ادیب پشاوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ادیب پشاوری
(فارسی میں: احمد ادیب پیشاوری خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Ahmad Adib Peshawari.png 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (فارسی میں: احمد بن شهاب‌الدین رضوی پیشاوری خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش سنہ 1844[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 جون 1930 (85–86 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش غزنی
کابل
مشہد
سبزوار
تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
بارکزئی خاندان
Tricolour Flag of Iran (1886).svg دولت علیہ ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
خاندان ایرانی سادات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  ادیب،  فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

ادیب پشاوری پاکستان کے ایک فارسی زبان شاعر تھے جن کا اصل نام سید احمد بن شہاب الدین رضوی تھا۔ وہ موجودہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے نزدیک سن 1844ء میں پیدا ہوئے اور اُن کے مطابق وہ مشہور صوفی بزرگ شہاب الدین عمر سہروردی (متوفی 1234ء) کی نسل میں سے تھے۔

ذاتی حالات[ترمیم]

نوجوانی کے دوران میں ان کے والد اور متعدد رشتے دار برطانویوں اور افغان قبائل کے مابین ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں مارے گئے۔ نتیجتاً، ادیب پہلے کابل اور پھر غزنی منتقل ہوئے جہاں اُنہوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ 1877ء میں وہ ایران ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے سبزوار میں واقع حاجی ملا ہادی سبزواری کے مدرسے میں شمولیت اختیار کی اور وہاں وہ فلسفے کے دروس میں حاضر ہوئے۔ بالآخر وہ تہران میں مقیم ہو گئے جہاں وہ اپنی وفات تک رہے۔

شاعری[ترمیم]

ادیب کی شاعرانہ تخلیق کم و بیش بیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ ان کی وفات کے تین سال بعد شائع ہونے والے انتخابِ کلام میں، جو زیادہ تر غزلوں اور قصیدوں پر مشتمل تھا، 4200 فارسی اور 370 عربی اشعار شامل ہیں۔ انہوں نے قیصرنامہ کے نام سے ایک طویل مثنوی بھی لکھی۔ اسے المانیہ کے بادشاہ قیصر ولہلم ثانی کے نام معنون کیا گیا ہے اور اس میں جنگِ عظیم اول میں المانیہ کے کردار کو سراہا گیا ہے۔ اگرچہ ادیب کا تعلق شعرا کی پرانی نسل سے تھا، لیکن انہوں نے اپنی شاعری میں کچھ جوان ہم عصروں کی طرح نئے معاشرتی و سیاسی خیالات کا اظہار کیا۔ اس طرح انہوں نے فارسی شاعری میں وطن پرور رجحانات لانے میں پیش قدمی کی۔ ان کی ادبی اہمیت ایک پیش رَو کے طور پر ہے، کیونکہ ان کے شاعری میں ایسے رجحانات کا ابتدائی خاکہ نظر آتا ہے جو بعد میں ایران کے آئینی انقلاب کے دور میں نمایاں ہو گئے تھے۔

آخری ایام[ترمیم]

ادیب نے اپنی زندگی کے آخری سال خاقانی شروانی، ناصر خسرو، سنائی غزنوی اور مثنویِ معنوی کے مطالعے اور تحقیق میں صرف کیے تھے۔ انہوں نے وفات سے پہلے ارادہ کیا تھا کہ وہ ابنِ سینا کی فلسفیانہ کتاب 'اشارات و تنبیہات' کو فارسی میں منتقل کریں گے، لیکن زندگی نے کتاب کے اتمام تک وفا نہ کی۔ بالآخر 30 جون 1930ء کو وہ انتقال کر گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا

  1. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/230996 — بنام: Adīb Pīshāvarī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017

بیرونی روابط[ترمیم]