ادریس ولی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مفتی محمد ادریس ولی  پسوال گجر 25 اپریل 1969 کو شنکیاری  مانسہرہ پاکستان کے مقام پر خان ولی مقدم کے گھر پیدا ہوئے ۔  رومئی  ہند میاں محمد بخش کھڑی شریف کے خاندان سے ہیں ۔ ہوش سنمبھالتے  ہی والد گرامی نے دینی تعلیم کے حصول کے لیے مسجد میں ڈال دیا اور مختلف مدارس دینیہ میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ بچپنے سے ہی دینی تعلیم کے حصول میں لگ گئے اور اس دوران ملک اور بیرون ملک کے اکابر علما کرام کی نہ صرف زیارت نصیب ہوئی بلکہ خدمت کے بھی مواقع میسر آئے ۔ مولانا قاری محمد طیب قاسمی مہتمم دارلعلوم دیوبند ، مولانا سید انظر شاہ کاشمیری ، مولانا غلام اللہ خان ، مولانا عبدالحکیم ،  مولانا عبد اللہ درخواستی ، مولانا  اجمل خان لاہوری ، مولانا اجمل خان قادری ، مولانا فضل الرحمن قائد جمیعت اور مولانا حقنواز جھنگوی مولانا ضیاء الرحمن فاروقی ، مولانا ایثار القاسمی ، مولانا ضیاء القاسمی ، مولانا عبد الحئی عابد  جیسے اکابر سے  بے شمار ملاقاتیں اور خدمت کے مواقع ملے ۔

ریاض یونیورسٹی سے سکالر شپ پر تعلیم حاصل کی اور دورہ حدیث شریف دار العلوم تعلیم القرآن راولپنڈی سے 1993 ء میں کیا اور 1996 سے تا حال محکمہ تعلیم صوبہ کے پی کے میں گریڈ 16 میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔

ہزارہ یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں ایم فل کے سکالر ہیں ۔ سوشل ورکر کی حیثیت سے ضلع بھر میں جانی پہچانی شخصیت کے مالک ہیں  ہر دلعزیز ہونے کے ناطے ہمہ وقت مصروفیت کی زندگی گزارتے ہیں ۔ گوجری زبان سے محب تکی بنا پر انہوں نے سیرت رسول مقبول ﷺ پر گوجری نثر کی پہلی کتاب لکھی ہےجو 500 صفحات پر مشتمل ہے ۔ دوسری جلد بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔ گوجری گرائمر پر بھی ایک رسالہ تحریرکیا ہے ۔ گوجری ادب سے شغف رکھنے کی بنا پر ملک و بیرون ملک سے لوگ ان سے استفادہ حاسل کرتے ہیں