اردو رسائل کے اشاریوں کی فہرست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کسی اخبار، رسالے یا کتابوں میں مذکور مضامین، شخصیات، مقامات، اسما، تبصرہ جات، اداریوں اور دیگر معلومات کو کسی مخصوص ترتیب جیسے الفبائی یا ابجدی، موضوع وار، سال یا ماہ وار یا مضمون نگاروں کے ناموں کے حساب سے مرتب شدہ فہرست کو اشاریہ کہا جاتا ہے۔ کتاب میں موجود انسانی ناموں، اہم مقامات اور بعض اوقات اہم موضوعات کا اشاریہ کتاب کے آخر میں ہی شائع کیا جانا اب عام ہے۔ اردو زبان کے بہت سے رسائل و جرائد جو شائع ہو رہے ہیں اور جو بند ہو چکے۔ ان کے اشاریے الگ سے کتابی صورت میں اور انہی رسائل یا کسی دوسرے رسالے میں ان کے اشاریے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ یہ فہرست صرف اردو زبان کے رسائل و جرائد کی زمانی فہرست ہے (یعنی جو رسالہ پہلے شائع ہونا شروع ہوا اس سال کو اولیت حاصل ہے)۔

فہرست[ترمیم]

انیسویں صدی[ترمیم]

  1. پہلا اشاریہ مندرجات تہذیب ا لا خلاق کے نام سے ڈاکٹر ضیاء الدین انصاری نے مرتب کیا، جو 1870ء تک کی اشاعتوں پر مشتمل ہے اس کی ترتیب عنوانات اور مصنفین کی الف بائی ترتیب پر ہے، جا بہ جا حواشی بھی فاضل مرتب نے لکھ کر اس سے استفادہ کو مزید آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔
  2. دوسرا اشاریہ جامعہ علی گڑھ سے رسالہ تہذیب ا لاخلاق کا توضیحی اشاریہ کے نام سے آفتاب عالم نے 1991ء میں 1870ء سے 1876ء تک کے شماروں کا ترییب دیا۔
  3. تیسرا اشاریہ فرح تبسم نے رسالہ تہذیب ا لاخلاق کا توضیحی اشاریہ کے نام سے 1997ء میں 1879ء سے 1894 ء تک کے شماروں پر ترتیب دیا۔ پہلے اشاریے کے علاوہ باقی دونوں اشاریے غیر مطبوعہ حالت میں ہیں۔[1]
  1. ڈاکٹر رضا بیدار نے معارف کا 1916ء سے 1970ء تک کا اشاریہ مرتب کر کے شائع کیا۔ اس اشاریہ کی تقدیم و ترتیب ثانی شائستہ خان نے انجام دی۔ اس کی ترتیب موضوعاتی ہے۔ ترتیب میں مندرجات کو 27 خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور ان کے عنوان دے دیے گئے ہیں ان کی مزید ذیلی تقسیم بھی ہوئی ہے مگر یہ سرخیوں کے ساتھ نہیں ہے۔ اشاریہ میں سب سے پہلے مقالہ کا عنوان ہے۔ پھر قوسین میں مصنفین کا نام پھر رسالہ کی جلد اور شمارہ کا حوالہ۔ مقالہ کا عنوان اگر خود توضیحی نہیں تو نیچے ایک لکیر دے کر اس کے بارے میں مختصر سی وضاحت کر دی گئی ہے۔ مصنف کا نام نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ اداریہ ہے یا مدیر ہی کا مقالہ۔ ماہ و سال اور صفحات کا اندراج نہیں کیا گیا ہے۔
  2. دوسرا اشاریہ محمد سہیل شفیق تاریخ اسلام کراچی یونیورسٹی نے مرتب کیا۔ اس میں 1916ء سے 2005ء تک کے مضامین کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ترتیب میں جولائی 1916ء سے جون 2005ء تک کے مقالات کے عنوانات اور مقالہ نگاروں کے نام زمانی ترتیب کے مطابق جلد، شمارہ اور ماہ و سال کے تعیین کے ساتھ اور پھر موضوعات کے لحاظ سے ان کا اندراج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اشاريۂ مصنفین ہے۔ یہ اشاریہ گذشتہ اشاریہ کے مقابلے زیادہ مبسوط ہے۔
  3. تیسرا اشاریہ ڈاکٹر جمشید احمد ندوی نے مرتب کیا ہے جو معارف کے 1916ء سے دسمبر 2011ء تک کے سبھی شماروں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ جلد اول با اعتبار مضامین ہے اس کی ضخامت 723 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس اشاریہ کو مضامین، مضمون نگار اور موضوعات کے عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا ہے اور ہر عنوان کے لیے ایک جلد مختص کی گئی ہے۔ پہلے دونوں اشاریوں کی بہ نسبت اس اشاریہ کو سائنسی اصولوں کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ مضمون، مضمون نگار، جلد، شمارہ، ماہ و سال اور صفحات سب چیزوں کا اندراج کیا گیا ہے۔[1]

بیسویں صدی[ترمیم]

1901ء تا 1950ء[ترمیم]

1951ء تا 2000ء[ترمیم]

  • سہ ماہی فکر و نظر، اسلام آباد، اس کی پہلی پندرہ جلدوں کا اشاریہ (جولائی 1963ء تا جون 1978ء) احمد خان نے مرتب کیا اور جلد 16 سے 30 (جولائی 1978ء تا جون 1993ء) کا اشاریہ، شیرنوروز خان نے مرتب کیا۔[2]
  • ماہنامہ محدث، لاہور اشاریہ 1970ء تا 2011ء[3]
  • سہ ماہی تحقیقات اسلامی، علی گڑھ (آغاز: 1982ء) 1982ء سے 2006ء تک کے 25 برسوں کا موضوعات اور مصنفین و مترجمین کے اعتبار سے اشاریہ پیش کیا گیا ہے۔[4]

اکیسویں صدی[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب غلام نبی کمار (11 ستمبر 2016ء). "اردو کے بعض اہم ادبی رسائل و جرائد کے اشاریوں کی وضاحت". تعمیر نیوز. اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2017. 
  2. اشاریہ فکر و نظر، شیرنوروز خان، ادارہ تحقیقات اسلام، اسلام آباد، 2001ء
  3. ماہنامہ محدث لاہور اشاریہ 1970 تا 2011 - ماہنامہ ’محدث‘ لاہور - رسائل و جرائد
  4. http://www.raziulislamnadvi.com/اشاریۂ-تحقیقات-اسلامی1982۔2006ئ/[مردہ ربط]

بیرونی روابط[ترمیم]