اختر اورینوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیدائش:19 اگست 1910

انتقال:31 مارچ 1977

اختر اورینوی اردو زبان کے مشہور ناقد، افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر، ڈراما نگار اور خاکہ نگار گزرے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

اختر اورینوی کی پیدائش 1910ء کو بہار کے ایک تاریخی قصبہ اورین میں ہوئی جو ضلع مونگیر میں واقع ہے۔ وہ بچپن سے ہی بلا کے ذہین تھے، اس لیے ان کے والدین انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ ان کا داخلہ بھی میڈیکل کالج میں ہو گیا لیکن اسی دوران ان پر ٹی بی کا حملہ ہوا اور ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ کئی مہینوں تک سینی ٹوریم میں رہنے کے بعد جب وہ واپس لوٹے تو ڈاکٹری کا شعبہ کہیں پیچھے چھوٹ گیا کیوں کہ انہیں تو کسی دوسرے میدان میں اپنے جھنڈے گاڑنے تھے۔

اردو ادب[ترمیم]

انہوں نے اردو میں ایم اے کیا اور پٹنہ یونیورسٹی میں لکچرر ہو گئے۔ بعد میں انہوں نے بہا رمیں اردو ادب کے ارتقا کے موضوع پر ڈی لٹ کی ڈگری لی اور بہا رمیں یہ سند حاصل کرنے والے اولین اسکالر تھے۔ اختر اورینوی جب ادب کی شاہراہوں پر چلے تو انہوں نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ دو درجن سے زائد کتب شائع ہوئیں اور کتنی ہی کتب کی انہوں نے تدوین کی۔ ان کی تنقیدی کتب میں قدر و نظر، تحقیق و تنقید، کسوٹی، مطالعہٴ اقبال، مطالعہ نظیر، سراج و منہاج اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ڈراموں میں شہنشاہ حبشہ اور زوال کینٹن افسانوی مجموعوں میں منظر و پس منظر، کلیاں اور کانٹے، انار کلی اور بھول بھلیاں، سیمنٹ اور ڈائنامنٹ، کیچلیاں اور بال جبرئیل اور سپنوں کے دیس میں ہیں۔ ان کے علاوہ ان کا مجموعہ کلام انجمن آرزو بھی ان کی زندگی میں شائع ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ایک ناو ل حسرت تعمیر بھی شائع ہوا اور اس ناول کا ادبی حلقوں میں بہت عرصے تک ذکر رہا،کیوں کہ چھوٹا ناگپور کی آدیباسی زندگی پر لکھا جانے والا یہ پہلا ناول تھا۔ ان کے ڈاکٹریٹ کا مقالہ ”بہار میں اردو ادب کا ارتقا“ بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ اورینوی کی اہلیہ شکیلہ اختر بھی بلند پایہ افسانہ نگار تھیں اور ان کے چار افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

تجھ کو معلوم ہے دل پر مرے کیا گزری ہے
وادیِ غم سے دعا آبلہ پا گزری ہے
تیرے کاکل کی مچلتی ہوئی یادوں کی قسم
آہ نکلی ہے ترے بن جو صبا گزری ہے
کوئی اختر کو بھلا دے گا تسلی ہم دم
زندگی اس کی خود اپنے سے خفا گزری ہے

مزید دیکھیے[ترمیم]