اخزیاہ (شاہ یہوداہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اخزیاہ (شاہ یہوداہ)
شاہِ سلطنت یہوداہ
Ahaziah of Judah.png
اخزیاہ شاہ یہوداہ
معیاد عہدہ 842 - 841 ق م
پیشرو یہورام (شاہ یہوداہ)
جانشین عتلیاہ
شریک حیات ضبیاہ
نسل یوآس (شاہ یہوداہ)
مکمل نام
اخزیاہ بن یہورام
عبرانی אֲחַזְיָה
خاندان آل داؤد
والد یہورام (شاہ یہوداہ)
والدہ عتلیاہ
پیدائش یروشلم، مملکت یہوداہ
وفات 841 ق م
مجدو، مملکت اسرائیل (سامریہ)
تدفین ت 841 ق مشہر داؤد

اخزیاہ یا آخزیاہ سلطنت یہوداہ کا چھٹا بادشاہ تھا۔ وہ یہورام کا بیٹا اور یہورام اور اخزیاہ بادشاہان اسرائیل کا بھانجا تھا۔ 907 قبل مسیح کو پیدا ہوا اور 884 قبل مسیح قتل کر دیا گیا۔

یہوسفط بادشاہ یہوداہ کا یہ پوتا 885 قبل مسیح میں بائیس برس کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ اس نے بھی اپنے ماموں اخزیاہ شاہ اسرائیل کی طرح صرف ایک برس ہی حکومت کی اور یہورام شاہ اسرائیل کے سپاہ سالار یاہو نے اسے 884 قبل مسیح میں قتل کر دیا۔ اور یوں اس نے اس شاہانہ زندگی کی شیرینی کا مزہ تھوڑی دیر کے لیے چکھا۔

اس کی ماں عتلیاہ، اخزیاہ بادشاہ اسرائیل کی بہن اور آخیاب (اخی اب) بادشاہ اسرائیل کی بیٹی تھی۔ وہ گناہوں کا مجسمہ تھی ، اس لیے اس کی بری صلاح نے اخزیاہ کو اپنے باپ یہورام کے تجربے سے فائدہ نہ اٹھانے دیا۔ اور وہ اپنے باپ کے برے نمونوں پر چلا اور بت پرستی کو ترقی دیتا رہا۔ اس نے اپنے ماموں یہورام کی حمایت کی جو اس وقت رامات جلعاد کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہو رام شاہ اسرائیل اس لڑائی میں جب زخمی ہوا تو اخزیاہ اسے کی عیادت کرنے برزعیل چلا گیا۔ اس پر یہورام کے سپاہ سالار یا ہو کو ایک نبی جس کو خداوند نے مبعوث کیا تھا نے آخیاب کے گھرانے کے خاتمے کے لیے کہا ۔ بادشاہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ اخزیاہ کے ہمراہ بغاوت کو فرو کرنے اور مخالفین کو کچلنے باہر نکل آیا۔ چونکہ یہورام اور اخزیاہ دونوں آخیاب کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ، اس لیے یاہو کی تلوار دونوں کے خون کی پیاسی تھی۔ اس کےچلائے ہوئے ایک تیر نے یہورام کا خاتمہ کر دیا۔ مگر اخزیاہ بھاگ کھڑا ہوا لیکن بالآخر وہ بھی مارا گیا۔ اس کے بعد یاہو نے بعل زبول دیوتا اور اس کے پجاریوں ، کاہنوں اور ماننے والوں کو تہ تیغ کیا۔

اخزیاہ کے بعد اس کی ماں عتلیاہ تخت نشین ہوئی اور تخت پر بطور نشانی اپنے پوتے اور اخزیاہ کے بیٹے یوآس کو جو اس وقت سات برس کا تھا ، بٹھا دیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ماہنامہ معلومات، قسط 9، فروری 1971، ص 270- مدیر سید مظفر حسین- شیش محل کتاب گھر، چوک سنت نگر ، لاہور