اخبار مجموعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اخبار مجموعہ

اخبار مجموعہ، اسلامی اندلس کے ابتدائی دور کی تاریخ پر ایک مختصر عربی دستاویز ہے جو فتح اندلس کے ابتدائی دور کے حال سے ہمیں باخبر کرتی ہے۔ اس کتاب کا پورا نام ’اخبار المجموعہ فی فتح الاندلس وذکر امرائھا رحہم اللہ و الحروب الواقعۃ بہا بینہما‘ ہے۔اس کتاب میں ہمیں اندلس کی طرف پیش قدمی کے اسباب کے بارے میں تفصیلی آگاہی ملتی ہے۔ یہ چوتھی صدی ہجری میں تصنیف ہوئی تھی، افسوس ہے کہ ہم اس کے حقیقی مصنف کا نام نہیں جانتے ہیں کیونکہ اس کا محفوظ رہنے والا واحد مخطوطہ صفحہ اوّل سے محروم ہے۔

تاریخ الاندلس۔ اخبار مجموعہ مطبوعہ 2019ء


پہلی اشاعت[ترمیم]

عربی کا زیرترجمہ نسخہ سنہ 1867ء میں میڈرڈ (سپین) سے شائع ہوا تھا۔ اسپینی پروفیسر لافیونتے القنطری نے اسے اصل عربی قلمی متن کے عکس کے ساتھ شائع کیا تھا اور اس کے مقدمے وغیرہ میں اپنی تحقیق کی تفصیل بیان کی تھی۔

عربی اشاعت[ترمیم]

مشہور عربی دان مؤرخ و محقق ابراہیم الایباری نے اسپینی نسخے کو بیسویں صدی کے اوائل میں عربی میں ترجمہ کیا۔اس تحقیقی نسخے کو مصر اور بیروت سے شائع کیا گیا جو اب بھی عام دستیاب ہیں۔

انگریزی اشاعت[ترمیم]

پروفیسر ڈیوڈ جیمس نے 2012ء میں اسپینی نسخے کو انگریزی میں بعنوان ’ A History of Early Al-Andalus: The Akhbar Majmu'a‘ ترجمہ کیا اور اسلامی اندلسی لٹریچر کی روشنی میں اس پر تفصیلی بحث کی۔

اردو اشاعت[ترمیم]

مولوی محمد زکریا مائل بھوپالی نے 1927ء میں اسے عربی زبان سے اردو میں ترجمہ کیا جو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے ماہوار رسالہ جامعہ میں 1931ء میں قسط وار شائع ہوا۔ 1942ء میں اسے کتابی صورت میں بعنوان ’اخبار مجموعہ‘ انجمن ترقی اردو ہند نے شائع کیا۔ 2019ء میں اس میں جدید تحقیقی مقالوں کے ساتھ معظم جادیدؔ بخاری نے ازسرنو تدوین کیا اور جدید ایڈیشن شائع کیا گیا، جس صفحات کی تعداد 240 ہے۔

احاطہ ٔ دور[ترمیم]

اخبار مجموعہ نامی یہ کتاب بنیادی طور پر اسپین یعنی اندلس میں مسلمانوں کی ابتدائی دورِ حکومت کے تاریخی واقعات کو اجاگر کرتی ہے جو سنہ 711ء سے شروع ہوتا ہے اور نشیب و فراز کی منازل طے کرتا ہوا دورِ امارت سے دور خلافت میں داخل ہوتا ہے۔ اس کتاب میں تاریخ کا تسلسل پہلے اندلسی اور اموی خلیفہ عبدالرحمن الناصر (سنہ 912ء تا 961ء) تک پہنچتا ہے، جس نے اندلس میں اموی خلافت کا احیاء کیا اور دمشق میں اموی خلافت کی ٹوٹی ہوئی کڑی کو ایک بار پھر جوڑ دیا تھا۔ کتاب کے مضمون کا احاطہ سنہ 961ء تک پہنچ کر ختم ہو جاتاہے۔

