ادد نیراری دوم
| |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| معلومات شخصیت | |||||||
| تاریخ پیدائش | 10ویں صدی ق.م | ||||||
| تاریخ وفات | سنہ 891 ق مء | ||||||
| شہریت | جدید آشوری سلطنت | ||||||
| اولاد | توکولتی نینورتا دوم | ||||||
| والد | آشور دان دوم | ||||||
| مناصب | |||||||
| بادشاہ آشور سلطنت | |||||||
| برسر عہدہ 911 ق.م – 891 ق.م | |||||||
| |||||||
| دیگر معلومات | |||||||
| پیشہ | مقتدر اعلیٰ | ||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
ادد نیراری دوم آشور کا ایک عظیم بادشاہ تھا اور اسے عموماً نوآشوری سلطنت کا پہلا حکمران اور بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا دور عصرِ آہن میں آشوری طاقت کے دوبارہ عروج کا آغاز تھا۔ اس نے اپنے والد آشور دان دوم کے بعد اقتدار سنبھالا اور آشور کو کمزوری اور زوال کے دور سے نکال کر دوبارہ ایک طاقتور ریاست میں تبدیل کر دیا۔ اپنی فوجی صلاحیتوں اور مضبوط قیادت کے ذریعے اس نے پڑوسی ریاستوں اور قبائل کو زیرِ نگیں کیا اور آشوری اقتدار کو وسیع کرنے کی بنیاد رکھی۔
اس کے دور میں: آشور کی سیاسی اور عسکری طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پڑوسی ممالک اور ریاستوں پر آشوری بالادستی قائم ہوئی۔ بعد کے آشوری بادشاہوں کی فتوحات اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کی بنیاد رکھی گئی۔ آشور دوبارہ مشرقِ قریب کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ ادد نیراری دوم کی اصلاحات اور فتوحات کے نتیجے میں آشور نے وہ راستہ اختیار کیا جس کے ذریعے بعد کی صدیوں میں اس کی سلطنت بحیرۂ روم سے لے کر خلیج فارس تک پھیل گئی۔ اسی وجہ سے قدیم تاریخ میں اسے نوآشوری سلطنت کا بانی سمجھا جاتا ہے۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ احمد زيدان الحديدي، الملك الآشوري ادد نيراري الثاني آرکائیو شدہ 2020-04-27 بذریعہ وے بیک مشین


