اختر ہاشمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اختر ہاشمی
Akhter-Hashmi.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 20 اگست 1954  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 جون 2021 (67 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس،  پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  ادبی تنقید نگار،  محقق  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سید منقاد حیدر ہاشمی المتخلص اختر ہاشمی (پیدائش: 20 اگست 1954ء - 13 جون 2021ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے ممتاز نعت اور مرثیہ گو شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور محقق تھے۔ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، غزل، مرثیہ اور سلام کی اصنافِ سخن میں طبع آزمائی۔ ان کے والد حبیب جونپوری اردو کے نامور تھے جبکہ نعت گو شاعر وحید الحسن ہاشمی چچا اور اردو کے معروف ادیب، و محقق شبیہ الحسن ہاشمی ان کے چچا زاد بھائی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

اختر ہاشمی 20 اگست 1954ء کو لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید منقاد حیدر ہاشمی اور تخلص اختر ہے لیکن اختر ہاشمی کے قلمی نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے اجداد کا تعلق الہ آباد اور جون پور سے تھا۔ تقسیم ہند کے وقت خاندان نے ہجرت کی۔ ابتداً کراچی میں قیام کیا، پھر لاہور منتقل ہو گئے۔ ان کے دادا سید شبیر حسن صفا الہ آبادی بھی معروف شاعر تھے۔ اختر کے والد حبیب جون پوری بھی قادر الکلام شاعر تھے، جن کا مجموعہ کلام کلیات حبیب لاہور سے شائع ہوا۔ مجموعہ نعت یٰسین کے مصنف وحید الحسن ہاشمی ان کے چچا ہیں۔ جبکہ معروف ادیب، نقاد اور محقق شبیہ الحسن ہاشمی ان کے چچا زاد بھائی ہیں۔ اختر ہاشمی نے میٹرک تک تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ جامعہ کراچی سے 1985ء میں ایم اے اکنامکس اور 2007ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔[1] تعلیم کے حصول کے بعد پیشہ ورانہ زندگی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ کم عمری سے ہی شعر کہنا شروع کیا۔ شعری سفر کا باقاعدہ آغاز غزل سے کیا۔ بعد میں حمد، نعت، سلام، منقبت اور مرثیے کی اصناف میں طبع آزمائی کی، افسانے بھی لکھے۔ ادبی و تحقیقی مضامین بھی لکھے جو ملکی اور بیرون ملکی رسائل و جرائد میں تواتر سے شائع ہوتے رہے۔ئے۔ 2006ء میں سفر حرمین شریفین کی سعادت حاصل ہوئی۔ 1987ء سے نعت کہنی شروع کی۔اختر ہاشمی کی مطبوعہ کتابوں کی تعداد 28 ہے، جن میں افسانوی و شعری مجموعوں،ناول، تنقیدی و تحقیقی کُتب کے علاوہ نعتوں اور افسانہ نگاروں کے انتخاب بھی شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں ارددو مثنوی کا ارتقا (میر حسن سے فضا اعظمی تک)، اردو افسانے کا سفر (2012ء)، خاموش آئینوں کی طرح (مجموعہ غزل، 2012ء)، تخلیقی آنکھ (تنقید، 2011ء)، حروفِ مدحت (مجموعہ حمد، نعت و منقبت) اور غیبتِ کبریٰ (مجموعہ مرثیہ و سلام) ، شاہِ مدینہ (نعتیں)، مقبول نعتیں (انتخاب)، اشعار امام حسین، حبیب جونپوری (فن و شخصیت) (2013ء)، اختر مرثیے (2016ء)، آئینے کے زخم (افسانے)، محبت کی نئی کہانی (افسانوی انتخاب، 2013ء)، عصرِ رواں (تحقیقی و تنقیدی مضامین، 2013ء)پر اسرار دنیا (ناول، 2013ء)، دس بڑے نظم نگار (تجزیاتی مضامین، 2013ء)، نیا سویرا (بچوں کے لیے ناول)، افسانے زندگی کے (افسانے، 2001ء) اور اشعارِ امام حسین (2013ء)، شامل ہیں۔ وہ متعدد ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ رہے۔ عالمی بزم ادب، پاکستان کے وہ بانی صدر تھے۔ عالمی بزم نسیم ادب کے جنرل سیکریٹری تھے۔ ایک فلاحی تنظیم انٹرنیشنل حسینی آرگنائزیشن کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔[2]

اعزازات[ترمیم]

  • کیفی اعظمی ایوارڈ (بھارت)
  • خوش گلو ایوارڈ (مسقط)

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر اختر ہاشمی 13 جون 2021ء میں کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے۔ وہ کراچی میں وادی حسین قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. منظر عارفی، کراچی کا دبستان نعت، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2016ء، ص 50
  2. منظر عارفی، حدیقہ مناقب، ادبستانِ انصار کراچی، 2021ء، ص 17