اخبار مجموعہ کا واحد مخطوطہ یا قلمی نسخہ[ترمیم]

یہ قلمی نسخہ اسی دور کے مؤرخ ابن القوطیہ کی کتاب ’افتتاح الاندلس‘ کے قلمی نسخے کے ساتھ ایک ہی جلد میں مجلد شکل میں فرانس کی شاہی لائبریری پیرس کے شعبہ عربیات متعلقہ سنہ 1867ء میں محفوظ ہے۔ اسے فرانس کی شاہی لائبریری (Bibliotheque Royale) نے سترہویں صدی عیسوی میں اپنے قبضے میں لیا تھا۔ گمنام مصنف کی طرح یہ بات بھی معلوم نہ ہو پائی کہ اسے کہاں سے اور کس شخص سے حاصل کیا گیا تھا؟ لیکن امکان ہے کہ اسے قریبی مشرقی علاقہ جات میں سے دیگر قلمی نسخہ جات برآمد کرنے والی مہم کے دوران حاصل کیا گیا ہو جسے قدیمی مخطوطوں کے حصول کے لیے اس صدی کے وسط میں منظم کیا گیاتھا۔

یہ قلمی نسخہ سٹرسٹھ (67) مغربی کاغذوں پر مشتمل ہے جو چار انچ چوڑے اور بارہ انچ لمبے ہیں۔ اس قلمی نسخے کو ایک سخت خول میں مضبوطی کے ساتھ جلد بند کیا گیا ہے جسے بعد کے دور میں مرمت بھی کیا گیا ہے۔ اس کا عکس بالکل صاف ستھرا نہیں ہے۔ ابن القوطیہ کا قلمی نسخہ افتتاح الاندلس کے خاتمے کے بعد اخبار مجموعہ کا نسخہ کا متن شروع ہو جاتا ہے۔ دونوں کے صفحات کا سائز ایک جیسا ہے، پہلی نظر میں یہی احساس ہوتا ہے کہ اخبار مجموعہ سابقہ تاریخ ابن القوطیہ کا ہی جزوہے۔ ممکن ہے کہ اس کی سطور کی تعداد بھی ایک جیسی ہی ہو۔ اس کے کچھ اوراق کی رنگت بھوری گلابی مائل ہے جبکہ دیگر صفحات کی رنگت بھی مختلف ہے، قیاس کیا گیا ہے کہ مصنف نے مختلف النوع کاغذوں کا استعمال کیا ہے۔ متن کی کتابت کے لیے مغربی عربی خط کا استعمال کیا گیا ہے جسے ’مبسوط الثلث‘ کہا جاتا ہے یا ممکن ہے کہ یہ اس خطوط میں سے ایک ہے جنہیں ’مجاضر‘ کہا جاتا ہو۔ کاغذ کی بناوٹ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ کاغذ شمالی اسپین اور اٹلی کیے مختلف کارخانوں میں تیار کیا گیا ہے۔اس کاغذ میں مخصوص طرز کے نشانات پائے گئے ہیں جنہیں سرقسطہ میں سنہ 1320سے 1470ء تک تیار کیا جاتا تھا۔

رسم الخط دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اسے کتابت کرنے والا مشاق خطاط رہا ہوگا ممکن ہے کہ وہ پیشہ ور خطاط بھی ہو، بہرکیف ہم اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتے۔ ہر صفحہ پر پندرہ سطریں موجود ہیں اور متن بھر میں پھیلاؤ دکھائی دیتا ہے۔ قلمی نسخے پر کسی قسم کے دستخط نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کاتب نے کوئی الگ حاشیہ آرائی کی ہے۔ اس کے مقابلے میں ابن القوطیہ کی تاریخ کے قلمی نسخے کے حاشیہ جات پر کئی جملے، ماخذ اور تواریخ پائی جاتی ہے۔ قلمی نسخے کے حاشیہ پر کوئی الگ نام، تاریخ یا دوسرا حوالہ موجود نہیں ہے۔

