اختر رضا سلیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اختر رضا سلیمی
پیدائش محمد پرویز اختر16 جون 1974 (1974-06-16)ءکیکوٹ، ہری پور، خیبر پختونخوا، پاکستان
قلمی نام اختر رضا سلیمی
پیشہ شاعر، ناول نگار، مدیر
زبان اردو، ہندکو زبان
شہریت پاکستان کا پرچمپاکستانی
تعلیم ایم اے (اردو)
مادر علمی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی
صنف شاعری، ناول
نمایاں کام اختراع
ارتفاع
خواب دان
جاگے ہیں خواب میں

اختر رضا سلیمی (پیدائش: 16 جون، 1974ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے بقید حیات اردو اور ہندکو زبان کے شاعر، ناول نگار اور اکادمی ادبیات پاکستان کے جریدہ ادبیات کے مدیر ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

اختر رضاسلیمی 16 جون، 1974ء کو کیکوٹ، ہری پور، خیبر پختونخوا، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی نام سردار محمد پرویز اختر ہے۔ اختر رضا سلیمی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی بعد ازاں وہ کراچی چلے گئے جہاں سےمیٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد وہ راولپنڈی منتقل ہو گئے۔انہوں نےانٹر یڈیٹ راولپنڈی بورڈ سے، گریجویشن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے اور ایم اے (اردو) سرگودھایونیورسٹی سے کیا۔ 2006ء میں انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان میں اپنی ملازمت کا آغاز کیا، جہاں آج کل وہ اردو ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے سہ ماہی جریدے ادبیات کے مدیر بھی ہیں۔

ادبی خدمات[ترمیم]

اختررضا سلیمی نے لکھنے کا آغاز 1992ء میں روزنامہ جنگ میں بچوں کے لئے ایک کہانی لکھ کر کیا۔ شروع میں انہوں نے سماجی، معاشرتی، سیاسی، مذہبی اور ادبی موضوعات پر مضامین اور کالم بھی لکھے، لیکن آج کل وہ نئی نسل کے ایک اہم شاعر اور ناول نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ انہوں نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 1997ء میں کیا اور بہت جلد شاعری کے میدان میں اپنا سکہ جما لیا۔[1] اختر رضاسلیمی ایسے لوگوں میں سے ایک جن کے ابتدائی شعر ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ اختراع 2003ء میں جبکہ دوسرا شعری مجموعہ ارتفاع 2008ء میں منظر عام پر آیا۔ 2014ء میں ان کی نظموں کا مجموعہ خواب دان کے نام سے منظر عام پر آ چکا ہے ۔ 2009ء میں ان کے یہ دونوں شعری مجموعے خوشبو مرے ساتھ چل پڑی ہے کے نام سے یکجا صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ناول جاگے ہیں خواب میں بھی شائع ہوا۔یہ ناول اسلام آباد کے عقب میں واقع مارگلہ کے پہاڑی سلسلے کے دوسری طرف بہنے والے دریائے ہرو کے آس پاس رہنے والوں کی زندگیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ناول کا نمایاں رنگ آواگون یا تناسخ کا نظریہ ہے، جس کے تحت ناول کا مرکزی کردار زمان مختلف ادوار میں مختلف شناختیں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ادوار اشوکِ اعظم کے عہد سے لے کر انیسویں صدی میں انگریزوں کی عمل داری اور پھر سے وہاں سے ہوتے ہوئے جدید زمانے تک سفر کرتے ہیں۔[2]

اختر رضا سلیمی کے فن پر مقالہ[ترمیم]

اختر رضا سلیمی کا شمار ان خوش نصیب شعرا میں ہوتا ہے، جن کی شاعری کا اعتراف ہر سطح پر کیا گیا۔ انہیں نہ صرف عوامی اور ادبی حلقوں سے داد ملی بلکہ ان کی شاعری کا اعتراف ان کی کم عمری میں ہی یونیورسٹی کی سطح پر ایم اے کا مقالہ لکھ کر بھی کیا گیا [3]۔ 2009ء میں نمل یونیورسٹی کی طالبہ نادیہ پروین نے ان کی مطبوعات اختراع اور ارتفاع کے تناظر میں ایم اے کا مقالہ لکھ کر ڈگری حاصل کی۔

نمونۂ کلام[ترمیم]

اشعار

میں عکس اس کا شعر میں ایسا اتارا تھا سب نے مرے کلام کا صدقہ اتارا تھا
پھر اس کے بعد گر گیا سونے کا بھاؤ بھی اک شام اس نے کان سے جھمکا اتارا تھ

غزل

تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے کنار چشم کئی خواب سر اٹھانے لگے
پلک جھپکنے میں گزرے کسی فلک سے ہم کسی گلی سے گزرتے ہوئے زمانے لگے
مرا خیال تھا یہ سلسلہ دیوں تک ہے مگر یہ لوگ مرے خواب بھی بجھانے لگے
نجانے رات ترے مے کشوں کو کیا سوجھی سبو اٹھاتے اٹھاتے فلک اٹھانے لگے
وہ گھر کرے کسی دل میں تو عین ممکن ہے ہماری دربدری میں بھی کسی ٹھانے لگے
میں گنگناتے ہوئے جا رہا تھا نام ترا شجر ہجر بھی مرے ساتھ گنگنانے لگے
حدود دشت میں آبادیاں جو ہونے لگیں ہم اپنے شہر میں تنہائیاں بسانے لگے
دھواں دھنک ہوا انگار پھول بنتے گئے تمہارے ہاتھ بھی کیا معجزے دکھانے لگے
رضا وہ رن پڑا کل شب بہ رزم گاہ جنوں کلاہیں چھوڑ کے سب لوگ سر بچانے لگے

تصانیف[ترمیم]

شعری مجموعے[ترمیم]

  • 2003ء - اختراع
  • 2008ء -ارتفاع
  • 2009ء -خوشبو مرے ساتھ چل پڑی ہے (کلیات)
  • 2014ء -خواب دان

ناول[ترمیم]

  • 2015ء - جاگے ہیں خواب میں

مرتب کردہ[ترمیم]

  • 2012ء -2011ء کی بہترین غزلیں
  • 2015ء - ایک ملک ایک کہانی

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]