماہر و رواں بولنے والے ہوتے ہیں۔ ایسی بہت سی صورتوں میں جب ان زبانوں کے استعمال میں تیزی سے کمی آئی تو اس کے بعد ان کی شاندار تجدید بھی دیکھنے میں آئی۔ جیسے نشاۃ ثانیہ کے زمانے میں کلاسیکی لاطینی کی تجدید یا ابتدائی صدیوں میں سنسکرت کی دوبارہ بحالی۔ اسی طرز کی ایک مثال موجودہ عرب دنیا میں جدید معیاری عربی جو چھٹی صدی عیسوی کی فصحى عربی کی ایک شکل ہے، کے استعمال میں اضافہ ہے۔ یہ زبان تمام تعلیم یافتہ افراد کو سکھائی جاتی ہے اور ریڈیو نشریات، رسمی مباحثوں اور دیگر رسمی مواقع پر استعمال ہوتی ہے۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ Tsunoda, Tasaku. Language Endangerment and Language Revitalization. Berlin: Mouton De Gruyter, 2005. p. 169. Print.
  2. ↑ Aidan Pine; Mark Turin (29 Mar 2017). "Language Revitalization". Oxford Research Encyclopedia of Linguistics (بزبان انگریزی). Oxford University Press. Vol. 1. DOI:10.1093/acrefore/9780199384655.013.8. ISBN:978-0-19-938465-5.
  3. ↑ Kaye, Alan S. "Arabic." Morphologies of Asia and Africa. Winona Lake, IN: Eisenbrauns, 2007. 560-77. Print.