اخبارمجموعہ کا متن[ترمیم]

چند واقعات ایسے ہیں جو صرف اسی کتاب میں ہی موجود ہیں، دیگر تاریخ کی کتب میں نہیں پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کے مابین ناخوشگواری کی اصل وجہ کیا تھی؟ کئی مقامات پر مصنف واقعات کے عینی شاہدین سے ملاقات اور ان کی زبانی حال کا ذکر کرتا ہے۔ متعدد جگہوں پر راوی یا مروی کا لکھتا ہے مگر ان کے نام وغیرہ بتانے سے گریز کرتا ہے۔ کئی مقامات پر کچھ تاریخی غلطیاں لگتی ہیں کہ یہ ویسی بات نہیں ہے جیسی دیگر تواریخ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ البتہ یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ اخبار مجموعہ کا مؤلف خالص اندلسی شخص ہے جسے مشرق یعنی مصر وشام میں آنے کا کبھی موقع نہیںملا تھا اور خصوصاً خلافت بنی امیہ دمشق کے بارے میں اس کی معلومات ناقص تھیں یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس نے دربار دمشق کے بارے میںجو باتیں اندلسی مسلمان مکینوں یا مسافروں کی زبانی معلوم ہوئی تھیں، وہ اس نے سنی سنائی باتوں کو صحیح مان کر تحریر کر دی ہوں یا اس عہد میں جو مشرقی مؤرخین اس کا مآخذ رہے ہوں، ان کے ذرائع اتنے بھرپور نہ ہوں جتنے آنے والے ادوار میں دیگر مؤرخین کو حاصل ہوئے۔

اس کے باوجود اس کتاب میں اندلس کے کئی مشہور عربی خاندانوں کا ذکر کرتے ہوئے اندلس میں مسلمانوں کے متعدد ادبی و تاریخی ادوار کی توضیح کی گئی ہے۔ امرأ و خلفاء اندلس کی حکومت پر کئی پہلوؤں سے تبصرہ کیا گیا ہے خصوصاً اس عہد کی علمی ترقیوں کی خوب وضاحت کی گئی ہے اور اس سلسلے میں متن کی حدود سے قطع نظر کرکے اندلس کے پورے اسلامی دور کی تعلیمی و ادبی سرگرمیوں پر بحث ہوئی ہے۔ بعض نامور خلفاء و علما کے قابل دید حالات اور اس زمانے کے کتب خانوں کا تذکرہ موجود ہے، جس سے یہ حصہ بہت دلچسپ اور مفید معلومات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اندلس میں مسلمانوں کا ابتدائی دور کتنا ہنگامہ پرور اور عجیب و غریب دور تھا۔ انہوں نے اپنے وطن چھوڑ کر اتنی دوردراز سرزمین پر حکومت کرنے میں کیسی کیسی صعوبتیں برداشت اور کس بہادری و شجاعت کے ساتھ دشمنوں پر قابو پاکر امن و امان قائم کیا۔ یہ حقیقت اسی حصے کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے کہ تاریخ اندلس کے موضوع پر جتنی کتب موجود ہیں، ابتدائی اسلامی فتوحات کی اتنی تفصیل کسی میں ایک جگہ نہیںملتی ہے۔ اس میں جہاں موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کی معرکہ آرائیوں اور پیش قدمی کا پورا پورا حال درج ہے تو دوسری طرف اندلس میں اموی حکومت کے بانی امیر عبدالرحمن الداخل کی انتھک کوشش اور حالات پر قابو پانے کی بہادرانہ جدوجہد کی خاطرخواہ تفصیل بیان کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں امیر عبدالرحمن الداخل کی مجاہدانہ زندگی کے نمایاں خدوخال شرح و بسیط کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